آنے والے دو ر کی ایک جھلک جو آپ کے ہوش اُڑا دیگی
18 جون 2019 (17:36) 2019-06-18

سائنس اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ کئی ناممکنات کو ممکنات میں بدلا جا چکا ہے۔ کبھی ہم جن چیزوں کے بارے پڑھ کر حیران ہوتے تھے آج وہ چیزیں حقیقت کا روپ دھارے ہمارے سامنے موجود ہیں، اور آج ہم جس چیز کو سوچ کر حیران ہوتے ہیں یا کہانیوں میں پڑھتے یا فلموں وغیرہ میں دیکھتے اور گمان کرتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہو سکتا، آنے والے وقت میں نہ صرف ایسا ہوتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر بھی ہو جاتا ہے۔ مثلاََ آپ اُڑنے والی کاروں کے متعلق سو چتے ہوں گے کہ یہ کم از کم ہماری زندگی میں ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اُڑنے کے لیے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر جیسا بھاری بھرکم انجن چاہیے ہوتا ہے جس کی آواز نہ تو ہماری صحت کے لیے ٹھیک ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیں سننے میں پسند ہوتی ہے۔ لیکن آپ یہ جان کر ضرور حیران ہوں گے کہ گاڑیاں بنانے والی ایک بڑی کمپنی بی ایم ڈبلیو نے ایسی اُڑنے والی کار تیاری کر لی ہے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ایندھن بھی کم استعمال کرتی ہے۔۔۔ خیر آنے والے وقت میں جب ہم اپنے گھر میں پڑے ٹی وی کو کباڑخانے کی نذر کر رہے ہوں گے اس وقت گھروں میں ایسی ٹیکنالوجی آچکی ہو گی کہ ہم اسے اپنانے پر مجبور ہوں گے، ہر نئی آنے والی ٹیکنالوجی کے بعد پرانی ٹیکنالوجیکے ساتھ ایسا ہونا ایک فطری عمل ہے اسی لیے تو کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔۔۔ اب اسی بات پر اگر غور کریں کہ آج دنیا کا سب بڑا مسئلہ گلوبل وارمنگ ہے اور ہمیں انرجی کے متبادل ذرائع استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے جیسے بجلی، سورج سے بنائی جائے اور گاڑیاں ایندھن کے بجائے بجلی سے چلائی جائےں۔۔۔ گھروں میں انرجی کے متبادل ذرائع استعمال کیے جائیں، آج دنیا کے کئی ممالک اس پر کام کر رہے ہیں اور یقیناََ آنے والے دنوں میں ایسا ہی ہو گا جیسا ہم سوچ رہے ہیں۔۔۔ مزید آنے والے دنوں میں ہمارا واسطہ کس قسم کی ٹیکنالوجی سے پڑے گا آئیے اس پر نظرڈالتے ہیں۔۔۔

سمارٹ لباس

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں ہمارا لباس آج سے یکسر مختلف ہوگا۔ آنے والے دنوں میں ہمارے لباس مختلف رنگوں، انداز اور کپڑے کی مختلف اقسام سے تیار کیے جائیں گے۔

اعصابی تناﺅ سے چھٹکارہ پانے کےلیے لباس

مستقبل کے فیشن کو اس لحاظ سے اسمارٹ فیشن کا نام دیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارا لباس صرف تن ڈھانپنے کے لیے ہی نہیں ہوگا بلکہ اس سے اعصابی تناو¿ کم کرنے اور اپنا موڈ خوشگوار رکھنے میں بھی مدد مل سکے گی۔ پچھلے کچھ عرصہ سے امریکی ریاست میری لینڈ کے ایک کالج میں مستقبل کے ایسے ہی لباس پر کام کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے اس لباس میں چھوٹے چھوٹے کنٹرولرز لگائے ہیں جو دھلنے سے خراب نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ لباس میں ایسے سینسرز لگا سکتے ہیں جس سے درجہ حرارت، روشنی اور حرکت کو قابو کیا جا سکے۔

رنگ بدلتے لباس

اینٹ کوین برگ کالج کے فائبر ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ انہوں نے چار سال قبل کپڑوں کے روایتی اور اکیسویں صدی کے جدید انداز کو ملا کر سمارٹ ٹیکسٹائل ریسرچ لیبارٹری قائم کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک مستقبل یہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چیزیں چھوٹی ہوتی جا رہی ہیں۔ اب ٹیکنالوجی چھوٹے چھوٹے سیلز کی صورت میں بھی سامنے آ گئی ہے۔ اور اس سے آرٹ، فیشن اور ٹیکنالوجی میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ آرٹ کالج کے ایک اور طالب علم ٹیبور بیرانٹی کے نزدیک مستقبل کے فیشن میں ایسے کپڑے استعمال کیے جائیں گے جو اپنا رنگ بدل سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اگر چاہیں کہ آپ کا لباس سبز کے بجائے سرخ رنگ کا ہو۔ تو آپ اپنے کپڑوں میں لگے پروسیسیرز کی مدد سے بآسانی ایسا کر سکیں گے۔

غائب ہونے والا لباس

انسان کو دوسروں کی نظروں سے اوجھل بنانے والے لباس کی تیاری میں ابھی کئی سال اور لگ سکتے ہیں، لیکن جرمنی کے کچھ ماہرین غیر مرئی لباس سے متعلقہ ایک ایسے شعبے میں کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں الیکٹران مائیکروسکوپ سے دس گنا زیادہ طاقت ور خورد بین بنائی جا سکے گی اور روشنی کی سمت کی تبدیلی سے بجلی تیار کی جاسکے گی۔

یہ شعبہ روشنی کی سمت میں تبدیلی سے متعلق ہے۔ سائنس دان اس کے لیے نینو ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں جس میں وہ روشنی کو تمام فاصلوں اور بہت سی سمتوں سے اس انداز میں موڑنے کے لیے، کہ وہ انسانی آنکھ سے اوجھل ہوجائے، الیکٹرانز اور سیمی کنڈکٹرز کی مدد سے انتہائی چھوٹے آلات تیار کریں گے۔

جرمن سائنس دان کہتے ہیں کہ اگرچہ مستقبل میں ایسے کچھ طریقے دریافت ہوسکتے ہیں تاہم چیزوں کو نظروں سے مکمل طورپر اوجھل کرنے سے متعلق ٹیکنالوجی کی تیاری میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ نظروں سے غائب کرنے کے لیے اب تک جو لباس تیار کیے گئے ہیں وہ دواطراف سے چیزوں کو نظروں سے چھپا سکتے ہیں لیکن ان کے استعمال سے چیز مکمل طورپر نظروں سے غائب نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک سایہ سا باقی رہ جاتا ہے جس کا آلات کی مدد سے سراغ لگایا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسا لباس تیار کرنے کے بہت نزدیک ہیں جسے پہن کر نظروں سے اوجھل ہوا جا سکتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے تحقیق کارنے ایک ایسی چیز ایجاد کی ہے جو روشنی کو چیزوں کے گرد تیس ڈگری کے زاویے پر موڑ کر انہیں ’غیر مرئی‘ بنا دیتی ہے۔ سائنسدانوں کی اس ٹیم کا کہنا ہے کہ ایک دن اسی بنیاد پر ایسا مٹیریل تیار کیا جا سکتا ہے جو لوگوں کو دوسروں کی نظروں سے غائب کر سکتا ہے۔

یہ مٹیریل قدرتی طور پر نہیں ملتا تاہم اسے نینو سکیل پر بنایا گیا ہے اور اس کی پیمائش ایک میٹر کے ایک ارب ویں حصے کے حساب سے کی جاتی ہے۔زیانگ زنگ اور ان کی ٹیم کی اس دریافت کو سائنسی جریدے جرنل نیچر اینڈ سائنس میں شائع کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے کی جانی والی اس ریسرچ کا استعمال فوجی کارروائیوں میں بھی ہو سکتا ہے جہاں ٹینکوں کو دشمنوں کی نظر سے غائب کیا جا سکتا ہو۔

کم خرچ ڈی این اے سیکوئنسنگ

ڈی این اے، ڈی اوکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ کا مخفف ہے۔ ڈی این اے دراصل نیوکلیک ایسڈ ہوتا ہے، جس میں ایک جان دار کی تمام جینیاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ ڈی این اے کے جس حصے میں یہ معلومات محفوظ ہوتی ہیں، وہ جین کہلاتا ہے۔ ڈی این اے سیکوئنسنگ دراصل انھی جینز میں چھپی معلومات کو پڑھنے کا طریقہ کار ہے۔ ڈی این اے سیکوئنسنگ بنیادی حیاتیاتی تحقیق کے لیے کلیدی اہمیت اختیار کرگئی ہے اور متعدد شعبوں میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ ٹیکنالوجی اس قدر عام ہوگی کہ آپ عام لیبارٹری سے بھی اس کا ٹیسٹ کروا سکیں گے اور ایسا کرنے سے کئی انسانی مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا، موجودہ دور میں ڈی این ٹیسٹ ایک نایاب اور کم دستیاب ٹیسٹ ہے ماہرین اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ اسکی رسائی عام لوگوں تک کیسے ممکن ہوسکے۔ آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ڈی این اے سیکوئنسنگ کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے اور اس پر ہونے والے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ نیوکلیک ایسڈ کیمسٹری میں ہونے والی پیش رفت کی بدولت آج ” لائف ٹیکنالوجیز“ جیسی کمپنیاں ایک نیم موصل چِپ پر صرف ایک ہزار ڈالر میں ڈی این اے کو پروسیس کرسکتی ہیں۔ دوسری کمپنیاں پورے جینوم کو صرف ایک دن میں ترتیب دے سکتی ہیں۔ ڈی این اے سیکوئنسنگ میں آنے والی تیزرفتاری اور لاگت میں کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی جینوم کی سیکوئنسنگ تین برس کے عرصے میں مکمل ہوئی تھی اور اس پر آنے والی لاگت 3.8 ارب ڈالر تھی۔

سانک سکریو ڈرائیور

برطانیہ کی مشہور ڈرامہ سیریز ”ڈاکٹرہو(Doctor Whoµ)“ میں یہ ’سانک سکریو ڈرائیور“ نامی آلہ استعمال کیا گیا ہے۔ ڈرامہ میں یہ ڈیوائز ورسٹائل کام کرتی ہے مثلاََ ریڈیو یا سیٹلائیٹ سگنلز کو کٹ کرنا، کسی چیز کو جلانا، دو چیزوں کو جوڑنا، زخموں کو ٹھیک کرنا اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو منٹوں میں جوڑنا جیسے کام کرنا وغیرہ۔

آج برطانوی انجینئر اسی قسم کا پہلا ’حقیقی سانک سکریو ڈرائیور‘ بنا رہے ہیں، یونیورسٹی آف برسٹول کے الٹرسانک انجینئر بروس ڈنک واٹر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہم ایسی مشین بنانے جا رہے ہیں جو الٹرا سانک قوت کو استعمال کرتے ہوئے چھوٹی چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت دے سکے، جیسے جسم سے ناکارہ خلیوں کو نکال کر دوسرے خلیے بھیجنا یا ان کو آپس میں جوڑنا وغیرہ۔ اسی طرح اس ڈیوائز کو ہم کسی زخم پر رکھ کر اُسے ٹھیک کر سکیں گے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں جسم کے کئی اندرونی حصوں کی ٹرانسپلانٹ سرجری بھی کی جاسکے گی۔

اس کی ایک اہم مثال ایبرڈین یونیورسٹی کے رائل آرتھوپیڈک ہسپتال برمنگھم میں ایک نیا میڈیکل ( پیچ نما) سکریو تیار کیا گیا ہے جو گھٹنے کی سرجری میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔ اس سکریو کو آپریشن کے ذریعے فٹ کرنے سے ٹانگ دوبارہ درست حالت میں کام کرنا شروع کر دے گی۔ یہ سکریو ان زخمیوں کو مدد فراہم کرے گا جن کے حادثات میں گھٹنے ٹوٹ کر چکنا چور ہو جاتے ہیں یا پھر کھیل کے میدان میں کھلاڑی اپنے گھٹنے تڑوا بیٹھتے ہیں۔ گرافٹ بولٹ، نامی اس سکریو کو پہلے سے موجود مصنوعات سے کہیں بہتر قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نصب ہونے سے ہڈیوں اور ٹشوز کے درمیان جوڑ کا معیار 100 گنا بہتر ہے۔ اس سکریو کے نصب ہونے سے سرجری کی پائیداری اور سرجری کے بعد میڈیکل فالو اپ میں آسانیاں آ جائیں گی۔

فورس فیلڈ

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی حفاظت ایسی قوت کر رہی ہو جو بظاہر آپ کو نظر نہ آئے لیکن اس حصار میں آپ ایسے محفوظ ہوں کہ آپ پر کوئی ایٹم بم بھی اثر نہ کرسکے، برطانوی فوجی سائنسدان ایسی فورس فیلڈ ایجادکرنے جارہے ہیں جو بیرونی فوجیوں کو بیرونی حملوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جیسے آج ہم بیرونی حملوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں یا شیلٹر استعمال کرتے ہیں لیکن مستقبل میں آرمی فورسز کے پاس یا عام فورسز کے پاس ایسی قوت ہو گی جسے فیلڈفورس کا نام دیا جائےگا۔ جس کی حدود میں نہ تو کوئی گولی آسکے گی نہ ہی اس فیلڈ میں کوئی بم اثر کر سکے گا، یہ فیلڈ کسی گاڑی کے گرد لگا سکتے ہیں یا کسی بلڈنگ کے گرد لگا سکتے ہیں، انجینئر اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ وقت سے پہلے ہی کسی آفت کا پتا لگایا جاسکے تاکہ ایک بڑی قوت والی میگنیٹک فیلڈ فورس پیدا ہوسکے جو گاڑی کی آﺅٹ سائیڈ پر اثر کرسکے۔

ہالی ووڈ کی سٹار ٹرک فلم میں کچھ ایسے ہی مناظر فلمائے گئے ہیں جن میں حملے کو روکنے کے لیے میگنیٹک فیلڈ پیدا کی جاتی ہے جو چند سیکنڈ اپنا اثر دکھانے کے بعد ختم ہوجاتی ہے اور کچھ دیر بعد وہ دوبارہ ری چارج ہوتی اور کئی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مستقبل کے روبوٹ

خوشخبری یہ ہے کہ مستقبل میں روبوٹ انسان کے بہترین دوست ہوں گے جو نہ صرف مشکل ترین آپریشن کر سکیں گے بلکہ فٹ بال کے بھی ماہر ہوں گے۔ برطانوی لیبارٹریوں میں انسان جیسے روبوٹ تیاری کے آخری مراحل میں پہنچے ہوئے ہیں۔ کچھ روبوٹ رقص کے ماہر ہیں تو کئی چہرے پر تاثرات سجائے بیس زبانیں بول سکتے ہیں۔ ایک روبوٹ دنیا بھر میں کسی بھی جگہ اور کوئی بھی آپریشن کرنا سیکھ رہا ہے۔ ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش اور گٹر صاف کرنے والے روبو بھی مستقبل قریب میں سڑکوں پر گھوما کریں گے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق جنگیں خودکار ڈرونز اور روبوٹ لڑینگے، سی آئی اے نے مائیکروڈرونز اور جدید روبوٹ کا تجربہ شروع کردیا۔ ٹارگٹ کو تلاش کرکے دشمن کی نشاندہی کے بعد اسے نشانہ بنائینگے۔ مائیکرو روبوٹ سرنگوں میں جائینگے اور موبائیل مشینیں علاقوں کو صاف کرینگی اور مطلوبہ چیزوں کو اٹھائینگی۔

ماضی میں روبوٹ کا استعمال صرف صنعتی اداروں تک محدود تھا، لیکن روبوٹس کی نئی نئی شکلیں سامنے آنے کے بعد ان کا استعمال بھی متنوع ہوتا چلاگیا۔ آج مختلف شکل وصورت کے حامل جدید ترین روبوٹس موجود ہیں۔ ایسے روبوٹ بنالیے گئے ہیں جو اپنے جسم کو تہہ کرلیتے ہیں اور پھر اصل حالت میں واپس آجاتے ہیں۔

ہاتھوں اور پیروں کے بل چلنے والے ، انسانوں کی طرح جذبات کا اظہار کرنے والے روبوٹ بھی وجود میں آچکے ہیں۔ علاوہ ازیں سانپ کی طرح رینگنے والے ، اچھل کود کرنے والے اور انسانوں سے بھی زیادہ تیزرفتار روبوٹ بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایسے روبوٹ بھی موجود ہیں جن کا اپنا انٹرنیٹ ہے۔ ذرا سوچیے اگر یہ تمام خصوصیات ایک ہی روبوٹ میں سماجائیں تو یہ مشین کس قدر کارآمد ہوگی اور مختلف شعبوں میں کیسی کیسی تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔

نئے سمارٹ فوزنز

نئے سمارٹ موبائل فونز اب لیپ ٹاپ کی ہائی ریزلوشن سکرین کے ساتھ آ رہے ہیں۔ اس طرح سمارٹ فونز کی نئی نسل، صرف فون ہی نہیں ہے بلکہ وہ بیک وقت ایک طاقت ور منی کمپیوٹر بھی ہے، ایک معیاری سٹل اور ویڈیو کیمرہ بھی ہے، ایک ڈیجٹل بک ریڈر بھی ہے، ایک جدید جی پی ایس بھی ہے جس سے آپ راستے معلوم کر سکتے ہیں اور اس کے سیٹلائٹ لنک کے ذریعے سڑکوں پر ٹریفک کی تازہ ترین صورت حال سے بھی باخبر رہ سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کلاک بھی ہے اور کلینڈر بھی۔ نئے سمارٹ فونز میں ٹی وی کی سہولت بھی موجود ہے اوران پر آپ اپنی پسند کے ٹی وی چینلزالائیو دیکھ سکتے ہیں۔ گویا ایک فون میں کئی ڈیجیٹل آلات کی خصوصیات کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ ان سمارٹ فوزنز میں مزید جدت پیدا کرنے کے لئے ماہرین دن رات کوشاں ہیں۔

لچک دار ای پیپر

آپ شائد اس نظریے لچک دار ای پیپر سے ضرور واقفیت رکھتے ہوں گے اور اس کا سب سے پہلے خیال فلم ’مائینورٹی رپورٹMinority Report‘ میں دیا گیا ہے اس کے بعد 1995ءمیں نیل سٹیفن کے ناول ڈائمنڈ ایج میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن آج کے تیز رفتار دور میں اس کو عملی جامہ پہنانے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں،دوسال قبل SONY نے 13.3انچ کا فلیکسیبل ای پیپر متعارف کروا کر اس فیلڈ میں تہلکہ مچانے کے لیے باقی کمپنیوں کو بھی دعوت دے ڈالی ہے اس پیپر کی موٹائی 150مائیکرون اور وزن صرف 20گرام ہے۔

اسی طرح کا ای پیپر تائیوان میں بھی تیار کیا گیا ہے جسے ایک مرتبہ نہیں بلکہ 260 مرتبہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ای پیپر کو آئی 2 آر کا نام دیا گیا ہے جو تائے وان کے انڈسٹریل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ای پیپر دکانوں میں لٹکے ہوئے مختلف سائنز اور پوسٹرز کی جگہ لے سکتا ہے۔ اسے ایک بار نہیں بلکہ 260 مرتبہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پیپر پر چھپے مواد کو محض ایک سوئچ کے ذریعے مٹایا جاسکتا ہے، جس کے بعد یہ دوبارہ قابل استعمال ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف رقم کی بچت ہوگی بلکہ کاغذ کے کم استعمال سے ماحول کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ آئی 2 آر ای پیپر پر تھرمل پرنٹر کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تھرمل پرنٹر وہی ہے جو فیکس مشینوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

خلاصہ کلام

اکثر تجریہ کاروں کا کہناہے کہ آج ہمارے زیر استعمال بہت سے سائنسی آلات آئندہ پانچ سے دس برسوں میں روزمرہ زندگی سے نکل جائیں گے اور ان سب کی جگہ لے لے گا ایک سمارٹ فون، جو کمپیوٹر سے لے کر گھر کے الیکٹرانک آلات کو کنٹرول کرنے والے ریموٹ تک کی جگہ استعمال کیا جانے لگے گا۔ کچھ توہم پرست مذہبی لوگ سائنس کی موجودہ ترقیوں کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ انسان ترقی کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے لیکن سائنسی علوم کے دانشور بجا طور پر کہتے ہیں کہ یہ تو نئے دور کی ابتداءہے۔ انسان نے جدید دور کی ابتداءمادی یعنی ہارڈوئیر سے کی تھی، اب اس کی انتہا روحانی ترقی یعنی ’سوف وئیر‘ سے ہوگی!!

مستقبل دکھانے والی فلمیں

کہتے ہیں فلمیں معاشرے کا عکاس ہوتی ہیں اور جو بدلاﺅ معاشرے میں دیکھتی ہیں اسی کو عکس کر لیتی ہیں، جیسے پہلے پہل بچوں کے ڈراموں میں اکثر دیکھا جاتا تھا کہ جن غائب ہوگیا یا کسی کا سر تن سے جدا ہوگیا اور دھڑ باتیں کررہا ہے، یہ سب کیمرے کی مرہون منت ہوا کرتا تھا، لیکن آج اس کو حقیقت کا روپ دیا جارہا ہے، ذیل میں ایسی ہی فلموں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں مستقبل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اب یہ لگنے لگا ہے کہ دنیا انہی فلموں کی بدولت یا تو بدل گئی ہے یا بدلنے کو تیار ہے۔

مائنوریٹی رپورٹ 2002ء

اداکار ٹام کروز کی ایک فلم جس میں خاصی پیشین گوئیاں کی گئیں مثلاً مائنوریٹی رپورٹ میں بغیر ڈرائیور کے کاریں چلتی ہیں۔ آج کل گوگل کمپنی ایسی ہی خودکار کاریں چلانے کی کوشش کر رہی ہے جو مختلف کام انجام دیں گی

بیک ٹو دی فیوچر، حصہ دوم 1989ئ

یہ بھی سائنسی فلموں کا مقبول سلسلہ ہے۔ اس حصہ دوم میں ہیرو اڑن تختوں پر سواری کرتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ چپس کو انگوٹھوں میں نصب دکھایا گیا اور فیشن ایبل نوجوان اڑتی جیبیں لیے ساتھ چلتے پھرتے ہیں۔فلم کی کہانی 2015ء پر مبنی ہے اور ابھی درج بالا تینوں پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ لیکن فلم میں بیان کردہ تین اور پیشین گوئیوں نے ضرور عملی جامہ پہن لیا۔ پہلی یہ کہ ریاست میامی کی بھی بیس بال ٹیم وجود میں آگئی۔ دوم ویت نام امریکی سیاحوں کا مرغوب سیاحتی مقام بن چکا۔ سوم یہ کہ وڈیوگیمز بے تار (وائرلیس) کنٹرولر سے کھیلی جاتی ہیں۔ بلکہ اب تو مائیکروسافٹ کارپوریشن ایسی اسکرین ایجاد کر رہے ہیں جن پر ہاتھوں کے اشاروں کے ذریعے کھیل کھیلے جا سکیں گے۔

سٹارٹریک: دی موشن پکچر 1979ء

سٹارٹریک امریکی سائنس فکشن فلموں کا مشہور سلسلہ ہے۔ ان فلموںمیں یہ دکھانے کی سعی ہوئی ہے کہ مستقبل کا انسان کیسے زندگی بسر کرے گا؟ خاص بات یہ کہ ان فلموں میں پہلے پہل سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور دستی کمپیوٹر دکھائے گئے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سیلولرفون بھی عام نہیں ہوئے تھے۔ یوں فلم کی پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔

اے سپیس اوڈیسی 1968ء

مشہور سائنس فکشن فلم جس کی کہانی سائنسی ادیب، آرتھرسی کلار ک کی تحریر کردہ تھی۔ اس فلم میں مستند سائنسی اصول بھی برتے گئے۔ تاہم فلم کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ہال 9000 نامی سپرکمپیوٹر متعارف کرایا گیا۔ یہی سپرکمپیوٹر ایک خلائی جہاز چلاتا اور دیگر متعلقہ کام انجام دیتا ہے۔ گو سائنس دان اب تک ہال 9000 جیسا باشعور سپرکمپیوٹر نہیں بنا سکے، لیکن انتہائی ذہین کمپیوٹر ضرور تخلیق کرنے میں کامیاب رہے۔ مثلاً آئی بی ایم نے ”ڈیپ بلیو“ نامی سپرکمپیوٹر بنایا جس نے 1992ءمیں شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کا سپروف کو کھیل میں شکست دے کر تہلکہ مچا دیا تھا۔اسی طرح جنوری 2012میں واٹسن نامی سپرکمپیوٹر نے ذہنی آزمائش کے مشہور انگریزی پروگرام، جیوپرڈی میں حصہ لیا۔ وہ یہ پروگرام جیتنے میں کامیاب رہا اور تمام ذہین و فطین انسانوں کو شکست دی۔ادھر جاپانی گھریلو کاموں میں مدد دینے والے روبوٹ ایجاد کر رہے ہیں۔ یہ روبوٹ برتن دھوتے، مہمانوں کو پانی پیش کرتے اور کپڑے دھوتے ہیں۔ گویا کمپیوٹر ہماری طرح باشعور نہیں ہوئے لیکن وہ مختلف انداز سے انسانوں کے کام آ کر بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ویسے کمپیوٹروں کو زیادہ سے زیادہ ذہین بنانے کے سلسلے میں تحقیق جاری ہے۔

فاربِڈن پلینٹ 1956ئ

یہ ان اولین امریکی فلموں میں سے ایک ہے جن میں روبوٹ دکھائے گئے۔ ان روبوٹوں میں سے ایک، روبی نامی روبوٹ انسانوں کے مختلف کام کاج کرتا تھا۔ یہ تب بڑا انوکھا تصور تھا لیکن آج ایسے روبوٹ عام ہوچکے۔ مثلاً جاپان میں آدم نما روبوٹ، واکامارو دستیاب ہے۔ یہ روبوٹ متفرق گھریلو کام کرتا ہے… گھر کی چوکیداری، بچوں کی دیکھ بھال، دوست بن جانا وغیرہ۔ اسی طرح ”رومبا“ نامی روبوٹ فرشوں پر جھاڑو لگاتا اور ٹاکی پھیرتا ہے۔ غرض فاربِڈن پلینٹ میں دکھائے جانے والے روبوٹ نے نصف صدی بعد حقیقت کا روپ دھار لیا۔

فرینکنسٹائن 1931ء

سائنس دانوں نے اب تک ”آب حیات“ دریافت نہیں کیا اور نہ ہی وہ کسی مردے کو زندہ کر سکے۔ یہی مشہور فلم، فرینکنسٹائن کا موضوع ہے۔ یہ فلم اسی نام کے ایک ناول پر مبنی ہے۔ فلم کا ہیرو ایک انسانی بِلا ہے جسے ایک سائنس دان مختلف انسانوں کے جسمانی اعضا ملا کر تیار کرتا ہے۔ اسی تصور کے بطن سے اعضا کا عملِ منتقلی پھوٹا اور عام ہوا۔ آج دنیا کے تمام ہسپتالوں میں اعضا کی منتقلی کے ہزارہا آپریشن روزانہ انجام پاتے ہیں۔ حقیقتاً سائنس و ٹیکنالوجی محض عملِ منتقلی سے کہیں آگے بڑھ چکی۔ اسی لیے ماہرین مصنوعی اعضا تخلیق کرکے ہزاروں انسانوں کو نئی زندگی بخش رہے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر