حکمرانوں کی بونگیاں وقوتِ فیصلہ !
18 جون 2020 2020-06-18

بونگیاں وغیرہ مارنے کے لیے مرکز میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کی تربیت کے مطابق پنجاب اس معاملے اور مقابلے میں سب سے آگے، بلکہ مرکز سے بھی آگے نکلنے کی کوششوں میں ہے، .... ویسے میں سوچ رہا تھا بونگیاں مارنے کی باقاعدہ کوئی وزارت ہوتی اُس کی وزیر بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کو بنایا جاتا، دوبرس بیت گئے اِس ”تھکی ہاری عورت“ کو وزیر صحت بنے ہوئے، سو پنجاب کا محکمہ ”صحت“ جتنا ”بیمار“ اب ہے، اِس سے پہلے کبھی نہ تھا، کام کا کوئی ایک کام یہ خاتون اپنے محکمے میں نہیں کرسکی، گزشتہ روز بھی یہی اُس کے بارے میں عرض کیا تھا” جو خود دوقدم نہیں چل سکتی، پورا محکمہ صحت اُس سے کیا چلنا ہے؟۔ اُس کا واحد ”اعزاز“ یہ ہے، جس کا اب تک منافع وہ کھارہی ہے کہ اس نے لاہور میں نواز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کیا تھا، پہلی بار کچھ ووٹ بھی لے لیے تھے، یہ ووٹ لوگوں نے یقیناً اسے ایک مدبر اور پڑھی لکھی خاتون سمجھ کر دیئے ہوں گے، وہ تو شکر ہے 2018کے الیکشن میں وہ جیت نہیں سکی ورنہ ہوسکتا تھاوزارت اعلیٰ اسی کے ”سپردخاک“ کردی جاتی، ویسے تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کو اب بھی ”سپردخاک“ ہی کیا گیا ہے، پنجاب سے اللہ جانے کس بات کا بدلہ لیا جارہا ہے ؟ حالانکہ پنجاب سے پی ٹی آئی کو ٹھیک ٹھاک ووٹ ملے تھے، جو دلوائے گئے تھے وہ الگ تھے ، اس کے باوجود پنجاب کو نکمے ترین لوگوں کے حوالے کرکے شریف برادران پر جو مہربانی فرمائی گئی اس کے بدلے میں شریف برادران خصوصاً شہباز شریف کو ہمارے محترم وزیراعظم کا ”تاحیات “ شکر گزار ہونا چاہیے، پنجاب میں کسی اہل شخص کو لاکر بٹھا دیا گیا ہوتا شہباز شریف کا سیاسی اور انتقامی حوالے سے نام ونشان اب تک مٹ گیا ہوتا، .... کبھی کبھی مجھے لگتا ہے شہباز شریف کو بطوراپوزیشن لیڈر جو ایکٹو وایگریسوکردار اداکرنا چاہیے تھا وہ اگر نہیں کررہے تو یہ اصل میں وزیراعظم کی اس بات پر شکرگزاری ہوگی انہوں نے پنجاب کو نااہل لوگوں کے سپرد کیا جس کے نتیجے میں ہردوسرا شخص انہیں اور ان کے کارناموں کو یاد کرتا ہے، .... جہاں تک وزیر صحت پنجاب کا تعلق ہے پچھلے دوبرسوں میں انہوں نے کوئی ایسی اہلیت یا کارکردگی نہیں دکھائی جس کی بنیاد پر انہیں مسلسل وزیر صحت رکھنا ضروری ہو، بلکہ وزیر صحت کی حیثیت سے مسلسل جس نکمے پن کا انہوں نے مظاہرہ کیا اس کے نتیجے میں بے شمار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے وہ ”ڈاکٹر“ بھی ایسی ہی ہوں گی، ممکن ہے وہ بے چاری ”نرس“ بننا چاہتی ہوں پر قدرت کو ان کی کوئی ادا پسند آگئی ہو اور وہ ڈاکٹر بن گئی ہوں، اور پھر خان صاحب کو ان کی کوئی ادا پسندآگئی ہو اور وہ وزیر بھی بن گئی ہوں، یہ بھی ہوسکتا ہے بطور وزیر صحت وہ جان بوجھ کر کسی اہلیت یا کارکردگی کا مظاہرہ نہ کررہی ہوں کہ ایسی صورت میں کہیں انہیں تبدیل نہ کردیا جائے، پچھلے ڈیڑھ دوبرسوں میں ایک دو ایسے وزیر بھی تبدیل کردیئے گئے جن کا جرم یا قصور صرف یہ تھا وہ اپنے اپنے محکموں میں بہتر کارکردگی دکھا رہے تھے .... ممکن ہے ہمارے محترم وزیراعظم بھی کوئی اہلیت یا کارکردگی دکھانے سے جان بوجھ کر اس لیے گریز کررہے ہوں ایسی صورت میں کہیں انہیں بھی تبدیل نہ کردیا جائے .... سو جیسی وہ ”کارکردگی“ دکھارہے ہیں اُس کے مطابق قوی امکان یہی ہے اپنے اقتدار کی مدت بڑی آسانی سے وہ پوری کرلیں گے .... اُس کے بعد وہ کیا کریں گے ؟ یہ شاید انہوں نے نہیں سوچا، نہ انہوں نے وزیراعظم بننے سے پہلے سوچا تھا کہ وزیراعظم بن کر انہیں کیا کرنا ہے؟ ان کا یقیناً یہی خیال ہوگا جو وزیراعظم وغیرہ بناتے ہیں چلاتے بھی وہی ہیں، لہٰذا مجھے کیا ضرورت پڑی ہے ایسے ہی منہ اٹھا کر وزیراعظم بننے سے پہلے کوئی تیاری یا محنت وغیرہ کروں یا کوئی ایسی ٹیم تیار کروں جو تبدیلی کے اس سہانے سپنے کو واقعی شرمندہ تعبیر کردے جو لوگوں کو بار بار ہم نے دکھایا ، ممکن ہے کورونا پاکستان میں نہ آتا حکمرانوں کی نااہلیوں پر مزید ڈیڑھ دوبرس پردہ پڑارہتا، کورونا نے انہیں بُری طرح ایکسپوز کرکے رکھ دیا، قوت فیصلہ کی ان میں اتنی ہی کمی ہے جتنی نواز شریف میں تھی، فرق صرف یہ ہے اپنے پہلے دوراقتدار میں وہ سارے مشورے ” ابا جی“ سے کرتے تھے، آخری دور اقتدار میں بیٹی جی سے کرتے رہے، جس کے نتیجے میں دونوں بار نقصان ہی اٹھائے، ....موجودہ وزیراعظم ملک چلانے کے لیے اکثر مشورے کس سے کرتے ہیں؟ یہ ایسا راز نہیں اب تک جو ڈھکا چھپاہو، ان کا گھر بس چلتا رہے، ملک کی خیر ہے، ان کی ”قوت فیصلہ“ کا معاملہ یا مظاہرہ تو ہم نے کورونا کے معاملے میں دیکھ لیا، اس کے علاوہ بھی ڈیڑھ دوبرسوں سے دیکھتے آرہے ہیں ” میں نواز شریف کا ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں جو آج کل ہردوسرے چوتھے روز لندن کے کسی نہ کسی پرسکون مقام پر بیٹھ کر کوئی تصویر سوشل میڈیا پر چھوڑ دیتے ہیں، اور ہمارے بے چارے حکمران کورونا ودیگر اہم ترین مسائل کو بھول کر کئی روز تک اس تصویر کی جلن ہی محسوس کرتے رہتے ہیں، حالانکہ انہیں ایک لاعلاج مریض قرار دلواکے انہی حکمرانوں نے باہر بھجوایا تھا، اور اس میں اہم ترین کردار اسی وزیر صحت کا تھا جو، اب لاہوریوں کو عجیب وغریب یا جاہل مخلوق قرار دے رہی ہے، اور ہم اس کی اس بات پر صرف اس لیے یقین کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ان کا اپنا تعلق بھی لاہور سے ہے ۔ بہرحال نواز شریف بطور وزیراعظم ایک بار ملتان کے دورے پر گئے، ان کے ساتھ ایک برطانوی صحافی نے بھی اسلام آباد سے ملتان جانا تھا، پر وہ انہیں ساتھ لے جانا بھول گئے، یا ممکن ہے جہاز کھانے پینے کے سامان سے اس قدر بھرگیا ہوکہ برطانوی صحافی کی گنجائش ہی نہ رہی ہو، .... بہرحال ملتان پہنچ کر وزیراعظم کا طیارہ اس برطانوی صحافی کو لینے دوبارہ اسلام آباد گیا، اس وقت کے آرپی او ملتان کو حکم ہوا انٹرویو کے لیے ملتان میں کوئی خوبصورت ترین مقام تلاش کیا جائے۔ آرپی او نے ایک پرائیویٹ فارم ہاﺅس وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو دکھایا جو انہیں بہت پسند آیا، عارضی طورپر ایک ہیلی پیڈ بھی وہیں بنادیا گیا تاکہ برطانوی صحافی کو جو جہاز یا ہیلی کاپٹر لے کر آئے اسے یہیں لینڈ کروایا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف پہلے ہی وہاں پہنچ گئے تھے۔ آرپی او نے ان سے پوچھا ”سرچائے وغیرہ انٹرویو کے بعد پیش کی جائے یا پہلے؟“....وزیراعظم ان کی بات سن کر سوچ میں پڑ گئے، کتنی ہی دیر تک سرکھجاتے ہوئے چائے چائے چائے کے الفاظ دہراتے رہے، دس پندرہ منٹ تک جب کوئی فیصلہ نہ کر پائے تو آرپی او سے کہنے لگے ” مریم سے پوچھ لیں “....میں سوچ رہا ہوں اگلے تین برسوں تک وزیراعظم عمران خان شاید یہی سوچتے رہیں پنجاب میں کوئی تبدیلی انہوں نے لانی ہے یا نہیں؟ ممکن ہے وہ سوچتے ہی رہ جائیں اور کسی روز اُنہیں یہ اطلاع مل جائے ”تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آگئی ہے “۔


ای پیپر