ہمارا قومی مزاج!
18 جون 2020 (13:40) 2020-06-18

گزشتہ کالم میں پاکستانی قوم کی جانب سے کورونا کو نہ ماننے کی بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جسے ہم مانتے ہی نہیں اس سے ڈرنا کیا؟ اسی معاملے پر کچھ مزید مشاہدہ کیا تو پتہ چلا کہ ہماری عدم اعتمادی کا یہ عنصر محض وباء کے دنوں میں پروان نہیں چڑھا بلکہ اسے سالہا سال سے سینچا گیا کبھی آمریت کے ہاتھوں اور کبھی جمہوریت کے نام پر... سیاستدانوں کی جانب سے جھوٹ، سرکاری ملازمین کی دھوکہ دہی اور ریاست کی جانب سے عوام کے استحصال نے اسے چھاؤں مہیا کی توریاست، حکومت اور معاشرے کے درمیان کمیونیکیشن یا رابطے کی کمی نے عدم اعتمادی کے اس پودے کو پانی دے دے کر کچھ ایساتنا آور درخت بنا دیاہے کہ اب ریاست و حکومت دن دیہاڑے لوٹنے والے کسی ڈاکو کی شبیہ نظر آتی ہے یا کسی وحشی قاتل کا عکس جو موقع پاتے ہی ہماراقتل کر دے گا اور کلیجہ چبا جائے گا۔ کورونا وبا نے جہاں ہماری اخلاقیات کو بے نقاب کر دیا ہے وہاں ہی ہمارے معاشرے کے بظاہر چھوٹے نظر آنے والے بڑے مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے۔ماہ رمضان عید یا کوئی بھی تہوار ہوہم تو پہلے ہی اشیاء خورونوش کے ریٹس بڑھانے میں دنیا بھر میں جانے جاتے تھے مگر اس وبا نے یہ بھی دکھایا کہ جب کوئی پیاز و لہسن کے ذریعے کورونا کے علاج کی بات کرتا ہے تو ہم اسے مہنگا فروخت کرنے کے کیے سٹاک یا غائب کر دیتے ہیں۔ حکومت ایکٹیمرا انجکشن کا نام لیتی ہے تو وہ بلیک ہوجاتا، عالمی ادارہ صحت ماسک کو ضروری قرار دیتا ہے تو 5 روپے میں ملنے والا ماسک 500 تک پہنچ جاتاہے،آئی سی یو میں آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے تو آکسیجن سلنڈرمہنگے ہو جاتے ہیں ۔لاک ڈاؤن کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو کھانے پینے کا اشیاء کا سٹاک اکٹھا کرنا شروع کر دیا جاتا ہے ۔کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کیے جانے کے باعث ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہوریوں کو

جاہل کہا تو ہمیں انکے الفاظ کسی دشمن کا طعنہ محسوس ہوئے مگر کہیں یہ جاہلیت عدم اعتمادی کی وجہ سے تو نہیں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ماحول میں پھیلی بدبو اس لئے اثر نہیں کرتی کہ دماغ اسکا عادی ہو گیا ہے ؟ سچ کڑوا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہمارا بطور قوم ریاست پر عدم اعتمادی کا عالم یہ ہے ہم آج تک پولیو کا خاتمہ اس لیے نہیں کر سکے کیونکہ پولیو کے قطرے ہمیں آج بھی کسی خاندانی منصوبہ بندی مہم کا حصہ لگتے ہیں۔ کورونا کی صورتحال میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے کمیونیکیشن سٹریٹجی یا آگاہی مہم کی ناکامی نے قوم کو اسی کشمکش میں مبتلا رکھا ہوا کے کورونا کسی بلا کا نام ہے بھی یا نہیں؟ یہ صرف اس حکومت کی نہیں بلکہ 70 سال میں پروان چڑھنے والی اس ریاست کی ناکامی ہے جو اپنی عوام کا اعتماد ہی نہ حاصل کر سکی۔ جھوٹ بول کر ووٹ لینے والوں نے اس قوم کا بھروسہ کچھ ایسے توڑا کہ یہ مسیحاؤں کو قاتل سمجھنے لگی ہے۔

میں آج باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں کو ایک دوسرے کو یہ مشورہ دیتے دیکھ رہی ہوں کہ آج کل ہسپتال نہ جانا ڈاکٹرز زہر کا انجکشن لگا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں ڈاکٹرز کو فرنٹ لائن سولجرز کہہ کر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے مگر ہمارے ڈاکٹرز ان دنوں بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کمی کارونا رونے پر مجبور ہیں۔ مانا کے چند کالی بھیڑیں ہر شعبے و معاشرے میں ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں تو اکثریت کا تاثر ہی ایسا ہے۔ وبا کے ان دنوں میں نفسیات کا کردار انتہائی پیچھے چھوڑ دیا گیا، تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو جنگی یا ہنگامی صورتحال میں پہلی شرط اعصاب پر قابو رکھنا ہے مگر ہمارے ہاں تو عالم یہ ہے وزیراعظم سے لے کر آگاہی دینے والے ڈاکٹرز تک بس ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم اور انکے وزراء عوام کو جاہل کہتے ہیں تو عوام حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ۔مسیحا جو اس وبا میں آگاہی دینے کے ذمہ دار تھے وہ بھی کبھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تو کبھی عوام کی جاہلیت کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ڈاکٹرز یا طبی عملے پر عوام کا اعتماد بھی آج نہیں کھویا گیا بلکہ یہاں بھی ماضی قریب سے لے کر ستر سالہ تاریخ تک کتنے حکمران گزرے جو پاکستان کے اسپتالوں سے علاج کراتے ہیں ؟ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے وہی آتا ہے جو نجی فیس برداشت نہیں کر سکتا اگر چند پیسے زیادہ ہیںتو کوشش ہوتی ہے کہ بیرون ملک سے علاج کرایا جائے ۔تعلیم کا نظام دیکھیں تو صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں جو افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو باہر بھیج دیتا ہے ۔ان حالات میں ہم یہ امید کیسے رکھ سکتے ہیں کہ حکومت کوئی پالیسی دے تو ہم اس پر عمل کر لیں گے ؟یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ خود ماسک بھی نہ پہنیں ،سماجی فاصلہ بھی نہ رکھیں اور ہمیں احتیاط کرنے کا بھاشن دیں ؟کسی سیانے کا کہناہے کہ بچے کو کچھ سیکھانا ہو تو اس پر خود عمل کر کے دکھائیں ، محض آپکا بھاشن نہ بچے پر اثر کرتا ہے اور نہ کسی لیڈرکی تقریر قوم پر۔موجود ہ صورتحال میں عمران خان قوم سے خطاب کرنے تو آتے ہیں مگر واضح پالیسی انکے پاس بھی نہیں ہوتی ۔آغاز میں ماسک کی اہمیت پر بات کرنے بیٹھتے ہیں مگر اختتام اپوزیشن کی غلطیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ مسیحا ؤں کا یہ حال ہے کہ فرنٹ فٹ پر ہونے کے باوجود اعصاب کی جنگ ہارتے نظر آتے ہیں ۔کورونا کے علاوہ کسی بھی بیماری کے ساتھ آنے والے مریض کی تشخیص سے پہلے کورونا ٹیسٹ کی شرط کسی حد تک درست مگر مسیحاؤں کا رویہ اس مرحلے کو مریض اور لواحقین کے لئے آسان بنا سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بطور قوم کورونا کی اس وبا سے نمٹنے کاحل عطا کرے مگر کورونا کی وبا کے بعد ہمیں صحت کے نظام کے ساتھ ساتھ ریاست پر عوام کے اعتماد کا بھی ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی۔


ای پیپر