بائیس کروڑ مریض اور تین کروڑ ہلاکتیں
18 جون 2020 2020-06-18

علم ریاضی کی پیش گوئی کے مطابق اگر پاکستان میں حکومت نے اب بھی نظام صحت کو بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے، لاک ڈاو¿ن کے دوران ہر فرد کی ٹیسٹنگ کو یقینی نہ بنایا اور عوام نے لاک ڈاو¿ن سمیت سماجی دوری اور حفاظتی اقدامات کی پابندی نہ کی تو اگست تک ملک کی بائیس کروڑ عوام کورونا وائرس سے متاثر ہو جائے گی جبکہ نظام صحت کی بربادی کے باعث ملک میں مجموعی طور پر ستمبر کے پہلے ہفتے تک تین کروڑ پینتیس لاکھ اموات ہو سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علم ریاضی کبھی کسی کے ساتھ جانبداری نہیں رکھتا۔اس کی اپیل اور زبان عالمگیر ہوتی ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر کسی بات کو ریاضی کے ذریعے درست ثابت کردیا جائے تو اس کے نتیجے پر کوئی شک نہیں کرے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ علم اپنی متعدد شاخوں کے ساتھ بہت وسیع اور مستند حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ لاگرتھم کو ریاضی کی ایک اہم شاخ سمجھا جاتا ہے۔جسے سترہویں صدی میں جان نیپیر نے متعارف کرایا تھا۔ ریاضی کی اس شاخ نے بہت جلد شہرت حاصل کی، کیونکہ اس میں لمبے اور مشکل ضرب کے عمل کو آسان جمع سے کیا جا سکتا تھا۔ لاگرتھم یا لاگ 2 کا فارمولا وباءیا کسی بھی چیز کی تعداد میں اضافے کی شرح اور مستقبل میں اس کے ممکنہ پھیلاو¿ کے جائزے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور متعددی وباو¿ں کو کنٹرول کرنے والے عالمی ادارے کورونا وائرس کے پھیلاو¿، شرح اموات، کنفرم مریضوں اور ٹیسٹنگ کی شرح کے لئے لاگریتھمک چارٹ استعمال کر رہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ ان چارٹس کی مدد سے وباءکی بڑی تصویر دیکھنا ہے۔ ریاضی کا یہ اصول بتاتا ہے کہ متعدی وبائیں ایک لکیری انداز میں نہیں پھیلتیں بلکہ خطی پیمانے پر وبائ کے پھیلاو¿ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ جس سے باآسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ سماجی دوری سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں۔ اس چارٹ میں مریضوں کی تعداد سے متعلق اعداد مساوی اضافے میں نہیں بڑھتے بلکہ ہر وقفہ ایک خاص عنصر کے ذریعہ بڑھتا ہے۔ ریاضی کے ماہر ، اساتذہ ، اور دی لائف چینجنگ میجک آف نمبرز کے مصنف بابی سیگل وضاحت کرتے ہیں کہ لاگریتھمک پیمانہ وبائ میں تبدیلی بالخصوص پھیلاو¿ کی شرح نکالنے کے لئے مثالی ہے۔ یہ پیمانہ وبائ کے رجحان میں کسی بھی طرح کی ہونے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرنے کے علاوہ یہ بھی بتاتا ہے کہ صحت عامہ کے اقدامات کس حد تک کامیاب ہیں۔ چین سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک نے کورونا کے مریضوں اور اموات کی شرح کے اسی فارمولے کا استعمال کر کے مستقبل کے لئے اقدامات کئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکہ میں مریضوں اور ہلاکتوں کی ممکنہ تعداد اسی فارمولے کے تحت بتاتے رہے ہیں۔ اب اگر پاکستان میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا ریاضی کے فارمولے لاگ ٹو کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ستمبر کے پہلے ہفتے تک تین کروڑ پینتیس لاکھ اموات متوقع ہیں۔ جبکہ اگست تک ملک کی 22 کروڑ آبادی اس وائرس سے متاثر ہو چکی ہو گی۔ اگر ہم وائرس کے پھیلاو¿ کے ماڈل کو سمجھ جائیں تو ہمیں باآسانی لاگ 2 کی یہ پیش گوئی سمجھ میں آ جائے گی۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق یہ وائرس ہر مریض سے کم از کم دو لوگوں کو لگتا ہے۔جب کوئی شخص وائرس سے متاثر ہوتا ہے تو ابتدائی سات روز تک تمام علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تب تک یہ وائرس خاموشی سے میزبان جسم کے اندر اپنی افزائش کرتا رہتا ہے۔ ایک ہفتے بعد علامات ظاہر ہونے کا واضح مطلب ہے کہ اگر سخت لاک ڈاو¿ن اور اس دوران متاثرہ افراد کی ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ فوری نہ کی گئی، متاثرہ اور بغیر علامات والے مریض باآسانی گھومتے پھرتے رہے تو ہر ہفتے مریضوں کی تعداد دو گنا ہوتی جائے گی . پاکستان میں فروری کے چوتھے ہفتے میں کرونا کے پہلے مریض کا پتہ لگا تھا . فرض کریں اس وقت صرف ایک مریض تھا . اس حساب سے مارچ کے پہلے ہفتے میں دو مریض ہوں گے۔ دوسرے ہفتے میں چار مریض ، تیسرے میں آٹھ مریض , چوتھے میں سولہ , اپریل کے پہلے ہفتے میں بتیس , دوسرے ہفتے میں چونسٹھ، تیسرے میں 128، چوتھے ہفتے میں 256 مریض , مئی کے پہلے ہفتے میں 512 اور دوسرے ہفتے میں 1024 مریض ہوں گے. اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں کہ حقیقت میں پاکستان میں اس وقت مریضوں کی تعداد کتنی ہے اور فرض کریں کہ فروری سے لے کر مئی کے وسط تک ڈھائی مہینے یا دس ہفتوں میں صرف ہزار مریض ہونا کوئی خاص خطرے والی بات نہی ہے . ریاضی کے لاگ ٹو کے قانون کے مطابق دو کی طاقت دس یعنی 10^2 سے بھی جواب 1024 ہی آتا ہے . مطلب اگر صرف ایک مریض سے شروع کریں اور ہر مریض سے دو لوگوں کو وائرس لگے تو ڈھائی مہینے بعد بھی صرف 1024 مریض ہوں گے . اب ریاضی کے اسی لاگ ٹو کے قانون سے حساب آگے بڑھائیں تو دس ہفتے میں ایک ہزار مریض , پندرہ ہفتوں میں بتیس ہزار مریض , بیس ہفتوں میں ایک ملین , پچیس ہفتوں میں چونتیس ملین اور اٹھائیس ہفتوں میں دو سو ساٹھ ملین یا چھبیس کروڑ مریض بنتے ہے . پاکستان کی ٹوٹل آبادی بائیس کروڑ ہے . اگر فروری میں صرف ایک مریض ہو تو اٹھائیس ہفتے یا سات ماہ بعد پاکستان کا ہر فرد کرونا کا مریض ہو گا. تاہم بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، حقیقت اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور عوام کی جہالت کے باعث پاکستان میں وائرس اس قدر تیزی سے پھیلا ہے کہ یہ شرح 28 ہفتوں سے بھی بہت پہلے پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں فروری کے آخری ہفتے پہلے 2 کیس سامنے آئے، مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ تعداد 4 ہونا چاہئے تھی لیکن یہ پانچ ہو گئی۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں 8 کی بجائے 20, تیسرے میں 16 کی بجائے 302، چوتھے ہفتے میں 32 کی بجائے 1059 ہو گئی۔ لاک ڈاو¿ن کی ناکامی اور وائرس کی پھیلاو¿ میں کامیابی کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لاگ ٹو کے مطابق جو تعداد 8 ہفتوں میں ہونی تھی وہ صرف پانچ ہفتوں میں ہو گئی۔ اپریل کے پہلے اور مجموعی طور پر چھٹے ہفتے میں 64 کی بجائے 2029, ساتویں ہفتے میں 128 کی بجائے 4322 ہو گئی۔ آٹھویں ہفتے میں 256 کی جگہ 6505، نویں ہفتے میں 514 کی بجائے 9749, دسویں ہفتے جب یہ تعداد 1024 ہونا چاہیے تھی تب پاکستان میں مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد 15759 ہو چکی تھی۔ اسی طرح لاگ ٹو کے مطابق پندرہ ہفتوں بعد جو کہ چار جون کو پورے ہوتے ہیں یہ تعداد 32768 ہونا چاہئے تھی، لیکن حقیقی طور پر مریضوں کی تعداد تقریباً 150 فیصد اضافے کے ساتھ 83071 ہوچکی تھی۔ اس وقت وائرس کو پاکستان میں پنپتے ہوئے 17واں ہفتہ چل رہا ہے اور مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ لاگ ٹو کے مطابق 28 ہفتوں میں یعنی ستمبر کے پہلے ہفتے تک پاکستان کی بائیس کروڑ عوام مریض بن جائے گی۔ خدا نہ کرے ایسا وقت آئے لیکن حقیقت میں انتہائی محدود ٹیسٹنگ کے باوجود پھیلاو¿ کا یہ رحجان بتا رہا ہے کہ وائرس 22 کروڑ عوام کو مریض بنانے کا ٹارگٹ 22 ہفتوں میں یعنی اگست کے وسط تک پورا کر لے گا۔ ( جاری ہے)


ای پیپر