بھارت چین جھڑپیں اور آزاد کشمیر کا دفاع
18 جون 2020 (13:49) 2020-06-18

بھارت اور چین کے درمیان لداخ کے سٹرٹیجک مقام گلوان پر ایک مرتبہ پھر آگ کے شعلے بھڑک اٹھے… منگل 16 جون کو اس سلسلے میں ہونے والی براہ راست چپقلش کے دوران بیس سے زائد بھارتی فوجی جن میں ایک کرنل بھی تھا مارے گئے سو سے زائد زخمی بتائے جاتے ہیں… میجر اور دیگر بڑے عہدوں کے مالک بھارتی افسر و سپاہی چین کی قید میں ہیں… بھارت کی جانب سے تادم تحریر کچھ نہیں بتایا گیا اس کے سورمائوں نے چین کی بہادر افواج کے کچھ سپاہیوں کا نقصان کیا یا نہیں… البتہ چینی ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق ان کا بھی نقصان ہوا ہے مگر کچھ مارے گئے یا نہیں یا کتنے زخمی ہوئے اس کی بابت نہیں بتایا گیا جس سے اندازہ ہوتا ہے بھارتی فوج اپنی چینی مدمقابل کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی… وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ وغیرہ اس ضمن میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ، بھارت کے جارحانہ جنگی منصوبے بنانے والے دفاعی دماغ اجیت دوول کو تو معلوم ہوتا ہے چپ سی لگ گئی ہے… بھارتی حکمران کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مذاکرات کے لئے تیار ہیں… دونوں ملکوں کے سینئر جرنیلوں کے درمیان یہ مذاکرات تقریباً دو ہفتے قبل بھی ہو چکے ہیں… ان کے نتیجے میں کسی واضح سمجھوتہ امن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا… چین الزام لگاتا ہے اور اس کے پاس واضح شواہد موجود ہیں جن سے بھارت انکار نہیں کر سکا کہ اس نے متنازع علاقے میں سڑک اور ہوائی مستقر تعمیر کر کے وادی گلوان (تبت) کی سرحد پر چین کے سکیورٹی اور حفاظتی دفاعی انتظام کو چیلنج کیا ہے… جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جا سکتا… اس سلسلے میں گزشتہ مہینوں کے دوران ملکوں کی سرحد پر متعین فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں بھارت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی… اسی دوران میں اس کا نسبتاً کہیں چھوٹی ہمسایہ اور (ہندو) پہاڑی ریاست نیپال کے ساتھ بھی سرحدی تنازع اٹھ کھڑا ہوا… بھارت مشترکہ سرحد کے متنازع علاقے میں تین سو میل لمبی سڑک تعمیر کرنا چاہتا ہے … نیپال والے اسے اپنی علاقائی حدود میں مداخلت اور خطرے کا باعث سمجھتا ہے… نیپالی حکومت نے بھارتی جارحانہ عزائم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے ایک نقشہ شائع کر دیا جس پر بھارت کی جانب سے سخت اعتراض کیا گیا… لیکن نیپال والے کسی بات کو خاطر میں نہ لائے… متنازع سرحدی چوکیوں کو اپنی ملکیت قرار دیا… بھارت اگرچہ اس چھوٹی سی ہمسایہ ریاست کا کچھ نہیں بگاڑ سکا مگر اس کی انا کو بہت ٹھیس پہنچ چکی تھی… اسے تسکین دینے اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی خاطر تین روز پہلے اس کے وزیر دفاع راج ناتھ نے اس مضمون کا بیان داغ ڈالا کہ آزاد کشمیر ان کے لئے لقمہ تر کا درجہ رکھتا ہے… کسی وقت بھی ہضم کر لیں گے… جواب میں پاکستان کی عسکری قیادت اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قوم بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار اور مستعد ہیں… اس نے میلی آنکھ سے دیکھا تو منہ توڑ جواب دیں گے…

اس کے ایک روز بعد پرسوں 16 جون کو تبت کی وادی گلوان پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی… بیس افسر اور جوان مارے گئے جس نے ایسا معلوم ہوتا ہے بھارتی حکومت اور اس کی دفاعی قیادت کے اوسان خطا کر کے رکھ دیئے ہیں… نئی دہلی سے ملنے والی خبروں سے مترشح ہوتا ہے کہ بھارت کے سٹرٹیجک ماہرین اور مودی حکومت کی فیصلہ ساز شخصیتوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ فوری طور پر کیا دفاعی یا فوجی حکمت عملی اختیار کریں جس سے دنیا اور اپنے عوام کے سامنے ان کا بھرم قائم رہ جائے… تاہم چین کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے بھارت لائن کراس نہ کرے… قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے اپنے وزیراعظم سے سرعام سوال کیا ہے وہ اس ہزیمت کا جواب دینے کے لئے کیا پالیسی اختیار کرنے والے ہیں… جواب آسان نہیں بھارت 1962ء کو انہی سرحدی علاقوں میں چین کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں بری طرح شکست سے دوچار

ہو چکا ہے… وہ اپنے آپ کو چین کے مدمقابل فوجی قوت تو سمجھتا ہے… دونوں ملک ایٹمی طاقتیں بھی ہیں لیکن 1962ء کی شکست فاش نے بھارتیوں کا منہ پھیر کر رکھ دیا تھا… کہا جاتا ہے وزیراعظم جواہر لعل نہرو اسی صدقے کی پاداش میں مرض الموت میں مبتلا ہو گئے تھے جو مئی 1964ء میں ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوا… اس جنگ کے لگائے گئے زخم مٹائے نہیں مٹ پا رہے لہٰذا بھارت اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے چین کے ساتھ چھیڑچھاڑ تو کرتا رہتا ہے… امریکہ کو بھی باور کرانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ وہ اس کے رقیب عوامی جمہوریہ چین کے مقابلے کی علاقائی طاقت ہے… لیکن عملاً اس کے ساتھ باقاعدہ جنگ کی ہمت مول نہیں لے سکتا اس کی راہ میں 1962ء کا تلخ تجربہ بھی حائل ہے… علاوہ ازیں جنگی قوت و طاقت کے لحاظ سے چین بھارت کے مقابلے میں ایٹمی اسلحے اور روایتی فوج اور جنگی سامان دونوں میں آگے ہے… بھارتی ان ارضی و حربی حقائق سے ناواقف نہیں ہیں لہٰذا بنیا پاکستان پر تو ہر وقت چڑھ دوڑنے کے لئے تیار اور مستعد رہتا ہے لیکن چین کے ساتھ عام درجے کی جھڑپوں سے آگے بڑھنے کی ہمت اور جرأت نہیں رکھتا… تاہم اسے چین کے بڑھتے ہوئے علاقائی، تجارتی اور سٹرٹیجک پھیلائو سے بھی سخت تشویش لاحق ہے… چین کے موجودہ صدر چن شی کا مشہور عالم سٹرٹیجک اور تجارتی منصوبہ ’’ون روڈ، ون بیلٹ‘‘ جس کے ایک اہم ترین حصے سی پیک کی تعمیر میں پاکستان باقاعدہ شراکت دار ہے، تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے… اس کے مکمل ہو جانے کی صورت میں چین اور اس کے اتحادیوں پاکستان اور نیپال وغیرہ یہاں تک کہ سری لنکا کو کہیں زیادہ علاقائی اہمیت حاصل ہو جائے گی… وہ بھارتی غلبے اور امریکی اثرات دونوں سے بڑی حد تک آزاد ہو جائیں گے… لہٰذا بھارت اور امریکہ ڈٹ کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں… لیکن چین والے پورے عزم و ارادہ کے ساتھ اور بڑی حکمت عملی کے ساتھ تمام رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیابی حاصل کرتے جا رہے ہیں… بھارت والوںکے لئے یہ امر سوہان روح بنا ہوا ہے… لہٰذا چین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور جہاں بس چلے متنازع سرحد پر (جیسا کہ موجودہ جنگی محاذتبت میں گلوان کی چوٹیاں) سڑکیں اور فوجی اڈے بنانے سے باز نہیں آتا… چین نے گزشتہ روز اسی کا منہ توڑ جواب دیا ہے… بھارت کو امریکہ سے توقع ہے وہ اس کی کھلی مدد کو آیا ہے… مگر اس کی جانب سے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلس کے رسمی بیان تشویش کے علاوہ سردست کچھ سامنے نہیں آیا… البتہ اپنے زخموں کو مندمل کرنے کی خاطر پاکستان کے ساتھ ہتھ جوڑی کے بارے میں سوچ سکتا ہے… یہ علیحدہ بات ہے چین اس پر خاموش نہیں بیٹھے گا…

اس سب کے باوجود نئی دہلی کے حکمرانوں کے پاکستان دشمن عزائم اور وزیراعظم مودی کی شخصیت ہندو نسل پرستی اور مسلم دشمنی میں ڈوبے ہوئے خیالات و جذبات، اس پر مستزاد انہوں نے آئینی طور پر مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی سیاست کھیلی ہے… اس کے پیش نظر موجودہ صورت حال معاملات کے حساس ترین نکتے کو چھوا چاہتی ہے… مودی اور اس کے ساتھی چین کا بدلہ پاکستان سے لینے کا جوا کھیل سکتے ہیں… لہٰذا ہمیں ضرورت سے زیادہ چوکنا، ہوشیار اور ہر حالت میں جنگ کے لئے تیار رہنا ہو گا… غالباً اسی سوچ اور جذبے کے تحت اسی روز یعنی منگل 16 جون کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت نے ’آئی ایس آئی‘ کے دفتر اسلام آباد میں غیرمعمولی اجلاس منعقد کیا… اس میں چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیف آف جنرل سٹاف نے شرکت کی… آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی… اجلاس کا آئی ایس آئی کے دفتر میں انعقاد اس لئے حیران کن تھا غالباً پہلی بار ایسا ہوا ہے… ورنہ اس طرح کے اہم تر اور نہایت حساس نوعیت کے اجلاس عام طور پر جائنٹ چیفس آف سٹاف کے سیکرٹریٹ میں منعقد ہوتے ہیں… یوں آئی ایس آئی کا ادارہ دشمن کی سرگرمیوں کی جاسوسی سے آگے بڑھ کر سٹرٹیجک فیصلے کرنے کے حوالے سے مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے… اجلاس میں سول حکومت کا کوئی اعلیٰ نمائندہ مثلاً وزیراعظم، وزیر دفاع یا وزیر خارجہ شریک نہ تھا… 17 جون کی سہ پہر جبکہ یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں اجلاس کی کارروائی اور اس کے اندر ہونے والے اہم فیصلوں سے وزیراعظم کو آگاہ نہیں کیا گیا… کیونکہ عمران خان کراچی اور لاڑکانہ کے دورے پر ہیں اور آرمی چیف جنرل باجوہ کی سردست ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی… شاید وزیراعظم کی اسلام آباد واپسی پر ہو جائے… کیونکہ معاملہ نہایت درجہ اہم ہے اور وزیراعظم کو عسکری قیادت کے فیصلوں کے بارے میں اعتماد میں لینا ازبس ضروری معلوم ہوتا ہے… وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد میں غیرموجودگی کے دوران ان کے حکومتی اتحاد کی اہم رکن جماعت بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے اتحاد توڑنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے… یوں حکمران جماعت کی پتلی ٹانگیں پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہیں… ایک دو مزید اراکین نے ساتھ چھوڑ دیا تو اس کے قدم لڑکھڑا جائیں گے… خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا جو بیچ مقطع کے آ گیا… آج کا اصل موضوع یہ ہے ہماری فیصلہ ساز قوتوں نے اپنے دفاع اور آزاد کشمیر کی سلامتی کے تحفظ کے لئے کیا فیصلے کئے ہیں اور کن کن عملی دفاعی اقدامات پر غور کیا ہے… 1962ء میں نیفاکی جنگ کے دوران جب بھارت آج کی مانند مشکل پوزیشن میں آ گیا تھا تو فیلڈ مارشل ایوب خان کو مشورہ دیا گیا بہترین موقع ہے حملہ کر کے کشمیر پر قبضہ کر لیا جائے… لیکن ہمارا پہلا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر غالباً امریکہ سے اشارہ پا کر ایسا کرنے سے گریزاں رہا… اس کے بعد کیا ہوا وہ تاریخ ہے… آج بھی بھارت کمزور ترین پوزیشن میں آ گیا ہے… ہم اس سے کیا فائدہ اٹھاتے ہیں… کیا ہمارے اندر نیپال جیسی ہمت اور ارادہ بھی نہیں کہ بھارت کے ساتھ جنگی لحاظ سے آنکھیں چار کر کے اسے اپنی کشمیر سٹرٹیجی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیں… یہ آنے والا وقت بتائے گا…


ای پیپر