حکومت ،حزب اختلاف اور ملکی مسائل
18 جون 2020 (20:45) 2020-06-18

صرف نظر اس بات سے کہ حکومت کس کی ہے۔اس بات کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ گزشتہ حکومتوں سے موجودہ وفاقی سرکار کوورثے میں کیا ملا۔ماضی کی ان کہانیوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں حکومتوں نے کتنا قرض لے کر ملک کی معیشت کی کمرتوڑ دی ہے۔آج کی حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وزیر اعظم ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ ہیں۔ پارلیمان میں دوسری بڑی اور سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان خود ایوان سے باہر ہیں ،لیکن ان کے فرزند اسعد محمود قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔سراج الحق بھی انتخاب ہا رگئے تھے لیکن ان کا ایک نمائندہ مولانا عبدالاکبر چترالی نمائندگی کے لئے موجود ہے۔اسفندیار ولی بھی اسمبلی میں نہ پہنچ سکے ،مگر ان کا موقف ایوان میں رکھنے کے لئے حیدر ہوتی پارلیمان میں موجود ہے۔

12 جون کو وفاقی حکومت نے قومی بجٹ برائے مالی سال 2020-21 ء پیش کردیا ہے۔بجٹ کے دن ایوان میں جو شور شرابہ ہوا، وہ بجٹ کے دن پارلیمانی روایات کا ایک سیاہ باب ہے۔بجٹ کے دن ہنگامہ آرائی ایک معمول ہے۔ جو بھی سیاسی جماعت حزب اختلاف میں ہوتی ہے وہ بجٹ کے دن شور شرابے ،لڑائی جھگڑے اور ہنگامہ آرائی کو اپنا پارلیمانی حق سمجھتی ہے،لیکن جب وہ خود حکومت میں ہوتی ہے تو پھر دوسرے پارلیمانی جماعتوں سے پرامن رہنے کی امید کرتی ہے۔ حکومت اور حز ب اختلاف کو چاہئے کہ بجٹ کے دن پارلیمان کے تقدس کو پامال نہ کرنے کا عہد کر یں۔حزب اختلاف توجہ سے بجٹ تقریر سنیں۔بجٹ میں جو خامیاں اور کمزوریاں ہوں اس کو نوٹ کریں۔ پارلیمانی روایات یہی ہیں کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف اس پر بحث کا آغاز کر تے ہیں۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف بیماری کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔ان کی جگہ خواجہ آصف نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا۔انھوں نے جو کچھ کہا وہ براہ راست پوری قوم نے دیکھ اور سن لیا ہے،اس لئے اس کو یہاں نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔خواجہ آصف نے ایک ہی سانس میں پورے بجٹ کو مسترد کیااور پھر حکومت پر لعن طعن شروع کردی۔خواجہ آصف نے بجٹ کو کیوں مسترد کیا اس کی وضاحت انھوں نے تفصیل کے ساتھ دلائل اور اعداد وشمار پیش کر کے نہیں کیا۔جمہوری معاشروں میں پارلیمان کے اندر حزب اختلاف کی بنیادی ذمہ داری ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ حکومت کی کمزوریوں اور کوتا ہیوں پر نہ صرف نظر رکھیں بلکہ بروقت ان کو آگاہ بھی کریں۔لیکن خواجہ آصف نے حکومت کو محض ان کی ماضی یاد دلائی جب وہ حزب اختلاف میں تھے اور وزیر اعظم عمران خان

کو جی بھر کر طعنے بھی دئیے اور یہ سمجھ لیا کہ انھوں نے اپنا فرض ادا کردیا۔مگر افسوس کہ وہ حکومت کو کوئی متبادل نہ دے سکے۔ان کی تقریر بس ایک دھواں دار اور روایتی تقریر تھی جس میں ملک و قوم کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔جس میں وہ حکومت کو بتا دیتے کہ بجٹ میں ان سے کہاں کہاںپر غلطیاں ہو ئی ہے، اس لئے کہ بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بعد یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان نکات کو پارلیمان کے سامنے رکھتے جس کی بنیاد پر انھوں نے پورے مالی سال کا قومی بجٹ مسترد کیا ۔کل اگر خواجہ آصف کی جماعت حکومت میں ہو گی توموجود حکمران جماعت ان کے ساتھ حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے یہی رویہ اختیار کر یں گے،جوکہ کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ممکن ہے کہ محاذ آرائی کا یہ رویہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے ذاتی مفاد کے لئے ضروری ہو۔خواجہ آصف کے بعد وفاقی وزراء اسد عمر اور مراد سعید نے ایوان میں جو کچھ بھی کہا وہ اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت بھی ’’ ہم کسی سے کم نہیں‘‘ کے فلسفے پر عمل کر رہی ہے ، حالانکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمان کی کارروائی پرامن طریقے سے چلانے کی کوشش کریں لیکن تاریخ میں یہ واحد حکومت ہے کہ جس کے وزراء کی کوشش ہوتی ہے کہ حزب اختلاف مشتعل ہو اور پارلیمان کی کارروائی نہ چلے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں پارلیمان میں ملکی اور قومی مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ حزب اختلاف سے زیادہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمان کے اندر اشتعال کی بجائے ،کارروائی کو پرامن طریقے سے چلا نے کی کوشش کریں۔ دوسر ی طرف حزب اختلاف کا بھی فرض ہے کہ حکومت پر تنقید ضرور کریں ۔ ان کے کسی پالیسی کو رد کرنے کا ان کو اختیار بھی حا صل ہے ،لیکن ساتھ ہی ان کی ذمہ داری ہے کہ جب وہ حکومت کی کسی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں تو پھر اس کا قابل عمل متبادل بھی ایوان کے سامنے رکھے محض سیاسی اختلاف پر کسی بھی پالیسی کو مکمل طور پر رد کرنا ملکی اور قومی مفاد میں نہیں۔

ابھی چند ہفتے قبل حکومت نے سٹیل مل ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل مل چند برسوں سے بند ہے،لیکن نوہزار سے زائد ملازمین پھر بھی تنخواہیں لے رہے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سٹیل مل کی تباہی کی بنیادی وجہ گزشتہ ادوار میں سیاسی بھرتیاں ہیں۔ملازمین کی تعداد گنجائش سے کئی گناہ زیادہ ہے۔حزب اختلاف نے حکومت کے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے ۔ان کا حق ہے کہ وہ ایسا کریں ،لیکن ساتھ ہی ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو متبادل اور قابل عمل پالیسی بھی پیش کردیں۔محض اس بنیاد پر کہ اس فیصلے سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے ہر گزنیک نیتی نہیں۔یہی حال پی آئی اے کی ہے ۔چار ہزار ملازمین کی ضرورت ہے لیکن یہ ادارہ اٹھارہ ہزار ملازمین کو پال رہا ہے۔ پوسٹل سروسز ، ریلوے ،پاکستان ٹیلی ویژن ،ریڈیو پاکستان اور دیگربہت سے ادارے ایسے ہیں کہ حکومت وقت ان کے بارے میں فیصلے کرنا چاہتی ہے ،مگر افسوس کہ حزب اختلاف ہر دور میں ملازمین کی بے روزگاری کا بہانہ بنا کر حکومت کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر تی ہے جس کی وجہ سے یہ ادارے ملکی معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں۔گزشتہ دور میں جب حکومت نے سٹیل مل کے بارے میں فیصلہ کیا تو موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف نے ملازمین کی بے روزگاری کا بہانہ بنا کر حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا۔ حکومت اور حزب اختلاف کا فرض ہے کہ محض سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں بلکہ ملکی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں ۔ اگر حزب اختلاف کو حکومت کے کسی فیصلے یا پالیسی کے ساتھ اختلاف ہے تو محض ایک سانس میں اس کو مسترد نہ کریں بلکہ حکومت کو متبادل پالیسی بھی دیں۔اگر دونوں ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار تقریریں ہی کریں گے اور ایک دوسرے پرمحض الزامات لگائیں گے تو یہ ان کے لئے اور ملک و قوم کے لئے بھی زہر قاتل ہے۔


ای پیپر