کرونا بے حکمتی: سب ایک پیج پر ہیں
18 جون 2020 (13:49) 2020-06-18

جنرل ضیاء الحق کے دور میں پولیس کے ایک سپاہی کو غیبی طاقت سے روحانیت حاصل ہوگئی جو بعد میں پیر سپاہی کے نام سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا پیر سپاہی ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کیلئے ہوائی جہاز سے سفر کرتا تھا۔ وہ ہر بیماری اور ہر مشکل کیلئے دم کرکے پھونک مارتاتھااور مشکلیں آسان ہوجاتی تھیں اور مریض شفایاب ہوجاتے۔ شروع میں تو وہ انفرادی دم اور پھونک کا استعمال کرتا مگر آہستہ آہستہ معتقدین کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ممکن نہ رہا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ہر شہر میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا جاتا اور پیر سپاہی صاحب لائوڈ سپیکر میں پھونک مار دیتے جو سب تک پہنچ جاتی تھی۔ یہ one size fits all والی Herd immunuty تھی جو اجتماعی حل تھا۔ سارے مسائل کا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس بھی پیر سپاہی والا کوئی خفیہ نسخہ ہاتھ آگیا ہے جسے انسداد کرونا کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ آن گرائونڈ کچھ نظر نہیں آرہا۔

پرانے زمانے میں جنگ یا ایمرجنسی کے دوران حکومت کی طرف سے منفی خبریں پھیلانے والوں کو دشمن کا ایجنٹ کہہ کر پکڑ لیا جاتا تھا اور عوام سے کہا جاتا کہ اس طرح کی خبروں پر یقین نہ کریں لیکن اس وقت سب سے زیادہ منفی اور سنسنی خیز خبریں دشمن کے ایجنٹ نہیں بلکہ وہ لوگ فرما رہے ہیں جو حکومت کا حصہ ہیںوزاعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر عطاء الزحمن کاکہنا ہے کہ 10اگست تک اموات کی تعداد ایک لاکھ سے عبور کر جائے گی اور کھلبلی مچانا کہا ں کی دانشمندی ہے ۔ اب مشیر صحت محترم ظفر مرزا صاحب کے بیان پر غور کرتے ہیں جن کاکہنا ہے کہ اب ہم نے کرونا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے لہٰذا بہترہے کہ یہ سب کو ایک ایک دفعہ ہو جائے تاکہ اس کے بعد immunity مدافعت یقینی ہوجائے۔اب آپ بتائیں کہ ان دونوں ذمہ داروں جن کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہے کے بیانات پر ہم کیا تبصرہ کریں۔

احساس ذمہ داری اگر میزان ہے تواس میں اپوزیشن کا رویہ حکومت سے کسی طرح پیچھے نہیںبلکہ بعض دفعہ تو سوچنا پڑتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں کسی کو زیادہ مارکس دئیے جائیں۔شہباز شریف جس دن ضمانت کیلئے ہائی کورٹ میں اپنے پورے لائو لشکر کے ساتھ پیش ہونے جارہے تھے وہ منظر دیکھ کر ایک عام آدی کا شک یقین میں بدل جاتا ہے کہ کرونا کا کوئی وجود نہیں یہ واقعی ایک سازش ہے۔ ن لیگیوں کا طوفانوں سے ٹکرانے کا جذبہ دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے کرونا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ لیکن افسوس کہ کچھ ہی دن بعد شہباز شریف کرونا کا شکار ہوگئے اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی بھی اس بیماری کا نشانہ بن چکے ہیں۔یہ دونوں کرونا کیس Avoidableتھے۔

اب عوامی رویے کا جائزہ لیتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن WHO کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق اگر ہر شخص فیس ماسک استعمال کرلے تو اس سے انفیکشن کاخطرہ 85فیصد کم ہوجاتا ہے۔ اس میں فیس ماسک سماجی فاصلہ ہینڈواش جیسی بنیادی احتیاطیں شامل ہیں۔ دوسری طرف سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ شہروں میں لاک ڈائون کرنے سے کرونا کا پھیلائو 86فیصد تک روکا جاسکتا ہے۔اس سے ہم باآسانی نتیجہ اخذکرسکتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کیلئے یہ آپ کی اپنی

مرضی ہے کہ آپ ماسک پہن لیں یا لاک ڈائون کا استعمال کرلیں۔ لاک ڈائون کے اقتصادی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ اس سے کسی کو انکار نہیں مگر ماسک پہننے کاکیا نقصان ہے یاآپ ماسک کے بغیر گھر سے کیوں باہر نکلتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بہت پیچیدہ ہے۔ ابھی تک بھی شہری آبادیوں کا بڑا حصہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ کروناایک سازش ہے اور ہسپتاتوں میں ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں کیونکہ ہر ڈیتھ کے بدلے باہر سے پیسے ملتے ہیں۔ یہ بے بنیاد پروپیگنڈا اتنے تو اتر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی اس کا شکار ہوچکے ہیں۔

یہ سمجھنے کی بات ہے کہ کرونا ایک حقیقت ہے اور جان کی حفاظت ہر انسان پر فرض ہے۔ اس وقت حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس سے کیسے بچایا جائے۔اس بات پر متفق ہیں کہ 2020 میں حالات جوں توں رہیں گے لہٰذا اس میں اپنے پیاروں کو بچائے رکھیں یہی کامیابی ہے۔ انڈیا کے ایک بہت بڑے بزنس ٹائی کون نے کہا کہ 2020کا سب سے بڑا پرافٹ یہی ہے کہ آپ اپنی جان بچائیں۔

اب دنیا آہستہ آہستہ یہ سمجھ رہی ہے کہ کرونا سے بچائو ضروری ہے بلکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو ہونا ہی ہے جوجو صحت یاب ہوتا جارہا وہ آئندہ کیلئے اس سے نہ صرف محفوظ ہوجا تا ہے بلکہ اس کے خون میں قوت مدافعت کی سطح اتنی تسلی بخش ہوتی ہے کہ اس کا پلازما کم ازکم 2انسانوں کی جان بچا سکتا ہے۔

مگر یہ افسوسناک ترین حقیقت ہے کہ پاکستان میں پلازما عطیہ کرنے کو کاروبار بناد یا گیا ہے اور صحت یاب ہونے والے اپنا پلازما فروخت کرنے کی بھاری قیمت ڈیمانڈ کر رہے ہیں جو 2 لاکھ سے 10 لاکھ تک ہے۔ یہ رجحان دنیا کے کسی اور ملک میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ جو لوگ کرونا سے صحت یاب ہوئے ہیں گویا وہ موت کے منہ سے زندہ بچ نکلے ہیں اور اللہ نے نہیں نئی زندگی عطا کی ہے بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور مزید زندگیاں بچانے کے لیے پلازما donate کریں انہوں نے اس کو کاروبار بنا لیا ہے۔ اس پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔ دوسری طرف پرائیویٹ ہسپتالوں میں چار گنا قیمت پر کرونا ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ایک دن کا کمرے کا کرایہ ایک لاکھ لیا جا رہا ہے۔ کرونا ٹیسٹ کٹ کی امپورٹ پرائس 2100 روپے جو صرف ایک ٹیسٹ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے 3000 روپے میں کرونا ٹیسٹ کرنا شروع کیا مگر اب ان کے پاس کٹ کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔ شوکت خانم میں یہی ٹیسٹ 9200 روپے میں ہو رہا ہے۔ آغا خان کراچی میں کم و بیش یہی ریٹ ہے۔ حکومت ناجائز منافع خوری روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ حکومت پیر سپاہی والی پھونکوں، اور ڈاکٹر عطا الرحمن کی قیامت خیز پیش گوئیوں کے ذریعے کرونا کنٹرول میں سرگرداں ہے۔


ای پیپر