کورونائی میزانیہ برائے ملازمین
18 جون 2020 (13:41) 2020-06-18

12 جون 2020ء کو حکومت ِ پاکستان نے ٹیکس فری وفاقی میزانیہ (فیڈرل بجٹ) برائے مالی سال 2020-21 پیش کر دیا ۔ وفاقی میزانیہ کا کُل حجم 71 کھرب37 ارب ہے، جس میں 3437 ارب روپے کا خسارہ ہے۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا ، جس پر حسب ِ معمول حزب ِ اختلاف کی جماعتوں نے خوب واویلا کیا۔رواں مالی سال کے سلسلے میں پیش کردہ بجٹ پر معاشی تجزیہ کاروں کی مختلف آرا پائی جا رہی ہیں۔کچھ نے نئے ٹیکس لاگو نہ کرنے، تعلیمی اصلاحات کے لئے مختص کردہ رقم، ڈیم فنڈ، خریداروں کے لئے شناختی کارڈ کی شرط 50ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ تک حد مقرر کرنے پر بہتری کا اظہار کیا ہے۔جب کہ بیشتر تجزیہ کاروں کے بقول اس بار چند شعبہ جات میں اہداف بساط سے زیادہ رکھے گئے ہیں، جیسے کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 4963 ارب روپے ہے(موجودہ ٹیکس ہدف رواں بر س کی نظر ِ ثانی شدہ ٹیکس محصولات سے 27 فیصد اوپر رکھا گیا ہے)۔ترقیاتی فنڈ اورشرح نمو(3.3 سے1.9 ہو چکا ہے، اب -2.3 ہونے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے)کے طے شدہ اہداف گزشتہ برس جاری کردہ بجٹ میں پورے نہیں ہو سکے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ کے لئے ڈکٹیشن اور تجاویز کسی کی لی گئی ہیں ۔چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری تو ہمیشہ بجٹ کو ـ "PTIMF" کا تیار کردہ پکارتے رہے ہیں۔

حکومتی دعوے کے مطابق کورونا وائرس نے ملکی معیشت کو 3000 ارب کا نقصان پہنچایا ہے۔اگر موجودہ حکومت کے ابتدائی مہینوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں توماہر ِ معاشیات نہ ہوتے ہوئے بھی آپ الیکشن سے قبل کیے جانے والے وعدوں کو ذہن میں دہرا کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنے وعدے وفا ہوئے۔ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ، سب دیوانے کے خواب محسوس ہوتے ہیں۔چھوٹی کابینہ بنانے کے دعوے بھی یاد فرما لیں۔ اب تو صرف ترجمانوں کی بھیڑ دیکھ لیں تو معافی کے لئے سجدہ ریزی کو جی چاہتا ہے۔کارکردگی بہتر نہ دکھانے یا کسی غلط فعل کے مرتکب ہونے کے الزام پر صرف وزارت کی تبدیلی کو ہی سزا و جزا کا عمل سمجھ لیناہمارے ہاں انصاف کا شیوا ہے۔

مذکورہ بالا سطور میں تو ریاستی شہری ہونے کے ناطے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ آئیے کچھ کلمات ان سرکاری ملازمین کے لئے بھی ادا کر لیتے ہیں جو موجودہ

بجٹ پر لفظی وار کرنے میں مصروف ہیں۔اِس بار بجٹ میںغیر معمولی اقدام دیکھنے میں آیا ہے، وہ یہ کہ سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے لئے بجٹ میں کوئی اضافے کی تجویز نہیں تھی۔جیسے ہی یہ خبر سننے کو ملی، سرکاری ملازمین اور پنشنرز مایوسی کا شکار ہوگئے۔قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے مخالف نعروں پر مشتمل بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں کیسے چلے گا پاکستان، چھن گئی روٹی کپڑا مکان سمیت کئی نعرے درج تھے۔ قائد حزب ِ اختلاف شہباز شریف نے بجٹ سمیت تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ بجٹ نہیں تباہی کا نسخہ ہے۔امیر جماعت ِ اسلامی سراج الحق نے کہا کہ بجٹ غیر حقیقی اہداف پر مشتمل ہے، قوم کو اندھیروں میں رکھا گیا۔نیز تمام بیانات گزشتہ بجٹ اجلاسوں میں دیے جانے والے اپوزیشن کے بیانات سے مکمل مشترک تھے۔یعنی پرانی مذمتی تقاریر سن لیں ، کوئی بھی فقرہ آپ کو نا بلد محسوس نہیں ہوگا۔

غیر جانبدار ہو کر حالات کو دیکھیں تو تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونابڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اہم معاملہ تو ان ملازمین کا ہے جو نجی اداروں میں ڈائون سائزنگ نامی تلوار کے سائے میں اوقات ِ کار کے طے کردہ معیار(8 گھنٹے) سے بھی زائد وقت دے کر قلیل آمدن میں کام کرتے ہیں۔ پھر بھی انھیں کسی بھی وقت الوداعی خط تھما کر رخصت ہونے کا سندیسہ مل جاتا ہے ۔اقتصادی سروے پاکستان کے اندازے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے اثرات سے مزید ایک کروڑ افراد کے خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ ہے۔معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے بقول کورونا سے پاکستانی معیشت پر مزید اثرات پڑنے کا امکان ہے،جس سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 5 سے 6کروڑ ہو جائے گی۔

نوکری سے برخاست ہونے کا خوف صرف نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین میں ہے۔ان کٹھن ایام میں تو سرکاری ملازمین چھٹیوں سے زیادہ محظوظ ہو رہے ہیں اور تنخواہوں کا حصول بھی جاری و ساری ہے۔ جن اداروں میں چھٹیاں نہیں بھی ہیں وہاں دورانیہ 6 گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ ہم تو ویسے بھی کام چوری میں شیر ہیں۔ دفتر آتے ہیں، اعلٰی ذائقے کی چائے کی چسکیاں لگاتے ہوئے گپیں ہانکتے ہیں، اگر کام ہو تو ذرا جتن کر لیا ورنہ افسران کے دفتر سے اخراج کی خبر سنتے ہی رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ کورونائی عہد میں جب ہر طرف معاشی مشکلات وارد ہو رہی ہیں،نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اپنے اداروں کی ترقی و فراوانی ِ رزق کے لئے دعائوں میں مصروف ہیں، دوسری جانب صرف تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر سرکاری ملازمین بلبلا اٹھے ہیں۔ پنشنرز کا پریشان ہونا ایک لحاظ سے بنتا بھی ہے کیوں کہ ان کو تنخواہ برابر پینشن نہیں ملتی اور بڑھاپے میں خرچے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ان کا تو احتجاج بالکل جائز ہے۔ مگر وہ ملازمین جن کو نوکری سے فارغ ہونے کا خوف ہے نہ ہی پرفارمنس رپورٹ بہتر بنانے کا، اور نہ ہی سائلین کو پورا وقت دینے کا۔کیا اُن کا مشکل معاشی حالات میں یہ جواز جائز ہے؟

دیکھا جائے تو گزشتہ ادوارِ حکومت میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔سابق قائد حزب ِ اختلاف و رہنما پی پی پی خورشید شاہ تو مارچ 2018ء کے ابتدائی ایام کے قومی اسمبلی اجلاس میں بتا چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملازمین کی تنخواہوں میں 125 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے 27اپریل 2018ء کو اپنے آخری مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں بھی10 فیصد اضافہ کیا۔تحریک انصاف اپنے پہلے بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کر چکی ہے۔

تنخواہوں میں اضافے کی آرزو تو نجی ملازمین کو ہے، حتیٰ کہ نوکری کے مستقل نہ ہونے کا درد بھی وہی سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ نجی اداروں کے ملازمین کے حوالے سے قوانین موجود نہیں ہیں۔اگر کوئی انصاف کے تقاضے کے تحت قانونی چارہ جوئی کرنا بھی چاہے تو ادارے سے منسلک ہونے سے قبل کیے جانے والے معاہدے میں تحریر کردہ نکات پر انحصار ہوتا ہے۔اور نجی ادارے اپنے مفاد کے لئے ایسا کوئی موقع نہیں دیتے۔بیشتر سرکاری ادارے تو معاش زبوں حالی کا شکار ہیں، بجٹ میں شامل خسارے کی بنیادی وجہ ہی منافع سے زیادہ ناجائز اخراجات کا بوجھ ہے۔ بہتر ہے سرکاری ملازمین کورونائی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے تنخواہوں میں اضافے کے راگ کو الاپنے کی بجائے اپنی کارکردگی پر زیادہ توجہ مرکوز کریں اور حکومت سے التجا ہے کہ 12ہزار دینے سے حالات نہیں سنبھلیں گے، جامع اور دیر پا عملی اقدامات درکار ہیں۔رہی بات نجی ملازمین کی تو سرمایہ دارانہ نظام کبھی سر اٹھانے نہیں دیتا۔ اگر سرکار تفریق نہ کرے تو ان کے لئے بھی انصاف کی کامیاب تحریک بنے۔


ای پیپر