پراپرٹی پسند پولیس افسرکا تازہ ترین دُکھ!
18 جولائی 2020 2020-07-18

آج کل مختلف سیاسی و انتظامی تبدیلیوں کی افواہیں گرم ہیں، سیاسی لحاظ سے پنجاب میں تبدیلی کم ازکم مجھے ایک افواہ ہی لگتی ہے ، ....ایک افواہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کی ہے، سُنا ہے اِس عہدے کے دوبارہ حصول کے لیے یا یوں کہہ لیں اِس عہدے کو دوبارہ ”ڈس گریس “ کرنے کے لیے سابق آئی جی سندھ اور موجودہ آئی جی موٹروے جنہیں ایک متنازعہ اورموقع پرست پولیس افسر سمجھا جاتا ہے بڑے سرگرم ہیں، مبینہ اطلاعات یہ ہیں اس مقصد کے لیے وہ اِس ملک کے ”اصل مالکان“ اور ایک پراپرٹی ٹائیکوں کے تلوے چاٹنے میں اتنا مصروف رہتے ہیں دفتر بھی آج کل کم ہی جاتے ہیں، اگر اُنہیں ہی آئی جی پنجاب لگانا ہے تو موجودہ آئی جی اُن سے کہیں بہتر ہیں۔ البتہ پچھلے دنوں مجھے کسی نے بتایا اُنہوں نے ایسے”تگڑے پولیس افسر“ کو اپنا ”مشیرخاص“ مقرر کررکھا ہے جومختلف حوالوں سے اتنا بدنام ہے کوئی ”فرشتہ “ اُس کے ساتھ جڑ جائے وہ بھی بدنام ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، اس تگڑے پولیس افسر (ڈی آئی جی) اوراس کے اُس جیسے ایک ”کارخاص“ کی کچھ ”وارداتیں“ وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں آئیں اُنہوں نے فوری طورپر اِن دونوں کو پنجاب سے نکال کر مرکز بھیج دیا، لاہور سے باہر رہنا اس ”تگڑے پولیس افسر“ کی موت ہے، کیونکہ لاہورمیں جائز ناجائز طریقوں سے بنائی اور ہتھیائی گئی کمرشل اور رہائشی پراپرٹی کی نگرانی یا نگہبانی وہ صرف لاہور میں بیٹھ کر ہی کرسکتا ہے، لاہور سے وہ باہر چلا جائے یہ پراپرٹی ”بچے“ دینا بند کردیتی ہے، مرکز میں اپنے تبادلے کے بعد اُس نے چھٹی لے لی۔ اُس کے بعدپنجاب واپسی کے لیے ایڑی چوٹی کا پورا زورلگانا شروع کردیا، اِس مقصد کے لیے بڑے بڑے طاقتوروں کو اس نے استعمال کیا پر کامیاب نہ ہوا، ....اِک روز وزیراعظم عمران خان کینسر کی آخری سٹیج میں مبتلا اپنے دیرینہ دوست نعیم الحق کی عیادت کے لیے گئے تو اُنہوں نے اس تگڑے پولیس افسر کے واپس پنجاب تبادلے کی چٹ وزیراعظم کو تھما دی، باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وہ چٹ پڑھے بغیر سٹاف کو دے دی، اور کہا یہ کروادینا، اُنہوں چٹ پر لکھا نام نہیں پڑھا،وہ پڑھ بھی لیتے اُنہیں شاید پتہ ہی نہ چلتا یہ وہی ڈی آئی جی ہے جسے خود انہوں نے پنجاب سے نکالا تھا، .... اِس طرح وہ پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہوگیا، وزیراعظم کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے وہ سفارش کم مانتے ہیں، نعیم الحق کو وہ شاید اس لیے انکار نہ کرسکے ان کی زندگی ختم ہورہی تھی، ان حالات میں بدترین دشمن کا کہا بھی نہیں ٹالا جاسکتا، نعیم الحق تو پھر اُن کے بااعتماد دوست تھے، البتہ نعیم الحق سے اس تگڑے پولیس افسر کی جنہوں نے یا جس کسی نے سفارش کی ظاہر ہے وہ ایماندار نہیں ہوسکتے، اُنہیں بھی جلد احساس ہو جائے گا یہ تگڑے پولیس افسر حضرت علیؓ کے اِس قول پر حرف بہ حرف پورا اُترتا ہے ”تم جس پر احسان کرو اُس کے شرسے بچو“....وہ جب ایس پی تھا اُس وقت کے دیانتدار آئی جی سے کسی قلم کار نے کسی معاملے میں اُس کی سفارش کی، آئی جی فرمانے لگے” میں آپ کو ذاتی طورپر جانتا ہوں آپ ایک شریف اور دیانتدارانسان ہیں، مگر آپ نے ایسے پولیس افسر کی سفارش کی جس کے بعد مجھے آپ کی شخصیت کچھ مشکوک سی لگنے لگی ہے“۔ یہ بھی اُس پولیس افسر کے بارے میں اُنہوں نے فرمایا ” یہ طوطا چشم ہے“بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے،

سو ایسے پولیس افسر کے بارے میں جب مجھے پتہ چلا موجودہ آئی جی کا وہ ”مشیر خاص“ہے، مجھے دُکھ ہوا، اِس کا اظہار اپنے مخصوص انداز میں ، میں نے کردیا، پر اُس وقت مجھے باقاعدہ آگ لگ گئی جب سی پی او میں تعینات کچھ پولیس افسروں نے مجھے بتایا آئی جی پنجاب اُسے لاہور کا ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لگانا چاہتے ہیں، .... اِس عہدے (ڈی آئی جی انویسٹی گیشن) کو مشتاق سکھیرے نے جتنا گندہ کردیا تھا، ایک گریس فل پولیس افسر ڈاکٹر انعام وحید نے بے شمار مظلوموں کی داد رسی کرکے اُس کا ازالہ کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ جس وجہ سے اُنہیں ہٹایا گیا یہ ایک شرمناک داستان ہے، یہ بھی کسی روز میں لکھ دُوں گا۔ اب اِس عہدے پر اِس پولیس افسر کا تعینات ہونا ایسے ہی تھا جیسے ایک بڑا ڈاکو آکر اِس عہدے پر براجمان ہوجائے، سو میں نے اِس متوقع تقرری پر نہ صرف احتجاج کیا بروقت وزیراعظم عمران خان کو بھی اس سے آگاہ کردیا، .... اب پتہ چلا ہے اِس پولیس افسر کو آئی جی نے صرف ایک آدھ مقصد کے لیے استعمال کیا، وہ ہرگز اُن کا ”مشیرخاص“ نہیں تھا، البتہ اپنی پرانی عادت کے مطابق وہ جہاں بیٹھتا یہی تاثر دیتا وہ آئی جی کے بڑے قریب ہے اور آئی جی صرف اُسی کے مشوروں کے محتاج ہیں، ایسا ہرگز نہیں تھا، ورنہ اپنی خواہش اور شدید ترین کوشش کے مطابق وہ اُسی روز ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور لگ جاتا جس روز ایک گریس فل پولیس افسر کو اس عہدے سے ہٹایا گیا تھا، ....اب ہویہ رہا ہے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور نہ لگنے کا غصہ وہ اپنی روایتی فطرت یا طبیعت کے مطابق ایسے نکال رہا ہے کچھ خفیہ اور دفتری معلومات اپنے جیسے کچھ صحافیوں کو اُس نے دینا شروع کردی ہیں۔ خصوصاً لاہور پولیس کے خلاف جس انداز میں وہ ”سازشوں“ میں مصروف ہے مجھے یقین ہے اُس کا اندازہ ایک باخبر پولیس افسر (سی سی پی او لاہور) کو اچھی طرح ہوگا ۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور اب شہزاد ہ سلطان نامی پولیس افسر کو لگایا گیا، فی الحال ان کی شہرت یا بدنامی صرف یہی ہے وہ ایک متکبر اور ماتحت دشمن سابق آئی جی مشتاق سکھیرے کے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹررہے اُن سے گزارش ہے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن وہ لوگوں کے ساتھ ویسی بدسلوکی نہ کریں جیسی مشتاق سکھیرا کرتا رہا، لاہور کے ڈی آئی جی آپریشن اشفاق خان انتہائی محنتی پولیس افسر ہیں، خصوصاً بددیانتی کا کوئی ایک چھینٹا اُن کے دامن پر دکھائی نہیں دیتا، مظلوموں کی داد رسی کرنے میں بھی کوئی اُن کا جوڑ نہیں، میں اپنے محترم بھائی ذوالفقارحمید (سی سی پی اولاہور) سے کہہ رہا تھا وہ خوش قسمت ہیں اشفاق خان اُن کی ٹیم کا حصہ ہیں، اپنے کام سے کام رکھنے والا ایسا نفیس پولیس افسر جو کسی کے خلاف سازش کا تصور بھی نہیں کرتا، اِسی عہدے سے پہلے جب اُنہیں ہٹایا گیا اہل دل کو اُس کا بہت دُکھ ہوا تھا، اُس کا ازالہ یہ بنتا تھا اُنہیں کہیں آرپی او تعینات کیا جاتا، پر وہ صبر شکروالے انسان ہیں، اُن کے نزدیک کردار اور کام کی اہمیت ہے۔ عہدوں کی نہیں، .... نئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان ان سے سینئر ہیں یا جونیئر مجھے اس بارے میں معلوم نہیں، پر ایک بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں عاجزی وانکساری میں اشفاق احمد خان کی وہ ”شاگردی“ اختیار کرلیں اُن کی دنیا و آخرت دونوں سنورسکتی ہیںاور اگر اپنے نام کے مطابق وہ ”شہزادہ “یا”سلطان “بن کر رہے پھر ہم ”فقیروں “ کے کمالات وہ خود دیکھ لیں گے۔!!


ای پیپر