مفادات کے سیاسی کلچر کے چنگل میں پھڑپھڑاتے عوام
18 مارچ 2018 2018-03-18


ارض وطن میں ہر شخص حقوق کی بات کرتا ہے فرائض کی کوئی نہیں کرتا ارباب اختیار بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے سے گریزاں ہیںیہ فکری انتشار اور قومی شناخت کا ایسا مسئلہ ہے جس کا حل تلاش کرنے میں ہم من حیث القوم اب تک ناکام رہے ہیں۔ آج تک ملک کو ایسی قیادت نہیں ملی جو لوگوں کو ایک قوم بنا کر آگے لے جا سکے ملکی نظام حکومت کی خرابیاں اور قانون کی حکمرانی کا فقدان معاشرے میں پھیلی ہوئی بد عنوانیوں کی داستانیں خود گواہوں کی قطار میں کھڑی ہونے کو بیتاب نظر آتی ہیںیہ جاگتے ضمیر کی وہ عدالتی دلیل ہے جس کااظہار سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انو ر ظہیر جمالی نے بھی بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دیے گئے عشائیہ میں کیا تھا۔ قارئین کرام قوم کی منظم تشکیل کا نہ ہونا پاکستان کے وجود کیلئے کسی بھی المیہ سے کم نہیں اسکی بین وجہ قوم کو صحیح قیادت کا نہ ملنا ہے تاریخ کا یہ عجیب جبر ہے کہ بانی پاکستان نے جن رہنمااصولوں کا حوالہ دیا تھا اور خاص کر اپنی تقاریر میں جن دو تباہ کن چیزوں سے اجتناب کی تلقین کی تھی وہ اقربہ پروری اور بدعنوانی کا زہر تھا بد قسمتی سے یہ دو نوں چیزیں ہی ہم میں ایسی رچی بسیں کہ پاکستان کو اس خطرناک موڑ پر لے آئیں ۔بابائے قوم کی مستقبل بینی دیکھئے کہ ابھی مملکت خداد ایک نو زائیدہ ریاست کے طور پر پیروں پر کھڑے ہونے کی تیاری کر رہی تھی کہ مستقبل کے رکھوالوں کو خبردار کیا کہ کرپشن اور مامے چاچے،بھانجے بھتیجے کی سفارشوں سے گریز ہی حکومت اور معاشرتی نظام کے استحکام کی کامیاب کنجی ہے بدقسمتی سے قائد اعظم ؒ کا وصال ہوا ادھر سیاسی تاریخ کا جمہوری سفر الٹا شروع ہوگیا اور پھر کرپشن محلاتی سازشیں اورنام نہاد جمہور یت کی کہانیاں قوم کا مقدر بن گئیں مذید برآں قوم رہزن و رہبر کے د رمیان فرق کی صلاحیت سے ہی محروم ہوگئی سیاست آمریت و جمہوریت کا مذاق بنی رہی جبکہ ریاستی تشکیل کن جمہوری و آئینی بنیادوں پر ہونی چاہیے تھی اس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا شاید دنیا میں کچھ ہی ممالک ہوں جنہیں اتنے وسائل ملے ہوں عدلیہ ہو یا سیاسی پلیٹ فارم ملک کے لیے ہم نے ہی سب کچھ کرنا ہے دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہے کہ اگر ہم اپنے ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہیں تو باقی انگلیاں ہماری طرف اٹھتی ہیں۔ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمار و سائل سے مالا مال کر رکھا ہے لیکن بحیثیت قوم ہم نے آج تک اس ملک کو ایسی قیادت نہیں دی جو ہمیں متحد کرسکے دوسروں پر تنقید ہمارا قو می کلچر بن گیا ہے دوسروں پر تنقید کرنے والے اپنے اوپر بھی نظر ڈالیں یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اوائل میں بر صغیر کے مسلمان نہ صرف انگریزوں اور ہندوؤں کی امتیازی پالیسیوں اورنفرت کا شکار تھے بلکہ ان میں اتحاد و اتفاق کی بھی بے حد کمی تھی یہی وجہ ہے کہ انہیں نہ صرف سماجی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا بلکہ سیاسی حوالوں سے بھی صورت حال ان کے لیے قطعاً اطمینان بخش نہ تھی قائدا عظم محمد علی جناح ؒ نے اس ہجوم کو ایک قو م بنادیا جس کے بعد قیام پاکستان کا معجزہ رونما ہوا لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو ویسی لیڈر شپ نہیں ملی جو اسے بکھرنے اور پھر سے ہجوم بننے سے بچاتی نااہل سیاسی قیادت نے ملک و قوم کے سیاسی و معاشی معاملات پر منفی اثرات مرتب کیے رہی سہی کسر باربار نافذ ہوجانے والے مارشل لاؤں اور جمہور یت کے تسلسل میں متعدد بار تعطل نے پور ی کردی مجموعی طور پر ہمیں اب تک کوئی ایسی قیادت میسر نہ آسکی جو قوم کی مزید تربیت کرتی اسے مزید متحد کرتی نتیجہ یہ نکلا کہ قوم پھر سے ہجوم میں تبدیل ہوگئی ۔اگر عوام کو کوئی درد دل رکھنے ولا محب وطن رہنما مل جائے تو یہ ہجوم ایک بار پھر قوم میں بدل سکتا ہے اور کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتا ہے اس طرح اس ملک کیلئے ہر شعبے میں ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست اس قدر غالب آچکی ہے کہ باقی معاملات کہیں پس پشت چلے گئے ہیں ملکی خوشحالی کے لیے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جب تک سسٹم میں تبدیلی لاکرعوامی مسائل حل نہ کیے جائیں ملک ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔
حکمران بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے نعرے لگا کر تبدیلی اور عوامی خوشحالی کے دعوے کررہے ہیں لیکن صورت حال یہ ہے کہ عوام ابھی تک زندگی کے بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں عوام حکومت کو ٹیکس اس امید پر دیتے ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے لیکن حکمران عوام کو حالات کے رحم و کر م پر چھوڑ کر آمدہ سال کے نئے ٹیکس بڑھانے کی نویدسناتے رہتے ہیں جب تک یہ ٹیکس عوام کی زندگیوں میں تبدیلی نہیں لاتے تب تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ملک میں گڈگورننس موجود ہے دوسری جانب کشکول توڑنے کے دعوے دھرے کے دھر ے رہ گئے اور عالمی مالیاتی اداروں سے بڑے پیمانے پر قرضے لیے جارہے ہیں حکمران گڈ گورننس کے دعوے کرتے تھکتے نہیں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو نہ پولیس کے نظام میں تبدیلی لائی گئی اور نہ سرکاری اداروں کی کار کردگی بہتر ی نظر آئی۔ سرکاری اداروں کا یہ عالم ہے کہ عوام کے جائز کام بھی سالہا سال تک التوا کا شکار رہتے ہیں اور جب تک رشوت نہ دی جائے بات آگے نہیں بڑھتی کرپشن کایہ عالم ہے کہ سرکاری خزانے کو بے درد ی سے کرپشن کی نذر کیا جاتا ہے جبکہ اس ناسور کا سد باب کرنے والے ادارے خود اس شیطانی میں ملوث پائے جاتے ہیں ہر لیڈر اپنی سیاسی جماعت اور سیاسی ضرورتوں کی طرف دیکھتا ہے اسے قوم اور ملک کی کوئی فکر نہیں ہوتی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ وہ محب وطن نہیں یا ملک اور قوم کی ترقی اور بہبود نہیں چاہتے لیکن سیاسی مصلحتیں ان کا راستہ روکتی ہیں اور پھر اپناپناراگ الاپنے والا منظر نظر آنے لگتا ہے اور ملک یا قوم کے اجتماعی مفادات ذاتی ، نجی اور انفرادی مفادات کے ڈھیر میں کہیں نیچے دب جاتے ہیں ۔اس طرح ہماری سیاسی جماعتیں مزید سماجی تقسیم کا باعث بنتی ہیں اب تو صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جو سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں ملکی سطح کی سیاست کرتی تھیں او ر قومی جماعتیں کہلاتی تھیں اب صوبوں تک محدود ہوتی جارہی ہیں وہ صوبائی حکومتیں بناتی ہیں اور اپنا اقتدار وہیں برقرا ر رکھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کرتی رہتی ہیں جسے پاکستان کے مستقبل کیلئے کسی طور پر سود مند قرار نہیں دیا جاسکتا ۔


ای پیپر