جناب چیف جسٹس ،کیا آپ عوام میں سے نہیں؟
18 مارچ 2018 2018-03-18

پچھلی دفعہ بھی میں ملتجی تھا کہ ازخود نوٹس لے کر جناب چیف جسٹس پلاسٹک کی مصنوعات پر پابندی لگائیں، کیونکہ چند ہزار افراد کی خاطر 20کروڑ افراد کی صحت کو داﺅ پر لگانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
اگرترقی یافتہ ممالک مثلاً فرانس وغیرہ میں اس پر پابندی لگ سکتی ہے تو ہمارے نوزائیدہ کاروبار پہ کیوں نہیں لگ سکتی ؟
میں نے ذکر کیا تھا، سید جیلانی صاحب کے بارے میں کہ وہ اس وقت دنیا کے معمر ترین شخص تھے اور ان کی عمر اس وقت 151برس تھی ، میں نے لکھا تھا کہ انہوں نے میری ”نواسی“ کا نام ہدیٰ رکھا تھا، میں غلطی سے بھتیجی کی بجائے نواسی لکھ گیا تھا، اس وقت تو میری شادی بھی نہیں ہوئی تھی اور میں طالب علم تھا۔
بہرکیف پلاسٹک مصنوعات کا فضلہ جو سمندر میں پھینکا جاتا ہے، اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ دنیا بھر کے وہ ملک جن کا وجود ساحل سمندر پر ہے آئے دن ساحل کے کنارے پرندے سینکڑوں کی تعداد میں مرے پڑے ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ بھی محض یہی ہے کہ وہ پلاسٹک جو برادے کی شکل میں ہوتا ہے، کھالینے کی صورت میں مرجاتے ہیں۔
یہی حال سمندر کے اندر مچھلیوں کا ہے، حتیٰ کہ وہیل مچھلیاں بھی ہزاروں کی تعداد میں مرجاتی ہیں، کراچی، اور دریائے سندھ کے ساحلوں پر بڑی تعداد میں لوگ یہ نظارہ دُکھی دل سے کرچکے ہیں۔
سوڈے کی بوتلوں میں بھی ایسا زہر ہے کہ جو آہستہ آہستہ دبے پاﺅں انسانی جسم میں گھس کر اور سرایت کرتے کرتے ، پھر کینسرکا سبب بن جاتا ہے۔ آپ ذرا غور کریں، کچھ دہائیاں قبل کینسر یا ٹیومر کے بارے میں اللہ معاف کرے اتنا سننے یا دیکھنے میں نہیں آتا تھا، جتنا آج کل عام ہوتاجارہا ہے۔ امریکہ میں کی گئی تحقیقات کے مطابق ”مائیکروویو“ اور ایم آرآئی ، کے استعمال کو حتی المقدر استعمال کرنے سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے، آپ یہ سن کر شاید تعجب کا اظہار کریں گے، کہ وہاں جہاں جس ریاست یا شہر میں پلاسٹک کی کوئی انڈسٹری ہوتی ہے، وہاں سے کئی کلومیٹر پہلے، خبردار اور کراس کا نشان کرکے لکھا جاتا ہے، کہ آگے پلاسٹک ایریا ہے، گاڑی کا ریڈیو بھی بند کردیا جائے۔
کیونکہ Electrict Magnetedویوز جیسے Whyfiکمپیوٹر،ٹرانسفر جین تار لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ لہروں کے ذریعے ہی اپنا کام کرتی ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مضر صحت اشیاءہیں تو پھرانہیں بنایا کیوں گیا ہے؟ دراصل انسانی جبلت ہے کہ تن آسانی جس کو آپ ہڈحرامی بھی کہہ سکتے ہیں، حتیٰ کہ ہماری فلموں میں بھی اس کی عکاسی ہوتی ہے۔ ہماری پرانی فلموں کی اداکارہ انجمن، بعد میں تندرست وتوانا، صائمہ ، خوشبو اور ثنا جیسی ”جواں مرد“ خواتین بھی اگر ان کے بال الجھ جائیں، تو وہ گانے گاگا کر اور رقص کرکے کھیتوں کی مٹی اڑا کر آندھی کا سبب بن جاتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ
لٹ اُلجھی سُلجھا جارے بالم
میں نہ لگاﺅں گی ہاتھ رے !
قارئین محترم ، اس سے زیادہ آسان اور بہتر مثال آپ کو اور کیا دے سکتا ہوں کہ ترقی یافتہ ، اور ترقی پذیر ملک ہی میں پاکستان اور بھارت جیسے غریب ملکوں میں ایجادات کا سبب بھی یہی انسانی تن آسانی کو ضرورت میں بدل دینا ہے۔ حتیٰ کہ جنگ وجدل اور روایتی جنگ میں بھی جوہم تبدیلی عالمی سطح پر امریکہ سے لے کر روس تک دیکھ رہے ہیں، منجنیق سے شروع ہونے والا سفر جس کی ابتدا امیر تیمور نے کی تھی اور پہلی دفعہ بارود کا استعمال کرکے اس نے اس وقت کی عالمی طاقتوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا، وہ تواللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی کی رسی دراز نہیں کی، ورنہ وہ دنیا میں ایک آمر کی شخصی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ علامہ اقبال ؒ ہمت انساں اور جرا¿ت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :
یہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسمان
ہمت ہو پر کشا تو حقیقت میں کچھ نہیں
بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسمان
زیر پر آگیا تو یہی آسمان زمین !!
وہ طاقتیں جسے اس وقت کے آمر نے بھاگنے اور گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا تھا اس کے دنیا چھوڑ دینے کے بعد تحقیق وتجربوں کے بعد دست بدست لڑائیوں کی بجائے ہائیڈروجن تک جاپہنچے، یہ تن آسانی اور ہڈحرامی کی معراج ہے۔ میں عرض کررہا تھا کہ پلاسٹک کی مصنوعات کی بدولت 88لاکھ افراد اگلے جہاں چلے جاتے ہیں، ہسپتالوں کا آپ خود دورہ کرچکے ہیں، اور خود حالات دیکھ چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی بدقسمتی سے یہ شرح ایک لاکھ سے بڑھ کر 80ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ جب میں یہ سطر لکھنے لگا تو مجھے لاہور سے مس رابعہ قریشی کا فون آیا کہ خدا کے لیے ”سی پیک“ کی منصوبہ بندی اپنی جگہ، مگر خدارا چین کا پلاسٹک کا چاول پاکستان کی منڈیوں میں پہنچ چکا ہے، اس پر تو عوامی چیف جسٹس پابندی لگوائیں۔
دوسرا اُنہوں نے یہ اصرار کیا کہ ہسپتالوں میں جو خون کے بیگ ، پیشاب کے بیگ وغیرہ لگتے ہیں، ہسپتالوں کے انہی مضر صحت پلاسٹک کے بیگوں سے پلاسٹک کے برتن، اور ڈنر سیٹ بے تحاشہ بننے لگے ہیں، میڈیا ان کو بنتے اور خریدتے تو دکھادیتا ہے، مگر اس کے آگے کچھ نہیں ہوتا، اگر حکمرانوں کی مجبوری ہے، کہ پلاسٹک والے ہڑتال کرکے، ان کے ووٹ پر اثرانداز ہو جائیں گے مگر آپ کی تو کوئی مجبوری نہیں ہے، کروڑوں عوام آپ کو دعائیں دیں گے۔
بہرحال میں بات کررہا تھا، کہ پلاسٹک انڈسٹری کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے، ناروے وغیرہ کے ملک میںسڑکیں بن گئی ہیں ، جس میں سینکڑوں میل لمبی سڑکیں صرف پلاسٹک سے بنائی جارہی ہیں، اور اس میں خاص بات یہ ہے کہ اس سڑک پہ چلنے والی گاڑیوں کی بیٹریوں کو علیحدہ سے چارج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، اس سڑک پر گاڑی چلانے سے بیٹری خودبخود چارج ہو جاتی ہے۔
کل میں گھر میں کچن میں گیا، جہاں صبح صبح میں انڈے ڈھونڈ رہا تھا جس جگہ پر انڈے رکھے ہوتے ہیں وہاں میں بار بار گیا، لیکن مجھے انڈے نظر نہیں آئے، میں واپس لوٹنے ہی لگا تھا کہ اچانک میری نظر کاغذ کے خاکی لفافے پر پڑی، جو شیزان بیکری کا تھا، میں یہ سمجھا تھا کہ اس میں کیک پیسٹری یا کچھ اور بیکری کا سامان ہوگا، میں نے اسے کھول کر دیکھا تو اس میں انڈے تھے، میں حیران ہوکر اس کو الٹ پلٹ کرنے لگا، تاکہ اس کی مصنوعی کا اندازہ کرسکوں، مگر میں حیران رہ گیا کہ درجنوں انڈوں کا بوجھ وہ کاغذ کا تھیلا برداشت کررہا تھا۔ مگر ہم ان ”گندے انڈوں“ کے خلاف آتش فشاں بن کر انہیں مزید برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، مگر ہمیں اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہم کروڑوں میں ہونے کے باوجود وہ طاقت نہیں رکھتے، جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اکیلے آپ کو حکم کی طاقت بخشی ہے، عوام کی خاطر آپ اپنی اہلیہ محترمہ جن سے آپ نے بقیہ مدت ملازمت گھریلو مراسم محض واجبی کرلیے ہیں، ان سے ہماری اس درخواست پہ بے لاگ تبصرہ اور تجویز لیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نواسے، اور پوتے کی دولت سے مالا مال ہیں کہ نہیں، مگر ان لاکھوں معصوم بچوں کا خیال ضرور کریں کیونکہ مردبزرگ کے بارے میں اقبال ؒ فرماتے ہیں:
ان کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
ان کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق


ای پیپر