ملک کو قرض کی دلدل میں کس کس نے دھکیلا؟تحقیقات شروع
18 جون 2019 (19:38) 2019-06-18

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ نے حسین اصغرکو 10سالوں میں لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا، حسین اصغرسابق پولیس افسر اوراس وقت ڈپٹی چیئرمین نیب ہیں۔

تفصیلات کے مطابق منگل کووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں حسین اصغرکو 10 سالوں میں لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لئے اعلی سطحی کمیشن کا چیئرمین بنانےکافیصلہ کیا گیا۔وفاقی کابینہ نے حسین اصغرکوکمیشن کاسربراہ بنانےکی منظوری دے دی ، وزیراعظم نے کہا انکوائری کمیشن مکمل اختیارات کےساتھ کام کرےگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں پاک فوج کو خراج تحسین کرتے ہوئے کہا پاک فوج کی جانب سے بجٹ میں اضافہ نہ لینے کافیصلہ ملکی مفادمیں ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے نیشنل ڈیویلپمنٹ کونسل تشکیل دے دی ، نیشنل ڈیویلپمنٹ کونسل کی سربراہی وزیراعظم عمران خان کریں گے اور آرمی چیف بھی نیشنل ڈیویلپمنٹ کونسل کے رکن ہوں گے جبکہ وزیر خارجہ، مشیر خزانہ ، وزیر منصوبہ بندی، مشیر تجارت بھی رکن ہوں گے۔

چاروں صوبوں،گلگت بلتستان کے وزرائےاعلی ، آزادکشمیر کےوزیراعظم کو بھی این ڈی سی اجلاس میں دعوت دی جائے گی۔یاد رہے گذشتہ روز ووزاعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا تھا ، جس میں انکوائری کمیشن کے سربراہ کا نام طے کرلیا گیا تھا، حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سربراہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا ملک کو قرض کی دلدل میں کس کس نے دھکیلا؟ وزیراعظم عمران خان تحقیقاتی کمیشن کااعلان کریں گے، کس نے کتنے پیسے اڑائے، سب پتہ چل جائےگا، پاکستان سے قرض لے کر پیسہ کس نے غائب کیا پتہ چلے گا، کمیشن کا سربراہ کون ہوگا، وزیراعظم خود بتائیں گے۔

یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے بجٹ کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا 10 سال میں قرضہ 24 ہزار ارب تک پہنچنے کی تحقیقات کے لئے اپنی سربراہی میں اعلی سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا ہائی پاورڈ کمیشن میں آئی ایس آئی، ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر اور ایس ای سی پی شامل ہوں گے۔

بعد ازاں وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ انکوائری کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے گا، کمیشن میں ایس ای سی پی، آڈیٹر جنرل آفس اور ایف آئی اے کے حکام بھی شامل ہوں گے، یہ کمیشن 10 سالوں میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کرے گا، 2008 سے 2018 تک 24 ہزار ارب کے قرضے کی تحقیقات ہوں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کمیشن مختلف وزراتوں میں استعمال کی گئی رقم کی تحقیقات کرے گا، کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ عوام کے پیسے کا غلط استعمال تو نہیں ہوا، غیر ملکی سفر اور بیرون ملک علاج پر آنے والے اخراجات کی بھی تحقیقات ہوں گی۔


ای پیپر