کارکردگی کا اعتراف
18 مارچ 2018 2018-03-18

جی تو چاہتا ہے دیگر کئی قلمکاروں کی طرح حکومتی کامیابیوں کا ذکر کروں جب ملکی منظر نامے پر نظر دوڑاتاہوں تو تلاشِ بسیار کے باوجود مجھے کہیں کسی شعبے میں کوئی کامیابی نظر نہیں آتی لیکن حکمران مسلسل اپنی کارگزرایوں کے قصے سنا رہے ہیں اور طنبورے بھی۔ شاہ سے زیادہ وفادار ہونے کاثبوت دیتے ہوئے تسلسل سے قصیدہ گوئی میں مصروف ہیں جیسے ملک بچانا ہے تو حکمران نہ بدلنا وگرنہ ترقی تنزلی میں بدل جائے گی اور خوشحالی کا سفر رُک جائے گا۔توانائی بحران حل کرنے کا راگ بھی زوروں پر ہے جس سے کانوں کے پردے پھٹ سکتے ہیں یہ کیسا ترقی کادور ہے چار برس میں ملکی برآمدات پانچ ارب ڈالرکم ہوئی ہیں،یہ کیسا خوشحالی کا سفر ہے جس کے دوران پینتیس ارب ڈالر قرضہ لینا پڑا ہے، توانائی بحران کم کرنے کا نتیجہ سات سو ارب گردشی قرضہ ہے جس کی ادائی کیسے ہوگی ؟کچھ معلوم نہیں۔ میرے علم کے مطابق ایسی ترقی، ایسی خوشحالی دنیا میں کسی حکمران نے اپنی عوام کو نہیں دی اور توانائی بحران کا ایسا حل شایدہی کسی حاکم کے ذہن میں آیا ہو۔ اب آپ ہی بتائیں حکومت کی کِس کامیابی کا ذکر کروں؟ جس سے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار طنبورے خوشی و راحت محسوس کریں۔
موجودہ حکومت کی پانچ سالہ مدت ابھی مکمل نہیں ہوئی بلکہ اقتدار کے دو تین ماہ باقی ہیں، بقیہ تین ماہ میں کس قسم کے گُل کھلائیں جائیں گے سوچ کر دل ڈرتا ہے۔ ایک حکومتی پرزہ فرماتا ہے پی آئی اے خریدنے والے کو سٹیل مِل مفت دی جائے گی، کیسی حکمت ہے اور کیسا منفرد تدبر !کامیابیوں کے قصے سناتے ہوئے ملک کے اثاثے مفت بانٹنے کا طرزِ عمل،بند پڑی سٹیل مِل کے آج بھی اثاثے محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ارب کے لگ بھگ ہیں مگر تاجرانہ فراخدلی کا اندازہ کریں آٹھ سے دس ارب مفت دینے کی پیشکش ۔یہ ملک کے خیرخواہ ہیں یا ملک دشمن ؟قیادت کے منصب پر فائز پست ذہنیت کے پست کردارلوگ۔اگر پی آئی اے کا بوجھ خزانے سے ختم کرنا مقصد ہے تو بھی کیایہ طریقہ مناسب ہے؟ پی آئی اے کی تباہی کے زمہ دار بھی تو موجودہ حکمران ہیں جنھوں نے سری لنکا سے انتہائی مہنگے کرائے پر جہاز لیے جس سے سری لنکا کی دیوالیہ کے قریب فضائی کمپنی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی لیکن پریمئر سروس کے نام پر ملکی ائر لائن کا کباڑہ کر دیا گیا اور ہاں اسی دور میں کروڑوں کا ملکیتی طیارہ چوری ہوا جس کی بابت مکمل تفصیلات مل جانے کے باوجود جرمنی سے واپسی نہیں ہوئی۔ جانے کون سا ملکی مفاد طیارہ واپس لانے میں رکاوٹ ہے یا کیا وجہ ہے کہ واپسی کاقدم اُٹھانے سے بااختیار لوگ ڈر رہے۔پی آئی اے کا انتہائی قیمتی جہاز چند لاکھ میں فروخت کرنے کا کارنامہ بھی اسی ترقی کے دور میں سرانجام پا یا ہے جب ذہانت کے ایسے شاندار مظاہر ے ہونگے تو کوئی اِدارہ کیسے ناکام نہیں ہوگا؟اب آپ ہی بتایئے اِس میں کون سا پہلوتعریف کا ہے ؟ اور کن الفاظ میں حاکمانِ وقت کی توصیف کی جائے؟
موجودہ حکمران جماعت کو صنعت کار اور تاجر دوست تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا جگہ جگہ آموختہ سنانے والی سرکار کا بھی صنعتی گھرانے سے تعلق ہے لیکن ووٹ کو عزت دینے کی بات کرنے والے صاحب نے اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں دو بار ایوانِ بالا جانا گوارانہیں کیا۔ آج کل تو بلوچ چیئرمین سینٹ بننے پر نا خوش ہیں اقتدار میں سو سے زائد غیر ملکی دورے کرنے کاریکارڈ بنایا۔ حیرانگی کی بات یہ کہ کسی دورے سے ملک کا کیا بھلا ہوا؟ آج تک معلوم نہیں ہوسکا اور تو اورسیر سپاٹے کے شوقین رہنما کو اگر کہیں سے دعوت ملنے میں تاخیر ہوئی توآذربائیجان اور مالدیپ جیسے ممالک کے دوروں پر نکل گئے مگر کولمبس مزاج حکمران نئی دنیا دریافت کرنے کے لیے سفر پر رہے۔ مالدیپ کا ایسے وقت دورہ کیا جب پانامہ کیس پرعدالتِ عظمٰی فیصلہ دینے والی تھی پھر بھی موصوف سنجیدہ نہ ہوئے اگر دلچسپی لیتے اور اپنی سچائی میں کوئی ثبوت پیش کرتے تو جگہ جگہ اقتدار سے معزولی کا نوحہ پڑھنے اور جوتے کھانے سے محفوظ رہتے ۔ایسی ذہانت اور طرزِ عمل کی کون داد دے گا تعریف سُننے کے خواہشمند ہی بتا دیں۔
توانائی بحران کم ضرور ہوا ہے مگر ختم نہیں ہوابلکہ ہنوز بحران موجود ہے۔ گزرے چار برسوں میں توانائی منصوبوں کے تھوک کے حساب سے سنگِ بنیاد رکھے گئے۔ کئی منصوبوں کا افتتاح بھی ہوا ہر سنگِ بنیاد رکھنے اور ہر منصوبے کا افتتاح کرنے کے بعد قوم کو یہی نوید سنائی جاتی رہی کہ اب ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ہیں جلد بجلی وافر ہوگی۔ شہباز شریف تو انڈیا کو فالتو بجلی دینے کی بڑھکیں لگاتے رہے۔ کوئلے کے بجلی گھر لگے، شمسی توانائی سے بحران ختم کرنے کے خواب دکھائے گئے، ہواسے توانائی بنانے کی باتیں ہوئیں اب جب اقتدار کا پانچواں برس اختتام کے قریب ہے تب پتہ چلا ہے کہ زیادہ تر منصوبے ہنوز ادھورے ہیں جو مکمل ہیں وہ بھی یا تو پوری پیداوار نہیں دے رہے یا پھربند پڑے ہیں۔ اب بھی توانائی کا دارومدار فرنس آئل پر ہے ایسے پلانٹس انتہائی مہنگی بجلی دیتے ہیں جن کی وجہ سے ایک طرف فرنس آئل کی خرید پر اربوں کا زرِمبادلہ ضائع ہوتا ہے دوسرامہنگی بجلی سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ مہنگا مال گاہک بھلا کیوں خریدے گا جب سستا دستیاب ہو؟ نتیجہ یہ ہے کہ صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور برآمدات میں دن بدن کمی واقع ہو رہی ہے فرنس آئل سے توانائی پر انحصار سے گردشی قرضہ سات سو ارب کی حد چھونے لگا ہے آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ایسی کارکردگی کی تعریف بنتی ہے؟
ویسے تو حکومت نے اپنی مدتِ اقتدار میں ہمیشہ کارکردگی کے دعوے کیے ہیں۔ موجودہ حکومت انتخابی اکھاڑے کی طرف جانے کے قریب ہے تو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ملک کی اقتصادی صورت حال سے پردہ اُٹھا دیا ہے رپورٹ میں بتایا ہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر ہیں 12.8ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ تین ماہ کی درآمدات سے زیادہ کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا مجھے بتائیں میں کِن الفاظ میں تعریف و توصیف کروں اور موجودہ صورت حال کے ذمہ دار اگر حکمران نہیں تو کِسے ٹھہراؤں؟قرضے مانگ کر ملک چلانے کی بنا پر بیرونی قرضے ملکی معیشت کا 70فیصد ہو گئے ہیں اور خسارہ کل قومی پیداوار کا 4.4فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چلیں پھر بھی آئیں مل کر حکومت کی تعریف کا کوئی پہلو تلاش کرتے ہیں اور اپوزیشن کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک و قوم کے مفاد میں حکمرانوں نے کیس شاندار کارکردگی کا مظاہر ہ کیا ہے جو تسلیم نہیں کرے گا، حکمرانوں کی طرح آپ اور ہم بھی اُسے وطن دشمن کا لقب دے کر مسترد کر دیں گے، کیا خیال ہے آپ کا ؟


ای پیپر