بھارتی فوجیوں کی اشتعال انگیزی پر چین برہم
18 جون 2020 (20:44) 2020-06-18

لداخ میں بھارتی فوج نے چینی فوج پر حملہ کیا مگر یہ حملہ الٹا بھارت کو مہنگا پڑ گیا۔ چین نے جوابی حملہ کر کے ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک کر دیئے۔ بھارتی اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں چین اور بھارت کی فوجوں میں جھڑپ شروع ہو گئی۔ اس دوران بھارتی فوجی چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے جوانوں کے گھونسوں‘ ٹھڈوں‘ مکوں اور ڈنڈوں کا سامنا نہ کر سکے اور جانی نقصان اٹھا کر پسپائی اختیار کرگئے۔

شاہ محمود قریشی نے بھی اس جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔ بھارتی حکومتی اداروں کے مطابق بھارتی اور چینی افواج کے مابین لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر جھڑپیں گزشتہ رات ہوئیں۔ اس سلسلہ میں امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی۔ بھارتی فوج اس واقعہ پر مکمل خاموش ہے اور صرف یہ کہہ رہی ہے کہ وہ چین کے ساتھ تنائو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

بھارت طویل عرصہ سے چینی سرحد کے قریب لداخ کے علاقے میں غیر قانونی شاہراہ تعمیر کرنے کی کوشش میں ہے۔ چین سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارت کو کئی بار متنبہ کر چکا ہے مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس کے سبب سرحدی جھڑپوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان لداخ کے علاقے میں کئی ہفتوں سے سرحدی تناؤ جاری تھا او ر دونوں طرف سے افواج کے اضافی دستے بھی سرحد پر تعینات کردیے گئے تھے۔

بھارتی فوج کی جانب سے شرمندگی مٹانے کیلئے یہ بیان جاری کیا گیا کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی ہونے والے 17 مزید فوجی انتہائی اونچائی پر شدید ٹھنڈ کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے

ہلاک ہوگئے جس کے بعد مرنے والے فوجیوں کی تعداد 20 ہو گئی ۔ آخری مرتبہ اس سرحد پر 1975ء میں کشیدگی دیکھنے کو ملی تھی۔ اس وقت چین نے بھارتی فوج کے 4 اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے مابین لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر لڑائی کی اطلاعات پر ہمیں تشویش ہے۔ ہم دونوں ممالک پر زور دیتے ہیں کہ کشیدگی کی بجائے تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی بلکہ پتھراؤ کے ذریعے لڑائی میں بھارتی فوجی مارے گئے۔ دونوں فوجوں میں گزشتہ ماہ بھی اسی طرح سنگ باری کے واقعات پیش آئے تھے۔ بھارتی فوج سیدھے راستے پر آئے اور چینی فوج سے بات کرے۔

چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کی اس صورتحال میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ، مشیر قومی سلامتی اجیت ڈووال اور بھارتی فوج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف پین روات بھی دم بخود اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھارت چین سرحدی کشیدگی کا ہنگامہ برپا ہے۔ بھارتی میڈیا تازہ لڑائی کو کارگل سے تشبیہ دے رہی ہے۔ سینکڑوں مربع کلومیٹر بھارتی علاقہ پر چینی فوج قابض ہو گئی ہے مگر بھارتی قیادت بالکل خاموش ہے۔ یہی اگر پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعہ ہوتا تو بھارت نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کا اس لڑائی بارے کہنا ہے کہ بھارتی افواج نے دوروزقبل دو مرتبہ سرحد عبور کی اور چینی افواج پر حملہ کیا اور انہیں اشتعال دلایا جس کے بعد دونوں افواج کے درمیاں جھڑپیں ہوئی۔ بیجنگ نے دہلی سے اس معاملے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ہم اب بھی ہندوستان سے درخواست کرتے ہیں وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے اور سرحد پر موجود افواج کو روکے۔ سرحد عبور نہ کریں۔ اشتعال مت دلائیں اور کوئی ایسی یک طرفہ کارروائی نہ کریں جو کہ بارڈر کی صورت حال کو پیچیدہ کرے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت اس وقت ان تمام متنازع علاقوں پر اپنے دعووں کو مضبوط بنانا چاہتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ وہ اس کے علاقے ہیں حالانکہ درحقیقت یہ علاقے متنازع ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اکسائی چن میں بھارت کی سرگرمیاں دراصل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلق اس کی حالیہ سرگرمیوں کی کڑی کا حصہ ہیں، جن پر اس نے اپنے دعووں کو مستحکم کرنا شروع کردیا ہے۔ اور اس پہل کے تحت پچھلے دنوں مظفر آباد، گلگت بلتستان وغیرہ علاقوں کے موسم کی پیش گوئی نشر کرنا شروع کیا ہے۔

بھارت اور چین کی سرحددنیا کی طویل سرحدوں میں سے ایک ہے اور وہاں 1962 کی جنگ سمیت مختلف لڑائیاں ہوچکی ہیں۔دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ 2017 میں دونوں کے درمیان ڈوکلام میں ایک مہینے تک فوجی تعطل رہا تھا جب دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی تھیں۔

مقبوضہ کشمیر بارے پیدا شدہ صورتحال نے پاکستان چین تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔اس وقت چین جموں و کشمیر میں لداخ کے بھارتی سرحدی علاقوں کو کاٹنے کی کوشش سمیت بھارت پر براہ راست فوجی دباؤ بڑ ھا رہا ہے۔ لداخ میں چینی فوج کے بھارتی فورسز پر دھاوے مزید مستقل اور متواتر ہوگئے ہیں۔ چینی فوجیوں کی بھارتی فوجیوں کیساتھ کئی بار لڑائی اور ہاتھا پائی ہوئی ہے۔ بھارت دو نیوکلیئر ملکوں پاکستان اور چین میں منفرد انداز میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ دونوں ملک پاکستان اور چین ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر ی علاقے کے دعویدار ہیں۔


ای پیپر