تحلیل ِ نفسی کا عمل اور اس کی ضرورت
18 مارچ 2018

اگر ہمیں اپنے اداکیے لفظوں کی تصویریں بنانی پڑیں تو ہم میں سے بہت سے لوگ خاموش رہنا پسند کریں گے۔ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے الفاظ کی متشکل ہونے والی تصویریں کریہہ الشکل ہوں گی بلکہ اس لیے کہ ان کے لفظوں کے متنی اور معنوی مترادفات ان لفظوں کی درست شکل کاری نہ کر سکیں گے۔الفاظ ہمارے جذبوں اور احساسات کی تفہیم کرتے ہیں ۔گفتگو ایک زندہ سماج کی علامت ہے تاہم کسی ایک نکتے کی وضاحت کے لیے غیر ضروری طویل کلام مستحسن نہیں سمجھا جاتا۔ یوں بھی کلام سے خاموشی بدرجہا بہتر ہے کہ اس سے آپ کے بہت سے عیوب چھپے رہتے ہیں ۔بولنا یعنی گفتگو کرنا اس وقت نہایت ضروری ہو جاتا ہے جب آپ حل طلب مسائل اور اپنی نا آسودہ خواہشات اور ماضی کے صدمات کو فراموش کرنا چاہتے ہوں ۔ جو لوگ بہت بولتے ہیں وہ بہت کم سنتے ہیں اور کم سننے والوں کے پاس کہنے کو بھی کم ہوتا ہے لہٰذا وہ مباحث میں اپنا حصہ مختص کرنے کے لیے ارد گرد کے ماحول سے ناموجود کیفیات اور حوالوں کو گفتگو کا حصہ بناتے ہیں ۔ عام طور پر ایسے افراد کی گفتگو دوسروں کے بارے میں ہوتی ہے ، چونکہ دوسروں کے بارے میں ان کی معلومات درمیان میں پڑے فاصلے کی وجہ سے کم معلومات پرمبنی ہوتی ہیں اس لیے عموماً لوگ انہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں ۔دراصل یہ لوگ گفتگو کے محتاج ہوتے ہیں ۔نفسیاتی طور پر پریشان حال لوگوں کی دیگر وجوہات میں سے ایک سب سے بڑی وجہ باہمی گفتگو کی کمی ہے۔ ہم میں سے کوئی کیوں دوسرے سے گفتگو کرے گا؟
بات چیت کے پہلو دوسرا اصول اعتماد ہے ، پہلا اصول لفظ ہے۔ اگر آپ کو اپنے شریکِ گفتگو پر اعتماد نہیں تو آپ اس سے بات چیت کرنے سے احتراز برتیں گے اور جوں جوں یہ بے اعتباری بڑھتی جائے گی گفتگو کا دورانیہ مختصر سے مختصر ہوتا جائے گا جس کے نتیجے میں دونوں یا کسی ایک فریق کے ذہن میں لفظوں کا انبار لگ جائے گا اور فریق اس انبار کے نیچے کہیں دب جائے گا۔بے اعتمادی کو ختم کرنے کے لیے فروئڈین تحلیل ِ نفسی کے طریق میں مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے فریق یا مریض اپنے خوف کو لاشعور سے شعور میں لے آتا ہے۔ اسے فروئڈین اصطلاح میں Sublimation کہتے ہیں ۔ اسے آپ نمایاں کرنا یا ارفع بنا کر پیش کرنا کہہ لیں ۔ یعنی کسی دبے ہوئے مواد یا تصور کو ارفع بنا کر ایک معزز آدرش کی طرح بنا دیا جاتا ہے ۔ مریض کے خوف یا دبے ہوئے احساس کو ایسے ارفع کرکے پیش کیا جاتا ہے کہ مریض اپنی اسی کجی ، خامی اور عیب کو بہتر سمجھنا شروع کردیتا ہے اور پھر شعور میں لاکر اس کا سامنا کرلیتا ہے۔ عمومی طور پر ادبی یا بصری بیانیوں میں دکھ یا غربت کو متن کیا جاتا ہے تو حقیقت میں اسے نمایاں اور ارفع کرکے پیش کیا جاتا ہے اورجس کے نتیجے میں قارئین اور ناظرین دکھ اور غربت کو ایک ارفع ودیعت سمجھ کر شعوری سطح پر اس کا سامنا کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ ایک لحاظ سے ’’ترفع‘‘ سماجی اکائیوں میں عدم مزاحمت پیدا کرنے کا عمل ہوتا ہے ۔ لہٰذا جو متون آپ کے دکھوں اور ناآسودگی کے بارے میں ہوں یا بورژوا طبقے کے ایسے افرادجو پنج ستارہ ہوٹلوں میں غربت مکاؤ مہم کے لیے اجلاس کرتے ہیں ، یا وہ خواتین جو ٹی وی پر جنسی اشہتا بڑھانے والے لباس پہن کر خواتین کے حقوق اور تانیثیت کا نعرہ بلند کرتی نظر آتی ہیں سمجھ لیجیے کہ پرولتاریہ کے بارے میں ان کے جذبات خالص نہیں ہیں۔
یاد رہے ایک طریقۂ علاج ہے اور دوسرا اس ترفع کا بطور فلسفیانہ یا کلامی مرکز ہے۔عام طور پر سماجی مسائل کو رومان آور بنا کر پیش کرنا اوران کا حل پیش نہ کرنا ایک سیاسی چال ہوتی ہے۔ عام طور پر سیاسی جبر کے عہد میں سلطان راہی جیسے کردار تخلیق کیے جاتے ہیں جو بصری بیانیوں میں عوامی مزاحمت کو زائل کردیتے ہیں ۔ایسے ہی ایک اور تکنیک جسے فروئڈین اصطلاح میں ’’ یادداشت بر پردہ‘‘یا Screen Memory کہا جاتا ہے ایک معمولی اور بے ضرر تکنیک ہے، اس کا مقصد یادداشت سے اس مواد کو زائل کرنا جو اہم اور نمایاں ہوتا ہے۔ اس کی بہترین مثال فروئڈین سلپ ہے جسے فروئڈ Parapaxis یا ’’ خطا‘‘ کا نام دیتا ہے۔جس کی وجہ سے دبے ہوئے تصورات کو زبان ، قلم اور کچھ عملیات کی صورت میں اظہار کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک اور اصطلاح ’’ خواب کاری‘‘ یا ڈریم ورک کہلاتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے حقیقی واقعات اور خواہشات کو خواب کے مناظر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس میں انتقال یا نقل مکانی شامل ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک فرد کو دوسرے فرد کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے جس کا پہلے فرد سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہم صوتی ، ہم نامی یا ہم علامتی تبدیلی اور کثیفیت سے کچھ لوگ ، واقعات اور معنی خواب میں ایک منظر یا عکس میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔چنانچہ کردار ، حوصلہ افزائی کے عناصر اور واقعات کو خوابوں میں بڑے ہی ادبی اور ٹھوس انداز میں پیش کیا جاتا ہے نہ کہ تجریدی خیالات اور احساسات کی شکل میں ۔ خوابوں کی اہمیت انسانی زندگی میں اس بات سے عیاں ہے کہ دنیا کی شکل تبدیل کرنے میں خوابوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ ان خوابوں کی تعبیر کے حصول کے سلسلے میں انسانی سماجی اور عالمی منظر نامے کو بدل کر دکھ دیا۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا اور اس خواب کو اپنے اشعار میں( اگرچہ براہِ راست نہیں) لوگوں کے سامنے پیش کیا ، اگرچہ اقبالؒ کے ہاں کئی مقامات پر امت اور قومیت کے زمینی تصور اورصورت گری پر فکری تصادم پایا جاتا ہے ، تاہم اقبال تحریکِ پاکستان میں قائدِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے بعد دوسرا بڑا کردار تھے۔ اقبالؒ نے تصورِ آزادی کی خواب کاری کی اور ہندوستانی سماج کے سماجی اکائیوں کے لاشعور سے شعور میں تصورِ قومیت کو کھینچ کرلایا ، اقبال کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے تصورِ آزادی اور قومیت کو محض ’’ ترفع‘‘ کے طور پر پیش نہیں کیا یعنی ایک ایسے آئیڈیل کے طور پر جس کو بطورِ تبرک سمجھ کر مزاحمت کو حاشیے پر رکھ دیا جائے بلکہ انہوں نے اپنی پوزیشن کو خواب کاری کے ذریعے لوگوں کی فکری آسودگی کا حصہ بنایا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی آزادی یا مزاحمت کی تحریکیں چل رہی ہیں ان کے پیچھے اگر ایسے خواب کار عناصر موجود نہیں تو تحاریک کی کامیابی کا عنصر معدوم ہوجاتا ہے ۔ آج کل تیز دھار ڈور بنائی جارہی ہے جس نے کئی معصوم لوگوں کی جان لی ہے۔پوری ریاستی مشینری اپنی طاقت بسنت کے دنوں میں بچوں کو پتنگ بازی سے روکنے اور ان کی پکڑ دھکڑ پر لگادیتی ہے ، لیکن افسوس جہاں یہ ڈور بنتی ہے اس کا کھوج نہیں لگاتی یا لگا پاتی۔ حیرت اس بات کی ہے کہ خود کش حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی سہولت کار اور اس کے ساتھی پکڑے جاتے ہیں لیکن بسنت کے نام پر اس کھلی دہشت گردی کا ایک بھی سہولت کار نہیں پکڑا گیا ، ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہوئی جو ایسی خطرناک اشیا بنانے والوں کو عبرت ناک سزا دے۔لیکن افسوس ریاستی مشینری کی ترجیحات میں شاید عوام شامل نہیں ، تیز دھار ڈور سے مرنے والوں کی موت کو عنقریب ’’ ارفع ‘‘ بنا کر پیش کیا جائے گا اور معزز آدرش کی طرح لوگ اپنی جانیں دیتے رہیں گے جس طرح دہشت گردی کی جنگ میں دیتے رہے ہیں۔ اللہ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور مقتدر قوتوں کو ایفی شنٹ بنائے ۔ آمین اور آخر میں اپنا ایک شعر:
یار کتابیں کتنی جھوٹی ہوتی ہیں
ان میں کوئی اور زمانہ ہوتا ہے


ای پیپر