عمرہ نامہ ! ....(چوتھی قسط)
18 جون 2019 2019-06-18

اپنے کالم ” عمرہ نامہ “ کی تیسری قسط میں،میں عرض کررہا تھا کہ کِس طرح اُس وقت کے صدر زرداری نے مجھے ملاقات کی دعوت دی اور میرے ساتھ اِس پہلی ملاقات کا آغاز اُنہوں نے اِن الفاظ سے کیا کہ ”شہید بی بی کے مقابلے میں ہماری کوئی حیثیت نہیں تھی، مگر ہم نے اِرادہ کیا ہم اُن کے ساتھ شادی کریں گے، اللہ نے ایسے حالات پیدا کردیئے دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور ذوالفقار علی بھٹو جو اپنے دورمیں عالم اسلام کے ایک بڑے لیڈر مانے جاتے تھے کی بیٹی کے ساتھ ہماری شادی ہوگئی، پھر ہم جیل میں تھے ایک بار وہاں ایک پولیس افسر نے ہم سے بدتمیزی کی،ہم نے اُس سے کہا ایک وقت آئے گا میں اِس ملک کا سربراہ ہوں گا اور تم یہاں سے فرار ہوچکے ہو گے، (وہ شاید سابق آئی جی سندھ رانا مقبول کی بات کررہے تھے جو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری حکومت قائم ہونے کے فوراً بعد ملک سے چلے گئے تھے، پھر پنجاب میں نون لیگ کی حکومت بننے کے بعد جب اُن میں تھوڑا احساس تحفظ پیدا ہوا تو واپس آگئے تھے) زرداری مسلسل بولتے چلے جارہے تھے میں خاموشی سے اُنہیں سن رہا تھا، پھر فرمانے لگے ”ہم جیل میں تھے ہم نے اِرادہ کیا ”تیسری بار بی بی صاحبہ کو وزیراعظم بنائیں گے، اُن کی زندگی نے وفا نہیں کی ورنہ آج وہ وزیراعظم ہوتیں، یوسف رضا گیلانی اُنہی کا وزیراعظم ہے، ....ہم جیل میں تھے ہم نے سوچا جنرل مشرف کو اُس کے عہدے پر نہیں رہنے دیں گے، ہم نے پلاننگ کی، پہلے اُس کے دوستوں کو اپنا دوست بنایا، پھر ایسے حالات پیدا کردیئے وہ عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوگیا، اب ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں وہ شہید بی بی کا قاتل ہے اُسے سزادیں ۔ ہم کہتے ہیں اُس کے لیے اِس سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے جس شخص کو کئی برسوں تک بے گناہ ہونے کے باوجود اپنی اندھا دھند طاقت کا استعمال کرکے صرف سیاسی طورپر ”کمپرومائز“ نہ کرنے کے نتیجے میں اُس نے جیل میں بند رکھا آج وہ اُس کرسی (صدارت) پر بیٹھا ہے؟ انہوں نے اس موقع پر اپنا یہ معروف جملہ بھی دہرایا ” جمہوریت بہترین انتقام ہے“ ....خیر میں حیران ہورہا تھا وہ یہ سب باتیں مجھ سے کیوں کررہے ہیں؟ میرا ان باتوں سے کیا تعلق ہے؟۔ وہ شاید میری حیرت کو بھانپ گئے تھے، وہ ذرا سا مسکرائے، تھوڑا ڈرائی فروٹ میری پلیٹ میں ڈالا اور فرمایا ”ہم نے زندگی میں جو سوچا، جوچاہا، جو ارادہ کیا، جو دعا کی وہ سب پالیا، اب یہ کیسے ہوسکتا ہے ہم یہ ارادہ کریں ہم نے آپ کو اپنا دوست بنانا ہے، اور ہم اپنے اس ارادے میں کامیاب نہ ہوسکیں؟“میں اُن کی بات سُن کر مسکرادیا ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنی لمبی تمہید وہ صرف مجھے اپنا دوست بنانے کے لیے باندھ رہے ہیں۔ مجھے لگا یہ شخص بڑا چالاک آدمی ہے، یہ مجھے شاید سمجھ گیا ہے، جب ”لفافہ“ کام نہیں آیا تو یہ مجھے ایک خاص طریقے سے قابو کرنے کی کوشش کررہا ہے، یا اتنے بڑے عہدے پر ہوتے ہوئے اتنی عاجزی دکھا رہا ہے کہ میں اب یہاں سے یہ فیصلہ کرکے اُٹھوں کہ آئندہ اُس کے خلاف ایک لفظ میں نے نہیں لکھنا،....میں نے اپنے اِس احساس یا جذبات پر تھوڑا قابو پایا، میں نے عرض کیا ”آپ بحیثیت صدر پاکستان اچھے کام کریں گے جو ملک اور عوام کے مفاد میں ہوں گے، خصوصاً اپنی سابقہ شناخت (مسٹر ٹین پرسینٹ) سے جان چھڑوالیں گے، اور اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی ملک وعوام کے بہترین مفاد میں کام کرنے کی ہدایت یا حکم جاری کریں گے، اور وہ اس پر عمل بھی کریں گے تو میں آپ کی ”چاہت“ کے بغیر ہی آپ کا دوست بن جاﺅں گا، اُس کے بعد کچھ سیاسی وفوجی معاملات پر ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو ہوئی، میں نے اُن سے اجازت چاہی، کیونکہ اس دوران ڈاکٹر قیوم سومرو کمرے میں داخل ہوکر اُنہیں اگلی

میٹنگ کے بارے میں بتانے لگے جو ہماری ملاقات کی وجہ سے بیس منٹ لیٹ ہوچکی تھی، شاید پاکستان میں تعینات ہونے والے کچھ ممالک کے نئے سفارتکار تھے جنہوں نے اپنے تقرر نامے صدر مملکت کو پیش کرنے تھے، میں رخصت ہونے لگا اُنہوں نے کچھ کتابیں مجھے دیں، میں نے ازرہ مذاق کہا ”یہ وہ کتابیں تو نہیں جو آپ خود نہیں پڑھنا چاہتے“۔ ایک زبردست قہقہہ انہوں نے لگایا اور بولے ”نہیں یہ وہ کتابیں ہیں جو میں پڑھ چکا ہوں اور میں چاہتا ہوں آپ بھی پڑھیں“۔ ....میں نے واپس آکر وہ ”گفٹ پیک“ کھولا تو اس میں کچھ ایسی کتابیں تھیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی اور شہادت پر لکھی گئی تھیں، .... میں نے سوچا، بلکہ مجھے اب بُرا لگ رہا تھا کہ میں ”خالی ہاتھ“ اُن سے ملنے چلے گیا ، میں بھی کوئی پھول یا کوئی کتابیں وغیرہ لے جاتا۔ کچھ ایسی کتابیں جن میں کرپشن وغیرہ نہ کرنے کے کچھ فوائد وغیرہ لکھے ہوتے ....زرداری مجھے ایوان صدر کی لفٹ تک چھوڑنے آئے، بڑی گرمجوشی سے مصافحہ کیا، اور فرمایا ”جلد دوبارہ ملاقات ہوگی“ ،....اُن کی اس عاجزی وانکساری سے میں شاید اِس لیے بھی متاثر ہوگیا کہ اُن کے روایتی سیاسی حریف شریف برادران کے تکبر سے میں اچھی طرح واقف تھا، خصوصاً اُن کی منتقم مزاجی تو عالمی سطح پر مشہور ہے۔ وہ جب حکمران بنتے ہیں ان کی گردنوں میں سریا اللہ جانے کہاں سے آجاتا ہے؟ اُن کے بارے میں یہ تاثر یقیناًدرست ہے وہ جب حکمران ہوتے ہیں ان کا رویہ کچھ اور ہوتا ہے، جب حکمران نہیں ہوتے اتنے ”مسکین“ بن جاتے ہیں، یا خود کو اتنا مظلوم بناکر پیش کرتے ہیں ان پر باقاعدہ ترس آنے لگتا ہے، حتیٰ کہ بطور حکمران جو مظالم عوام پر انہوں نے ڈھائے ہوتے ہیں وہ بھی آنکھوں سے کوسوں پرے چلے جاتے ہیں، یہ اصل میں اس خاندان کی ”فنکاری“ ہے جس سے اب تک وہ بھرپور فائدہ اُٹھارہے ہیں، ویسے تو پاکستان کے عوام اچھے خاصے سمجھ دار ہوگئے ہیں مگر اللہ جانے کرپٹ اور ظالم حکمرانوں یا سیاستدانوں کی باتوں، نعروں یا جھوٹے دعوﺅں کے چُنگل میں بار بار پھنسنے کو”کارثواب“ کیوں سمجھتے ہیں؟۔ اِس معاملے میں اُن کی ”عقل“ اللہ جانے کہاں چلی جاتی ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر