دو جسم ایک جاں مگر کیسے۔۔۔؟؟؟
18 مارچ 2018

امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب دورۂ پاکستان مکمل کرکے سعودیہ جا چکے۔ دورہ کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان ملت اسلامیہ کے لئے ایک قوت ہے اور ہم اسے اپنا مضبوط ترین دوست سمجھتے ہیں، خطے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تمام امت کو متحد ہونا ہوگا، علم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا اور دنیا میں ہر چیلنج کا جواب علم سے ہی دیا جاسکتا ہے، مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کرنی چاہیے، اختلاف کا ہونا یا نظریہ مختلف ہونا ایک فطری عمل ہے مگر اختلاف رائے کا تشدد میں بدل جانا قابل مذمت ہے، ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کی اصل شکل پیش کرنا ہوگی،طاغوت سن لے! دین اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی اس لیے کہ دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے اٹھارکھا ہے،حرمین شریفین کے دفاع کے لیے حکومت اور پاکستانی عوام کا عزم اور محبت مثالی ہے،سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں،بے گناہ انسانیت کو ذبح کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان کی فوج اور قوم کی فرقہ وارانہ تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد قابل ستائش ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت کوئی قوت ختم نہیں کر سکتی،پاکستان اور سعودی عرب کی مثال دو بھائیوں اور ایک جسم جیسی ہے جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہمارا روح کا رشتہ ہے جس کی بنیاد کلمہ کی بنیاد پرہے۔ ایک اسلامی فوجی اتحاد سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل دیاگیا جس میں پاکستان اور سعودی عرب دونوں شامل ہیں، پاکستان امت مسلمہ کی حفاظت کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
امام کعبہ نے جو کہا وہ لوہے پر لکیر ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ سعودیہ نے پاکستان کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔ وہ چاہتا ہے اب بھی پاکستان اپنی افواج اس کی حفاظت کے لئے بھجوائے۔ سعودیہ کی جب بھی کوئی اعلٰی شخصیت پاکستان آتی ہے تو وہ دونوں ملکوں کو بھائی بھائی کی گردان الاپتی ہے حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں حج عمرہ پر جانے والوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ہر جگہ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے مثلاً جدہ اےئر پورٹ پر کاغذات کی جانچ پڑتال کیلئے جانے پر وہاں کوئی اہلکار موجود نہیں ملتا جبکہ کسی اور ملک کے شہری جائیں تو فورأانہیں کلےئر نس دے دی جاتی ہے۔ پاکستانیوں کو ذلیل وخوار کیا جاتاہے،سہولتوں کے نام پرلوٹ مار کی جاتی ہے جبکہ شکایت کیلئے کسی بھی جگہ پر کوئی کاؤنٹر نہیں بنایا گیا، نہ ہی اس سلسلے میں کوئی آگاہی دی جاتی ہے اس سارے معاملے میں ہم وطن ٹریول ایجنٹ بھی شامل ہوتے ہیں
بات یہیں ختم نہیں ہوتی زائرین کے ساتھ ہر جگہ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے،وی وی آئی ہوٹل دیگرملکوں کیلئے پہلے سے ہی بک ہوتے ہیں جبکہ ماٹھے ہوٹل خاص کر مدینہ میں ہم جیسوں کیلئے رکھے جاتے ہیں، اےئر پورٹ پرپاکستانیوں کے ساتھ سفری سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، بسوں والے کئی مرتبہ دو دو گھنٹے انتظار کرواتے ہیں،وہاں داد رسی کرنے کیلئے بھی نہ کوئی سعودی اہلکارہوتا ہے نہ پاکستانی، آگاہی کیلئے بھی کوئی اقدام نظر نہیں آتا کہ جس سے رہنمائی حاصل کی جا سکے، واپسی پربھی اسی کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی دس سے بارہ گھنٹے قبل ہی اےئرپورٹ چھوڑدیا جاتا ہے جس سے بزرگ افراد پریشانی کے عالم میں ذمہ داروں کو کوستے رہتے ہیں،بسیں بھی کھٹارا ہوتی ہیں جو چند گھنٹوں کا سفر کئی کئی گھنٹوں میں طے کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی داد رسی نہیں ہوتی نہ کوئی سننے والا ہوتا ہے،
بھائی بھائی کی کئی مثالیں اور بھی موجود ہیں کہ روزی روٹی کیلئے سعودیہ جانے والوں کو ’’ اقامہ ‘‘کے نام پر لوٹا جا رہا ہے،ہرسال تجدید کے نام پر ایک فرد سے تقریباً چار لاکھ وصول کیا جاتا ہے۔ اگرپاکستان سعودیہ بھائی بھائی ہیں تو پھر یہ ظلم ختم ہونا چاہیے،کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہرمشکل وقت میں پاکستان نے حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے ساتھ دیا۔ اس کے باوجودہمیں اپنی کالونی سمجھا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں۔اگر ہم بھائی بھائی ہیں تو امریکہ جاکر اسلحہ کے معاہدے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا پاکستان ایٹمی طاقت نہیں۔ کیا امریکہ کی اسلحہ ساز فیکٹریاں جو مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہیں ان کو سعودیہ ایرنی مخالفت میں مزید تقویت نہیں دے رہا، اگر یہی معاہدے بھائی پاکستان کے ساتھ کیے جاتے تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ مسلمان ملک مسلمان ملک کی اسی بہانے امداد کرتا اور اس کے دور رس نتائج بھی ملتے۔ لیکن ولی عہد سعودیہ تو امریکہ کی دوستی میں اندھا ہو چکا ہے،ٹرمپ کے پہلے دورۂ سعودیہ کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایران سے مخا لفت کی آڑ میں اسلحہ بیچا جائے۔ اس میں وہ بڑی حد تک نہیں حد سے زیادہ کامیاب ہو چکا ہے۔سعودیہ کو اس سلسلے میں ضرورسوچنا چاہیے تاکہ ہم بھائی بھائی کے لیبل کو گلے کا طوق نہیں گلے کا ہار بنا سکیں،پاکستانیوں کومسائل کے بارے میں بھی سعودیہ کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔


ای پیپر