بکھرتا سماج
18 جون 2020 (13:48) 2020-06-18

کالم کا عنوان معروف دانشور فرخ سہیل گوئندی سے مستعار لیا ہے۔ سماج کی ابتری پر ان کے کالموں کے مجموعے کا عنوان ’’ بکھرتا سماج‘‘ ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں ہر روز مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس ضمن میں عوام کی بے باکی اور حکومت کی بدانتظامی دونوںعروج پر ہیں۔ حزبِ اختلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کوس رہی ہیں اور وہ جماعتیں جو مرکز میں اتحادی ہیں اور سندھ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہ وفاقی حکومت کے اقدامات کی تائید اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر شور ، کررہی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں حسبِ روایت کوئی پُرسانِ حال نہیں اور نجی اسپتالوں کی لوٹ مار پر کوئی سوال اُٹھانے والا نہیں۔ پاکستان میں مہنگا ترین علاج کینسر اور دل کے مرض کا ہے، لیکن ہمارے نجی اسپتال کرونا کے لاعلاج مرض کے لیے بھی مریضوں سے لاکھوں روپے پیشگی وصول کررہے ہیں ، جس پر ان اسپتالوں سے باز پُرس کے لیے حکومت نے ابھی تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا ہے۔اس تمام صورتحال میں میڈیا کا کردار بھی مئے دو آتشہ سے کم نہیں ، کوڈ 19 سے متاثر اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی سلائیڈیں مسلسل ٹی وی اسکرینوں پرچل رہی ہیں جب کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد اور خبر تقریباََ نہ ہونے کے برابر نشر کی جاتی ہے۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ جس کے توسط سے کرونا کے مرض سے شفا پانے والے افراد اپنے تجربات اور اختیار کی جانے والی احتیاطیں عوام الناس کی آگاہی کے لئے پھیلا رہے ہیں اور لوگ فائدہ بھی اُٹھا رہے ہیں۔ اس میں بھی دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو مرض سے متاثر ہوئے اور صحت یاب ہوئے خلوصِ دل کے ساتھ دوسروں کی صحت یابی کے لیے تڑپ رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو وبا کے اس موسم میں بھی اپنے یوٹیوب چینل کے دیکھنے والوں کی تعداد میںاضافے کے لیے بے چین ہیں۔ ایسے میںنسیمِ صبح کا انتظار طویل تر ہوتا جائے تو اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ سماجی زوال کے پیش آنے والے چند تجربات میں اس تحریرکے ذریعے آپ کو شریک کرنا چاہوں گا۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کتابوں کی ایک بہت بڑی دوکان ہے۔ چند ماہ قبل میں دوکان سے نکلا تو پارکنگ میں ایک صاحب ہاتھوں میں دو تھیلے لیے کھڑے تھے اور لگ رہا تھا کہ وزن زیادہ ہے اور ان

کے لیے اُٹھانا مشکل ہورہا ہے اور وہ کسی سواری کا انتظار کررہے ہیں۔ میں جیسے ہی اپنی گاڑی کے پاس پہنچا وہ صاحب میرے پاس آگئے اورکہنے لگے کہ یہ قرآن کریم کے نسخے ہیں اور میں یہ ثواب کی خاطر مفت تقسیم کررہا ہوں اور بس یہ دو نسخے رہ گئے ہیں۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے معذرت کرلی اور ان سے درخواست کی کہ یہ آپ کسی اور کو دے دیں میرے گھر کے کتب خانے میں قرآن حکیم کے بے شمار نسخے اور تفاسیر موجود ہیں۔ لیکن ان صاحب کا اصرار ضِد کی حدوں کو چھونے لگا تو مجبوراََ وہ دو نسخے ان سے لے لیے۔نسخے دینے کے بعد مجھ سے گویا ہوئے کہ میں پرائیوٹ ٹیکسی چلاتا تھا لیکن کریم اور اُبر کے بعدمیراکام ٹھپ ہوگیا ہے اور بہت پریشان ہوں۔ میں نے حسبِ توفیق کچھ رقم ان کی خدمت میں پیش کردی تو رقم وصول کرنے میں پھر فرمانے لگے کہ ان نسخوں کی قیمت اتنی تو نہیں جو آپ نے دی ہے یہ اس سے زیادہ کے ہیں۔ میں نے دونوں نسخے ان کے انھی ہاتھوں میں تھمائے جن میں پیسے تھے اور اپنی راہ لی۔

تقریباََ بیس سال قبل لاہور میں ایک صاحب سے ملنے گیا جو ایلوپیتھی کی دوائوں کا کاروبارکرتے تھے اور کچھ عرصہ پہلے تک ایک مذہبی پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے۔ان سے ملاقات کے وقت میرے ہاتھوں میں ڈاکٹر الطاف جاوید مرحوم کی کتاب ’’سوویت یونین کا زوال اور اسلام‘‘،شیر جنگ صاحب کی ’’کارل مارکس اور اس کی تعلیمات‘‘ اور علی عباس جلالپوری کی ’’فکری مغالطیــ‘‘ تھی۔ کچھ باتیں کرنے کے بعد کتابیں دیکھتے ہوئے بولے کہ آپ مارکس کے بارے میں پڑھتے ہیں اور کس نے یہ کتابیں تجویز کی ہیں ؟ اور ساتھ ہی مارکس کی فکر پر تنقید شروع کردی جس میں علمی دلائل کم اور سرمایہ دارانہ تعصب زیادہ تھا۔ میں نے بتایا کہ ڈاکٹر الطاف جاوید صاحب نے۔ او ہو!، آپ ان سے ملتے ہیں؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کا شرف حاصل ہے اور بہت سچے نیک اور اپنے نظریات سے مخلص شخصیت ہیں۔تو فرمانے لگے ہاں ہیں تو نیک لیکن کیمونسٹ ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ کارل مارکس کی فکر کے اس حصے جو سرمایہ داری نظام کے استحصال سے متعلق ہے سے تو وہ متفق ہیں لیکن مارکس کے مذہبی نظریات سے وہ اتفاق نہیں کرتے اور ان کی کتاب سوویت یونین کا زوال اور اسلام آپ کی غلط فہمی دور کردے گی۔اسی دوران ان کے دفتر ایک فرد دوائوں کی فروخت کا بل لے کر آیا جس پر ان کے دست خط درکار تھے۔ پہلے انہوں نے اپنے ملازم کو کہا کہ انوئس دینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن جب انھیں میری موجودگی کا احساس ہوا تو کہا کہ ’’اگر وہ انوائس مانگیں تو پھر دے دینا‘‘۔

اسی طرح اسلام آباد میں ایک صاحب سے ملنے گیا وہ کاروباری لحاظ سے تعمیراتی صنعت سے منسلک تھے۔ ملاقات کے ابتدائی نصف گھنٹے تو موصوف زرداری، نواز شریف اور مذہبی جماعتوں کے خلاف بولتے رہے اور ان کے ’’مکر و فریب‘‘ کی داستانیں سناتے رہے۔ لیکن جب ان سے کاروباری معاملات طے پا گئے تو فرمانے لگے کہ مجھے بغیر انوائس کے سیمنٹ چاہیئے۔

یہ وہ چند مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مذہب کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں سماج کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری اہل مذہب کی ہے۔ مذہب جو کہ ایک سنجیدہ ترین موضوع ہے، دلیل اور تزکیہ نفس جو اس کے بنیادی جواہر ہیں ، آج وہ ہدایت کی بجائے عصبیت کا رُخ اختیار کرتا جارہا ہے، اور اسی تناسب سے سماج کی پراگندگی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ فرقہ وارانہ عصبیت کے پھیلائو نے مذہب کی آفاقیت اور عالمگیریت کو حد درجہ نقصان پہنچایا ہے۔ حال یہ ہوتا جارہا ہے کہ کم علم متکلمین نے مذہب کو بھی ٹھٹھا مذاق بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے بے شمار کلپ ہیں جن میں ’’یہ تو ہوگا‘‘ اور ’’میں تو نہیں بتائوں گا‘‘ کے جملوں سے نہ جانے کون کون سی کہانیاں مذہب کے نام پر سنائی جا رہی ہیں۔ میڈیا جسے دعویٰ ذمہ داری کا ہے لیکن ریٹنگ کے بخار میں اس قدر مبتلا ہے کہ اپنے مذہبی پروگراموں میں بھی سنجیدہ علماء کی بجائے شو بز کی شخصیات کو ترجیح دیتا ہے۔ ہمارے سامنے ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ شوبز سے مستقل یا وقتی طور پر کنارہ کشی اختیارکرنے والوں نے بھی مذہب ہی کو تختہ مشق بنایا ہے اور میڈیا میں ان علماء پر ترجیح پائی ہے جن کی عمر ہی اس دشت کی سیاحی میں گذری ہے۔

سماج کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ سنجیدہ علماء اور سماجی سائنسدان اپنا کردار ادا کریں اور دنیاوی معاملات میں مذہبی تعلیمات کے اطلاق کا درس دیں۔ورنہ اخلاقی طور پر بگڑا سماج فکری طور پر بھی مزید بگڑا تو پھر ذمہ دار کون ہوگا؟


ای پیپر