نظرےۂ پاکستان۔۔۔میری روح میری جان
18 مارچ 2018



نظریات انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنا سفر شروع کردیتے ہیں۔ ابھی ٹھیک طریقے سے کھانا پینا‘ بولنا‘ اوڑھنا بھی نہیں سیکھ پاتا کہ معاشرہ پوری قوت کے ساتھ اپنے نظریات تھامے اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ اگر اسلامی نظرےۂ حیات کی بات کی جائے تو قرآن مجید اقوام عالم کی خصوصاً راہنمائی کرتا ہے کہ آگاہ رہو یہاں دو نظریاتی قوتیں‘ جماعتیں یا گروہ کار فرما ہیں۔ ایک جماعت گروہ یا نظریہ رحمن کا ہے اور دوسرا ابلیس یعنی شیطان لعین کا۔ انسانی معاشرہ کی تشکیل کے فوراً بعد یہ دونوں نظریات برسرپیکار ہیں۔ اسی طرح اگر برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے یہاں قریب ایک ہزار سال حکومت کی اور اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی غیر مساوی سلوک روا نہیں رکھا جبکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد یعنی گزرے 70سال کے عرصے میں ہندوؤں نے اقتدار کے نشے میں مست ہوکر مسلمانوں کوہر ایک شعبے میں ہدف بنا رکھا ہے۔ دو قومی نظریے کی حقانیت، صداقت، روشنی اور تابانی کو مزید واضح کرنے، پاکستانیوں کو آزاد وطن، آزادی کی اہمیت اور ہندو تسلط سے چھٹکارا پانے کی نعمتِ دیگر کو بار بار بیان کرنے کے لیے قراردادِ پاکستان کے پاسبان اور صوبائی دارالحکومت شہر لاہور میں درویش صفت وزیراعلیٰ پنجاب مرحوم غلام حیدر وائیں کی نگرانی اور جواں جذبوں کے حامل مرحوم مجید نظامی کی قیادت میں نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جس امنگ اور ولولے کے ساتھ تحریک پاکستان کے کارکنوں اور اکابرین نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا‘ انہی جذبوں کو تعمیر پاکستان میں بیدار رکھنے کے لیے مرحوم ڈاکٹر مجید نظامی نے ایک عشرہ قبل سالانہ سہ روزہ نظرےۂ پاکستان کانفرنس منعقد کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ اس سلسلے کی دسویں سالانہ نظرےۂ پاکستان کانفرنس گزشتہ دنوں ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان میں صوبائی حکومت کے تعاون کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے نامور شخصیات نے شرکت کی اور صوبہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر سمیت گلگت بلتستان سے آنے والے نمائندہ وفود کی کثیر تعداد سے پر مغز خطابات کیے۔ مذکورہ کانفرنس کا کلیدی موضوع ’’خود انحصاری۔۔۔نشانِ منزل‘‘ تھا۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے تحریک پاکستان کے مخلص کارکن اور نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمین رفیق تارڑاور نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے بھی خطاب کیا۔ دسویں سالانہ کانفرنس کی خاص بات صدر مملکت جناب ممنون حسین کی کانفرنس کے تیسرے روز شرکت کرنا تھی۔ اُنہوں نے اپنے خطاب میں نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کو اپنا دوسرا گھر اور نظرےۂ پاکستان کو اپنا سیاسی قبلہ قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیشے اور ذمہ داریوں سے مخلص ہوں۔ اگر چند لوگ بدعنوانی میں ملوث نہ ہوتے تو پاکستان کئی گنا تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کے سنگ ہائے میل عبور کرچکا ہوتا۔ کانفرنس میں تحریک پاکستان کے کارکنوں، صوبہ پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے نمائندہ وفود، طلباء و طالبات، نظرےۂ پاکستان فورمز کے عہدیداران، نظرےۂ پاکستان سوسائٹیز کے عہدیداران وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق اور خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے قومی وقار اور ملکی حمیت کا ثبوت دیا اور اس بات کا عہد کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جاکر اپنے دائرۂ کار میں نظرےۂ پاکستان اور دو قومی نظریہ کے ابلاغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔مقررین نے قومی یکجہتی کی علامت اس کانفرنس کے تسلسل کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ قوم کی دو قومی نظریہ سے وابستگی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کا ہر فرد تحریک پاکستان کے مقاصد کو سمجھے اور تعمیر پاکستان میں اپنی حیثیت میں ہر ممکن کردار ادا کرے۔ کانفرنس کے دوسرے دن گروہی مباحثوں میں تعلیمی، دفاعی، اقتصادی، انتہا پسندی، عوامی، سماجی، معاشرتی، بدعنوانی اور بھارتی مخاصمت و ثقافتی یلغار جیسے موضوعات کو عنوان بنا کر سیر حاصل بحث کی گئی۔ ان مباحثوں کی سفارشات مرتب کرکے اخبارات کو بھیجی گئیں۔ کانفرنس کے دوران مسئلہ کشمیر اور بلوچستان کے حوالے سے بھی سیشن مختص کیے گئے۔ ان نشستوں کے دوران مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی اہمیت بیان کی اور بھارتی مظالم کو خوب آشکار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی درندگی اور مذموم مسلح کارروائیاں جذبۂ ایمانی اور شوقِ شہادت کے آگے بند باندھنے سے قاصر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک نیا جوش وولولہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
سالانہ سہ روزہ نظرےۂ پاکستان کانفرنس قوم میں احساس تفاخر اور اجتماعی شعور بیدار رکھنے کے لیے صدائے وقت ہے۔ ایسے حالات میں کہ جب نام نہاد دانشواران سر شام اپنے ’’افکار عالیہ‘‘ سمیت ٹیلی ویژن کی سکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور اپنی ’’گل افشانیوں‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کو ذہنی تشکیک میں مبتلا کرنے کی سعئ لاحاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں نظرےۂ پاکستان کانفرنس کا قافلہ عزم بالجزم کے ساتھ جاری و ساری رہنا چاہیے۔ کانفرنس میں شریک مندوبین کا کہنا تھا کہ یکساں نصاب تعلیم اور قومی زبان کو ذریعہ تدریس بنانے کی منزل جلد از جلد حاصل کرنا ہوگی کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی کا مظہر اس کے پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد ہوتے ہیں۔ کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ خودانحصاری کا دوسرا مطلب خودمختاری ہے۔ اس لیے ہمیں مقامی صنعت و حرفت کو فروغ دینے کے ساتھ دفاعی لحاظ سے بھی خود کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ بھارت کا خطے کی سیاست میں بالادستی قائم کرنے کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہے۔ اس حوالے سے ہمیں ہمسایہ ممالک خصوصاً افغانستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس اِس عزم اور اُمید پر یقین کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ ہم بطور پاکستانی قومی وحدت ملی یکجہتی کو فروغ دے کر دشمن کے ہر وار کو ناکام بناتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے تصور کے مطابق وطن عزیز کو جدید، اسلامی، جمہوری، فلاحی اور دفاعی لحاظ سے ایک قلعہ بنا کر دم لیں گے۔


ای پیپر