زنانہ....فواد چودھری
18 جون 2019 2019-06-18

میں سمجھتا ہوں کہ میں اتنا بدطینت وبدخصلت نہیں ہوں، کہ کسی کے بارے میں ذاتیات پہ اتر آﺅں، اور خصوصاً وہ بھی عورت ذات، جو ہرمجلس میں آتے ہوئے سلام کرنے کے بجائے ”انداز شاعرانہ“ اپناتے ہوئے آداب بجالاتی ہیں، کہ بے ساختہ بغیر سنے دادکے بجائے فریاد کرنے کو دل کرتا ہے۔ کہ وہ کس قدر کسرنفسی سے کام لے رہی ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بطور وزیر اطلاعات کے فواد چودھری بہتر تھے یا محترمہ فردوس عاشق اعوان ، میں دونوں کو ہم وزن اس لیے نہیں کہتا کہ حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا، کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

مجھکم علم و کج فہم کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ”عاشق“ اُن کا تخلص ہے یا اُن کے ”عاشق “ اُن کے ”میاں صاحب“ کا نام ہے، قارئین میں غلطی سے میاں لکھ بیٹھا ، حالانکہ مجھے سرتاج لکھنا چاہیے تھا، میں ان سے دست بستہ معافی کا خواستگار ہوں سنا ہے، وہ تو اربوں روپے کے ہرجانے کے دعوے ”آزاد عدلیہ“ میں کردیتی ہیں ، جبکہ موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب آصف سعید کھوسہ صاحب کا سارا زور ”گواہان“ پر ہے، کہ ہرعدالت میں جھوٹے گواہ مل جاتے ہیں ، جیسے تحریک انصاف کے ”غیرمنتخب“ گواہان ہیں۔ کسی بھی ملک میں انتخابات اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے قانون سازی کریں، مگر یہ دنیا کی ایسی کابینہ ہے، کہ جس کے سربراہ پہ بھی ELECTEDکی بجائے SELECTEDکا الزام لگایا جاتا ہے، میں یہ بات سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار صاحب ، جوکہ وزیراعظم عمران خان کے دوست ہیں، ان کی دی ہوئی ”شہہ“ پہ کررہا ہوں، کہ یہ بھی حقوق انسانی کا بنیادی حق ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے کسی بھی فیصلے پہ تنقید وتبصرہ کرسکتا ہے۔ مگر افسوس تو اس نااہلی کا ہے کہ یار لوگوں نے تنقید کے بجائے باہوں اور انگلیوں کا استعمال شروع کرکے اخلاقیات سے ہی گر گئے ہیں، کبھی ملک کے مستند مفتی مولانا مفتی منیب الرحمن ، اور چودھری فواد ، اور کبھی رانا ثناءاللہ، اور معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان ، زبان بازی، کو زبان درازی تک بڑھا کر بات ہی بڑھا دیتے ہیں، کہ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔

میں ان سوچوں میں گزشتہ کئی روز سے گم ہوں کہ پیپلزپارٹی ہی کے وزیر جیل خانہ جات، ملک حاکمین خان نے فرمایا تھا، کہ میں ملک میں جیلوں کا جال بچھا دوں گا، میں حیران ہوں، کہ وہ کیسے دوراندیش درویش تھے، کہ وہ پاکستان کی مستقبل کی تاریخ پہ بھی نظر رکھتے تھے، کیونکہ پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا تھا، کہ وہ جیل بھرو تحریک شروع کرکے پاکستان بھر کی جیلیں بھردیں گے۔ اب آصف علی زرداری، میاں محمدنواز شریف، حمزہ شہباز شریف، اور پھر مریم نواز شریف کا بھی سنا ہے کہ انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا مجھے تو شک ہے کہ پورے پاکستان کو جیل کا درجہ نہ دے دیا جائے یا پھر کہیں مودی کو مذاکرات کے نام پہ اپیل کرکے ہندوستانی جیلیں نہ مانگ لی جائیں، ان سے باہمی مفادات ، کو ترقی ملنے کے ساتھ ”تجارتی تعلقات“ بھی بڑھیں گے۔

قارئین ، میں بات کررہا تھا، کہ لغوباتوں کو اس قدر طول نہیں دینا چاہیے، کہ عدالتوں کے انصاف میں بھی جھول نظر آنا شروع ہوجائے اور معاون خصوصی ، عدالتوں کے بارے میں بھی شیخ رشید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پیش گوئی دینا شروع کردیں، اور پھر وہ واقعی سچ بھی ثابت ہونا شروع ہو جائے۔ اب مجھے نہیں معلوم رانا ثناءاللہ جنہوں نے ایک دفعہ پنجاب اسمبلی کے فلور پہ رکن پنجاب اسمبلی ، جوکبھی کسی زمانے میں علامہ اقبالؒ کے نواسے کی اہلیہ تھیں ،شاید ان کا نام انبساط تھا، ان سے وقت مانگ لیا تھا اسی لیے تو فردوس عاشق اعوان کا یہ بیان بعید ازقیاس نہیں کہ رانا ثناءاللہ مجھے ”باجی“ کہہ کر چھیڑتے ہیں، حالانکہ انہیں رشتوں کے احترام کا نہیں پتہ، مگر میرا خیال ہے، کہ ”فلم باجی“ بنانے والی اداکارہ میرا تو آئے روز گورنر ہاﺅس پہنچی ہوتی ہیں لگتا ہے کہ فلم سنسر بورڈ کی روشن خیالی کی وجہ سے تو پورے پاکستان میں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے، اب تو علاقہ غیر بھی اس سے محفوظ نہیں رہا.... مگر پھر بھی اپوزیشن والے بضد ہیں، کہ احتسابی نعرے لگانے، نیب کی سرپرستی کرنے، ملک کی طاقتور طاقتوں سے پیار کی پینگیں بڑھانے، اور ہرمخالف کو اندر کرنے کی ڈینگیں مارنے کے بجائے، ہم دونوں کو فی الحال ضرور اس پیشکش پر عمل کرنا چاہیے

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی

محبت کی راہوں پہ آکے تو دیکھو

وفاﺅں کی ہم سے توقع نہیں ہے

مگراک بار آزما کے تو دیکھو

زمانے کو تو اپنا بنا کر تو دیکھا

ہمیں بھی تو اپنا بناکے تو دیکھو

جفائیں بہت کیں، بہت ظلم ڈھائے

کبھی اک نگاہ کرم اس طرف بھی

مگر جہاں منصفی کی بجائے منتقمی جگہ لے لے، جہاں بغیر ثبوت کے ہرایک کو چور سمجھا جائے، یہ پولیس مزاجی تو جناب جہانگیر ترین میں ہونی چاہیے جن کے والد صاحب، محکمہ پولیس میں تھے، جبکہ آپ کے یعنی عمران خان تو ”سول انجینئر“ تھے، اور تعمیراتی کام کے ماہر تھے، اس لیے عمران خان کو نئے پاکستان بنانے کے لیے تعمیرکی تدبیر کرنی چاہیے جبکہ آج کل تبدیل شدہ ماحول میں تو بڑی سے بڑی بلڈنگ کو بھی چند سیکنڈوں میں ”مسمار“ کیا جاسکتا ہے۔

مگر کروڑوں عوام کو قائداعظم ؒ کے بنائے ہوئے پرانے پاکستان سے پیار ہے، اللہ یہ پیار قائم رکھے ، یہ نہ ہوکہ لوگ وطن سے نفرت کرنے لگیں ، جبکہ حضور کا فرمان ہے کہ وطن سے پیار ایمان کی نشانی ہے۔


ای پیپر