گھوڑے تیار رکھو!
18 مارچ 2018

کون نہیں جانتا کہ جدید جنگوں میں فضائیہ کا اہم کردار ہے اور میزائلوں اور ایٹمی دوڑ نے فضائیہ کی اہمیت بڑھا دی ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ دفاع کے ذمہ دار ادارے کو اس امر کا کامل ادراک ہے کہ علاقہ میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود پاکستان کو اپنی دفاعی ضروریات اور حربی تیاریوں میں کمی نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔
یہ امر عام پاکستانیوں کے لئے یقیناًاطمینان کا باعث ہے کہ افواج پاکستان نے آزمائش کے ہر مرحلے اور امتحان کے ہر میدان میں پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ بناء بریں عوامی حلقوں میں یہ احساس توانا تر اور قوی تر ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ 11ستمبر2001کے بعد کی تبدیل شدہ دنیا میں بعض تبدیلیوں کے حوالے سے بعض حلقوں میں تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان تحفظات سے بھی آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ وطن عزیز کے شہری اس پر نازاں ہیں کہ محدود وسائل ہونے کے باوجود پاکستان ائیر فورس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی فضائی سرحدوں کا دفاع انتہائی جگر داری ، بہادری ، شجاعت اور بسالت کے ساتھ کیا ہے۔1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے جوانوں نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ ایک ایسے ملک کی فضائیہ کے فضائی حربوں کو مفلوج کرنا جو حربی و عسکری سازو سامان، تکنیک، مہارت اور حساس آلات کی بالادستی کی بنا پر بزعم خویش یہ دعویٰ کرتا نہیں تھکتا کہ وہ پاکستان سے کوسوں آگے ہے، ہمارے شاہینو ں نے ہواؤں اور فضاؤں میں بہترین حربی اورفنی مہارت کے ساتھ جس طرح انہیں ناکوں چنے چبوائے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ 43سال گزر چکنے کے بعد بھی بھارتی فضائیہ کو پاکستانی سرحدوں کا رخ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جدید عسکری تقاضوں اور چیلنجوں کے پیش نظر ہم جدید علوم و فنون اور جدید فضائی آلات و سائل حاصل کرنے کے باب میں ادنیٰ قسم کے تغافل کا بھی مظاہرہ کریں۔
جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو ایک طرف وہ کشیدگی کم کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور دوسری جانب ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر پاکستانی احتجاج کے باوجود جارحانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ خطے میں امن قائم کرنے اور تناؤ کے ماحول کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بھارت اپنی عسکری تیاریوں اور اسلحے کی دوڑ کے منصوبوں کو بھی رول بیک کرے۔
بھارت کے جنگی جنون کا عالم یہ ہے کہ اس نے اکتوبر 2004کے آخر میں امریکہ کی فضائی اور بری افواج کے ساتھ ’’کیپ ہوپ‘‘ کے نام سے مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔ اس سلسلے میں باقاعدہ ٹائم ٹیبل تیار کیا گیا۔ بھارت نے اپنا چھاتہ بردار سکواڈرن اس میں شرکت کے لئے الاسکا بھیجا۔ اسی سال بھارت نے بحرالکاہل میں کوم کے امریکی علاقے میں امریکا کی فضائی اور بری افواج کے ساتھ مشقوں کا دوسرا دور کیا۔ان مشقوں میں بھارت کی تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ سطحی نمائندے بھی شریک ہوئے۔ بتایا گیا کہ یہ مشقیں دونوں ملکوں کی مجوزہ ایک سالہ طویل جنگی مشقیں ہونگی، جن میں ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے بھی حصہ لیں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ بھارت کو بحری نگرانی کرنے والے طیارے P3C، بھاری اور درمیانی وزن اٹھانے والے C-130 کی جدید اقسام اور F-16 طیارے فراہم کرنے کی بھی پیشکش کر چکا ہے جبکہ پاکستان کو F-16 طیاروں کی فراہمی کے حوالے سے امریکی حکومت کے ترجمان نے رپورٹنگ کی غلطی قرار دیا ہے اور وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کولن پاول نے صرف یہ کہا تھا کہ ’’امریکہ ہیلی کاپٹر اور نائٹ وژن گوگلز کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ ملکر کام کر رہاہے۔گویا پاکستان کو محض ہیلی کاپٹرو ں اور نائٹ وژن گوگلز ہی پر ٹرخایا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ ان حالات میں ہو رہا ہے جب کہ بھارت اپنی فضائیہ کو جدید تر بنانے کے لے اسرائیل سے فالکن اواکس طیارے خرید چکا تھا۔ بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ایس کرشنا سوامی واضح الفاظ میں کہہ چکے تھے کہ فالکن ائیر بورن سسٹم کا مقصدپاکستان کی میزائل برتری کو کم کرنا ہے۔ انہی دنوں عالمی نشریاتی اداروں پر اس قسم کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ’’ بھارت اور اسرئیل بھی مسلمانوں کے خلاف عسکری اور دفاعی اتحاد قائم کر رہے ہیں‘‘بھار ت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پر عالمی ذرائع ابلاغ گاہے ماہے شدید تشویش کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ یاد رہے کہ وہ بھار ت کو اینٹی میزائل آلات ، جدید راڈار اور رات کو دیکھنے والے آلات مدت سے فراہم کر رہا ہے۔
2003ء میں بھارت نے اسرائیل سے ایک ارب یورو کی دفاعی برآمدات خریدیں۔ کارگل جنگ کے دوان بھی بھارت نے ہنگامی طور پر اسرائیل سے بڑی تعدا د میں ہتھیار خریدے جو اسے فوری فراہم کئے گئے۔ حالانکہ یہ ہتھیار ، ہتھیار فراہم کرنے والے یہودی مڈل مینوں نے بھارت کو زیادہ قیمت پر فراہم کئے۔اس ضمن میں باراک میزائل شکن نظام بھی بھار ت نے اسرائیل ہی سے حاصل کیا۔ اربابِ خبر و نظر کے نزدیک یہ ایک’’ کھلا راز‘‘ہے کہ بھارت اسلحہ کی خریداری کے لحاظ سے دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھارت وہ واحد ملک ہے جس نے 1999-2000ء کے دوران اسلحہ کی خریداری پر 8ارب ڈالر خرچ کئے۔ بھارت اسرائیل کے علاوہ روس سے بھی اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری کر چکا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ وہ داخلی سطح پر سپر سانک اینٹی شپ ’’براہموس‘‘ میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کر چکاہے ۔ جو 440پاؤنڈ وزنی ہتھیار لے جا سکتا ہے۔ یہ میزائل بھارت اور روس نے مشترکہ طور پر تیار کیا۔ بھارت نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ترشول نظام کے 70ناکام تجربات کے بعد اپنے فرنٹ لائن جہازوں کے لئے 10مزید نظام خریدنے کا بھی عندیہ ظاہر کیا۔ اس تناظر میں دوستی ، بھائی چارے اور ایک دو سرے کو فیورٹ ملک قرار دینے کی زبانی جمع خرچ کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اپنے دفاعی نظام کی توانائی اور استحکام سے غافل ہو جائے۔ قرآن کریم کی نص قطعی ہے کہ دشمن سے مقابلے کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق بھرپور تیاری کرو۔


ای پیپر