کسان کیسے خوشحال ہوسکتا ہے
18 مارچ 2018


یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور دنیا کے دیگر زرعی ممالک کی طرح اس ملک کے معاشی نظام میں زراعت کی حیثیت بھی مسلمہ ہے ۔ ہماری قومی داخلی معیشت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک مقتدر طبقات زرعی شعبے پر مطلوب خصوصی توجہ مبذول کرتے ہوئے کسان دوست فلاحی اقدامات نہیں کرتے۔ معاشی پیداواری عوامل میں زمین ایک اہم عامل ہے ۔ زمین از خود ایک مجرد شے ہے ۔ جب تک اس پیدواری عامل سے پیداوار حاصل کرنے میں معاون بننے والے ہاتھوں کو مضبوط نہیں کیا جاتا ،انفرادی و اجتماعی سطح پر معیشت استحکام آشنا نہیں ہوتی۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جن کا شما ر زرعی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے ، اس منزل تک رسائی حاصل کرنے میں صرف اور صرف اس لئے کامیاب ہوئے ہیں کہ ان کے ارباب حکومت نے جہاں ایک طرف زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے خصوصی اقدامات کئے ،وہاں دوسری طرف زرعی محنت کشوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے لئے بھی مربوط اقدامات کئے۔ باوجود یکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بد قسمتی سے اربابِ حکومت نے زراعت کے شعبے کو ترقی دینے والے عوامل سے مجرمانہ چشم پوشی روا رکھی۔یہ ایک سنگین اور عظیم المیہ ہے ۔جس کا خمیازہ قوم اور ملک عشروں سے بھگت رہے ہیں۔ یہ اسی تساہل اور تغافل کا نتیجہ ہے کہ وہ ملک جس کی 76فیصد آبادی کے روز گارکا انحصار زراعت پر ہے ، 56سال گزرنے کے باوجود زرعی خود کفالت کی منزل سے ہمکنار ہونے سے قاصر رہا ہے ۔
اس حقیقت کو تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ اگر پاکستان کے اربابِ حل و عقد زرعی شعبے کو مستحکم کرنے کے لئے زرعی شعبے کی تنظیم نو کی طرف توجہ دیتے تو آج پاکستان کا شمار نہ صرف یہ کہ زرعی لحاظ سے دنیا کے خود کفیل ممالک میں ہوتا بلکہ اس کا شمار بین الاقوامی منڈی میں کئی قیمتی زرعی اجناس برآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں کیا جاتا۔ زرعی شعبے پر عدم توجہ در حقیقت دھرتی ماں سے بے وفائی کے مترادف ہے ۔ کاش! وطن عزیز کے مقتدر حکمران طبقات کو اس امر کا ادارک ہوتا اور وہ اپنی تمام ترتوانائیاں محض ’’حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ‘‘ اور’’ کرسیوں کے دفاع و استحکام‘‘ پر صرف کرنے کی بجائے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے مختص کر دیتے۔ پاکستان میں زرعی شعبے کو عدم ترقی اور عدم استحکام کا عارضہ لاحق ہونے کا ایک بنیادی سبب یہاں نو آبادیاتی دور کا مسلط کردہ غیر منصفانہ ، ظالمانہ استحصالی جاگیردارنہ نظام ہے ۔ اس استحصالی جاگیر دارانہ نظام کی وجہ سے زرعی محنت کش زرعی عمل پر مطلوبہ توجہ دینے سے احتراز و اجتناب برتتا ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جس کھیت سے دہقاں کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ وہاں خوشہ ہائے گندم لہلاتے نظر آئیں۔ پاکستانی زرعی محنت کشوں کا صدیوں کا تلخ تجربہ اور مشاہدہ انہیں یہ بتاتا ہے کہ محنت وہ کرتے ہیں، سرد و گرم موسموں کی چیرہ دستیاں وہ اپنے نا تواں جسموں پر سہتے ہیں اور خون پسینہ ایک کر کے جب وہ کوئی فصل پروان چڑھاتے ہیں تو فصل پر شباب آتے ہی استحصالی جاگیر دار، کی محنت پر شبخون مارنے کے لئے پہنچ جاتاہے۔ یہ منظر نامہ اس خطے کا زرعی محنت کش گزشتہ ڈیڑھ صدیوں سے کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا اور اس پر خون کے آنسو بہا رہا ہے ۔ جب تک جاگیر دارانہ استحصالی نظام کی مضبوط گرفت موجود ہے ، زرعی اصلاحات کے حوالے سے کئے جانے والے حکومتوں کے عبوری اقدامات، اشک شوئی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
وفاق کی چاروں اکائیوں کے صوبائی سربراہان تک میں سے ہر کوئی کئی بار اس امر کی یقین دہانی کروا چکا ہے کہ وہ وطن عزیز کے غریب کسانوں کی حالت زار بدلنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرے گا۔ ایک طرف وفاقی اور صوبائی اعلی سطحی حکمرانوں کے یہ نیک عزائم ہیں اور دوسری جانب زمینی حقائق جاگیردارنہ تسلط کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ پاکستان کی جملہ ترقی کی راہ میں یہ جاگیر دارانہ استحصالی نظام کوہ گراں کی حیثیت رکھتاہے۔ اسی نظام کی وجہ سے پاکستان کا76فیصد علاقہ بنیادی ترقیاتی سہولیات سے محروم ہے ۔ آج بھی وفاق کی چاروں اکائیوں کے دو دراز علاقوں میں ایسی بستیاں اور دیہات موجود ہیں، جن کے شہری پانی ، بجلی ، سڑک ، ہسپتال ، اسکول، عدالت اور دیگر لازمی بنیادی انسانی ضروریات سے کلی طور پر محروم ہیں۔اس محرومی نے در حقیقت وڈیرہ شاہی اور جاگیر داریت کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے لا شمار حضرات و خواتین مختلف ادوار میں اقتدار و اختیار کی بلند ترین شہ نشینوں پر براجمان رہے ہیں۔ ہر بڑے شہر میں ان کے عالیشان بنگلے ، محلات اور ولاز موجود ہیں۔ بڑے شہروں میں ان کی شاہانہ اور رئیسانہ جائیدادوں کے حجم میں اضافہ روز افزوں ہے جبکہ ان کی جاگیروں میں بسنے والے زرعی مزدوروں کی جھونپڑیاں قرونِ وسطیٰ کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ان جاگیرداروں کے اپنے بچے ایچی سنوں، بیکن ہاؤسوں ، گرائمرسکولوں ، آکسفورڈوں ، ہاورڈوں اور کیمبرجوں میں زیر تعلیم ہیں لیکن یہ اپنی ’’پشتینی ریاستوں ‘‘ میں ’’ٹاٹ اسکول‘‘ اور ’’لال اسکول‘‘ تک تعمیر کرنے کی اجازت دینے کی راہ میں ہزار رکاوٹیں حائل کرتے ہیں۔ ان جاگیر داروں کے علاقوں میں آج بھی دو کروڑ سے زائد اسکول جانے کی عمر کے قابل بچے بستے، کتاب، تختی، سلیٹ، پنسل اور چاک کے نام تک سے بھی آشنا نہیں ہیں۔ یہ وڈیرے اور جاگیر دار خود تو امپورٹڈ فرنچ منرل واٹر سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں جبکہ اپنی جاگیروں میں موجودبوسیدہ کنوؤں میں ’’لال دوائی‘‘ تک ڈالنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ ان کے گھروں کے ڈیپ فریزروں میں درآمدی معدنیاتی پانی کی بوتلیں اور صراحیاں قطار اند قطار موجود ہیں لیکن ان کی ’’رعایا‘‘ برہنہ پا میلوں پیدل چل کر ایسے بارانی جوہڑوں سے پانی کے چند گھونٹ اور قطرے حاصل کرتی ہیں ،جن کے ایک کنارے پر گدھے، گھوڑے، بھینسیں اور کتے پانی پی رہے ہوتے ہیں اور دوسرے کنارے ان کی رعیت کی ’’مظلوم‘‘ خواتین مٹی کے کٹوروں سے پانی بھرتی اور اپنی اوڑہنیوں کوچھنی بناکر’’ عمل تقطیر‘‘ میں مصروف نظر آتی ہیں۔ جہاں تک غریب کسانوں کی زندگیوں میں بہتری اور بہبود لانے کے لئے مطلوب عملی اقدامات کا تعلق ہے تو اس کی فہرست یقیناًانتہائی طویل ہے ۔ البتہ بنیادی ضرورت اس امر کی ہے کہ وڈیرہ شاہی اور جاگیر دارانہ نظام کو ایک فوری آرڈیننس کے ذریعے کلی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا جائے اور پارلیمنٹ سے اس کی بالاتفاق منظوری لی جائے۔


ای پیپر