ایران امریکہ جنگ اور بھارت کی چالاکیاں ؟سنسنی خیز رپورٹ
18 جون 2019 (17:29) 2019-06-18

اگر امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کی تو عالمی امن کو ناقابل تلافی دَھچکا لگ سکتا ہے

امتیاز کاظم

ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین اور دوسرے نمبر پر بھارت ہے۔ ایران ان دونوں ممالک کو انتہائی مناسب قیمت پر تیل فراہم کر رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک ایرانی تیل کی خریداری کو بڑی اہمیت دیتے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوتی جا رہی ہے یا جان بوجھ کر پیدا کی جا رہی ہے اور یہ ہے ایران امریکہ تنازعہ۔

امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایرانی تیل کی خریداری بند کروا کے ایران کو بے دست وپا کیا جا سکے اور اس کی معاشی حالت کو دگرگوں کیا جائے اور اس ضمن میں سب سے پہلے وہ اپنے دوست بھارت سے اس بات کا خواہاں ہے کہ وہ ایرانی تیل کی خریداری فی الفور بند کر دے جب کہ بھارت کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل امر ہے کیونکہ اس کے تعلقات ایران کے ساتھ سیاسی، معاشی اور تجارتی بنیادوں پر عرصہ سے قائم ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جن میں سمندری بندرگاہ چاہ بہار کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بندرگاہ سے ایران اور افغانستان سمیت بھارت سنٹرل ایشیا کے چھ ممالک تک براہ راست تجارتی رسائی حاصل کر سکے گا جبکہ بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کو آپریشنل کر لیا ہے کیونکہ دو ماہ قبل بھارت نے اپنی پہلی شپمنٹ افغانستان بھیج دی ہے۔

دوسری طرف امریکہ کا دوغلامعیار یہ ہے کہ اُس نے چاہ بہار بندرگاہ کو ایران پر عائد پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے یعنی بھارت آزادانہ طور پر چاہ بہار کے ذریعے اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے جب کہ بھارت کی یہ سب سے پہلی غیر ملکی سمندری بندرگاہ ہے اور چونکہ بھارت ”اوبور“ (OBOR) ”ون بیلٹ ون روڈ“ میں چین کے ساتھ شامل نہیں یا دوسرے لفظوں میں امریکہ نے اسے شامل نہیں ہونے دیا لہٰذا انعام کے طور پر ایرانی بندرگاہ کو بھارت کے لیے پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اب جب کہ بھارت میں 17ویں عام انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور دُنیا کی بدقسمتی کہ دو بنیاد پرست کٹر جنونی حاکم امریکہ اور بھارت پر مسلط ہو چکے ہیں تو ایسے میں بھارتی نئی تشکیل شدہ کٹرجنونی مودی حکومت کے لیے یہ مشکل ہو گا کہ وہ امریکی مطالبے کو کیسے نظر انداز کرے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری بند کر دے جب کہ خام تیل کی مسلسل فراہمی بھارت جیسے ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ آئل ریفائنریز کو اگر مہنگا تیل ملتا ہے تو یقینا بھارت میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی جس سے نئی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی لیکن دوسری طرف امریکہ بھارت کو یہ باور کرا رہا ہے کہ پلوامہ حملے میں اقوام متحدہ کے اندر امریکہ نے بھارت کو سپورٹ کیا تھا لہٰذا اب ایران کے ایشو پر بھارت امریکہ کو سپورٹ کرے اور ایران سے تیل کی خریداری بند کر دے جو کہ اس نے ابھی تک نہیں کی بلکہ پچھلے دنوں بھارت نے تیل کی بھاری مقدار ایران سے خریدی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت سے متوقع نتائج نہ آنے پر بھارت کے جی ایس پی درجے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جو 5 جون سے لاگو ہو گا اور اس کے لیے بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ بھارت امریکہ کو اپنی منڈیوں تک مناسب رسائی فراہم کرنے کا یقین دلانے میں ناکام رہا ہے لہٰذا بھارت کا ترجیحی تجارتی ملک کا درجہ ختم کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی کچھ مخصوص برآمدات محصولات کی ادائیگی کے بغیر امریکہ جا رہی تھیں۔ امریکہ ہی نہیں بلکہ امریکہ کی حلیف خلیجی ریاستوں سے کیسے نبھائے۔ نہ صرف خلیجی ریاستوں سے بلکہ اسرائیل سے بھی تعلقات کشیدہ ہونے کا خطرہ موجود ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کا بغل بچہ ہے۔ بھارت عراق سے بھی بڑی مقدار میں تیل خرید رہا ہے اور سعودی عرب عراق کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جب کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں کم ازکم 70 لاکھ ہندوستانی شہری ملازمت کرتے ہیں۔ ایران سعودی تنازعہ اگر نازک صورت حال اختیار کرتا ہے تو بھارت اپنے آپ کو کہاں فٹ کرے گا؟ جب کہ اسرائیل بھی امریکہ کا اتحادی ہے یوں لگ رہا ہے جیسے امریکہ نے پوری دُنیا اور خصوصاً مسلم ممالک سے جنگ کا تہیہ کر رکھا ہے۔ مسلم ممالک سے تو امریکہ مسلسل حالت جنگ میں ہے۔ پرائے پیسے سے اور اتحاد بنا کر جنگ لڑنا امریکہ کا شوق بنتا جا رہا ہے۔ اب اس میں ایران کو بھی گھسیٹا جا رہا ہے اور خطے کے حالات کو مسلسل خراب کر کے جنگ کی طرف لایا جا رہا ہے۔ پلوامہ جیسا واقعہ بھارت میں ہی نہیں ہو رہا بلکہ امریکہ بھی اس میں شامل ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کے چار آئل ٹینکرز میں دھماکے ہوئے ہیں، ان میں سے دو سعودی عرب کے تھے جن کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان دھماکوں میں امریکہ ملوث ہے اور امریکہ اس کا الزام ایران پر لگا کر جنگ کے ماحول کو ہوا دینا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک لاکھ بیس ہزار فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے یقینا اس فوج کا خرچہ مشرق وسطیٰ سے لیا جائے گا بلکہ حصہ بقدر جُثہ کے مصداق خرچہ کچھ زیادہ ہی لیا جائے گا اور ان ممالک کو اپنے ہتھیار بیچے جائیں گے اور خوب منافع کمایا جائے گا یعنی دونوں ہاتھوں سے لوٹا جائے گا۔ امریکہ ایران کے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ آیئے اس کا جائزہ لیتے ہیں!

ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر کامیابی سے گامزن تھا جو کہ امریکہ یورپی ممالک سعودیہ اور اسرائیل کو کسی صورت گوارہ نہ تھا لہٰذا 2015ءمیں امریکہ سلامتی کونسل کے چار مستقل ارکان اور جرمنی سمیت ایران سے معاہدہ کیا گیا کہ یہ اسلامی مملکت اپنے جوہری پروگرام کو روک دے اور افزودہ یورینیم بنانا بند کر دے چنانچہ یہ معاہدہ ہو گیا اور امریکہ سمیت یورپی یونین اور سلامتی کونسل کے ارکان پر مشتمل ٹیم نے ایران کے متعدد دورے کر کے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام ”کیپ“ کر دیا ہے لیکن امریکہ نے گزشتہ سال اپنے آپ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا اور وجہ یہ بیان کی کہ ٹرمپ ایران سے مطمئن نہیں۔ اس بات کے لئے انہوں نے یورپی یونین کو بھی ساتھ ملانا چاہا، وہ نہ مانے تو اپنے آپ کو یک طرفہ طور پر معاہدے سے الگ کر دیا اور پابندیاں عائد کر دیں۔ ان پابندیوں سے اُس نے ایک طرف تو سعودیہ اور اسرائیل کو خوش کیا تو دوسری طرف اپنی سپر پاور کی دھاک بٹھانے کی بھی ناکام کوشش کی اور بھارت، چین سمیت آٹھ ممالک کو ایران سے تجارت بند کرنے کاکہا۔ اس کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی جس میں چھ ماہ کی توسیع کر دی اور پچھلے ماہ یہ مدت بھی ختم ہو گئی۔ دراصل امریکہ ایران کو گھٹنوں تک جھکانا چاہتا ہے اور اسے کسی صورت ایٹمی طاقت نہیں بننے دینا چاہتا۔ امریکہ نے یہی چال پاکستان کے ساتھ بھی چلی تھی لیکن وہ افغانستان میں پھنس گیا اور پاکستان کو خاموشی سے اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا موقع میسر آگیا لیکن ایران کا معاملہ کچھ مختلف صورت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ نے اپنے جنگی طیارے اور بحری جہاز خلیج روانہ کر دیئے جو کہ کشیدگی کو ہوا دینے کے لئے ایک اور قدم آگے بڑھانے کا کام ہے۔

دوسری طرف ایران نے بھی دھمکی لگا دی ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی احمقانہ قدم اٹھایا تو وہ ”آبنائے ہرمز“ کو بند کر دے گا، یاد رہے کہ یہ آبی سمندری گذرگاہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے اور دنیا کو سپلائی ہونے و الے تیل کا پانچویں سے بھی زیادہ حصہ اس گزرگاہ یعنی ”آبنائے ہرمز“ سے گزرتا ہے۔ کیا امریکی بہانے بازی اور پاگل پن کی وجہ سے دنیا تیسری جنگ عظیم کے دھانے پر تو نہیں پہنچ گئی؟ تاہم زبانی طور پر امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے روسی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد بیان دیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا لیکن عملی اقدامات کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں کیونکہ ٹرمپ جیسے انسان سے کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ وہ صدر ہے جو پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتا ہے۔ سعودی ایران تنازعہ کو اگر دیکھا جائے تو اس میں یمن کا ذکر لازم ہے کیونکہ یمن کی حوثی ملیشیا سعودی عرب کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی ہر طرح سے امداد کر رہا ہے جب کہ ایران کا مو¿قف اس بات کی نفی کرتا ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں سوائے اس کے کہ دنیا کا امن داﺅ پر لگ جاتا ہے۔ بے گناہ انسان مارے جاتے ہیں۔ معیشت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ اسی لیے ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکہ کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں لیکن دلیل اور منطق کے ساتھ بات ہو گی، ہم کسی قسم کا حکم ماننے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ بات چیت غیرمشروط ہو گی اور ایران کے میزائل پروگرام کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے گا۔ اگر مذاکرات ہی کرنے ہیں تو کم ازکم عالمی قوانین کا امریکہ احترام کرے کیونکہ ایران کے مسافر بردار طیاروں کو عالمی ہوائی اڈوں پر ایندھن فراہم نہیں کیا جارہا، یہاں تک کہ انقرہ میں ایرانی جہاز میں ایندھن مارکیٹ سے نقد منگوا کر بھرا گیا۔

دوسری طرف بھارت اور امریکہ گٹھ جوڑ کچھ نرم پڑرہا ہے کیونکہ بھارت کی نئی منتخب کٹرجنونی مودی حکومت کے لیے یہ آزمائش سر پر آپڑی ہے کہ وہ امریکہ کی بات کو ٹال بھی نہیں سکتا اور مان بھی نہیں سکتا۔ یہ بھارت کے منہ میں چھپکلی والی بات ہے نہ اُگل سکتا ہے نہ نگل سکتا ہے۔ تیل بھارت کی بنیادی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر یہ مہنگا ملے گا تو اس کی معیشت متاثر ہو گی جو کہ فی الحال نئی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں جب کہ امریکہ بھارت پر دباﺅ بڑھا رہا ہے اور ایران پر بھی، تاہم اگر سعودیہ تحمل کا مظاہرہ کرے تو بات مذاکرات کی میز پر حل کی جا سکتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر