شہباز شریف کی منی لانڈرنگ سے متعلق مزید انکشاف کرونگا :شہزاد اکبر
18 جولائی 2019 (22:29) 2019-07-18

لاہور:وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ایک ہفتے بعد شہباز شریف کی منی لانڈرنگ سے متعلق مزید انکشافات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بتاﺅںگا کن کن لوگوںنے ان کےلئے منی لانڈرنگ کی، شہباز شریف قوم کو گمراہ نہ کریں اور داماد علی عمران کو ادا کی گئی 6کروڑ روپے کی رقم کا حساب دیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزا د اکبر نے مزید بتایا کہ شہباز خاندان کی جو جائیداد اٹیچ کی گئی وہ ان کے جدی نہیں بلکہ ٹی ٹی کے پیسوں سے بنائی گئی،ہمارا مقصد یہ نہیں کہ یہ جیلوں میں رہیں اور ہم ان پر پیسا خرچ کریں، جتنا پیسا لوٹا ہے واپس کریں اور ہماری جان چھوڑیں، شہباز شریف نے شعبدہ بازی کی اور ان کی پریس کانفرنس میںگفتگو جذبات سے بھری تقریر کے سوا کچھ نہیں تھی، انہیں برطانی اخبار کے خلاف ہتک عزت کا دعوی کرنا چاہیے۔

90شاہراہ قائد اعظم پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل اور شوکت بسرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے نوید اکرام نے عدالت میں علی عمران کا کردار بتایا، اس نے اپنی بدعنوانی میں علی عمران کے ملوث ہونے کا برملا اعتراف کیا، چیک سے ادائیگی نوید اکرام نے کی جبکہ پاور آف اٹارنی علی عمران کے نام کی تھی، نوید اکرام کے معاملے میں شہباز شریف کا انصاف سمجھ نہیں آیا، دو لوگوں نے چوری کی لیکن ایک کی چھترول بھی کی اور گرفتار بھی کروادیا لیکن دوسرے کو فرار کروا دیا کیونکہ وہ داماد تھا، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور علی عمران کی امپائر ٹی ٹیز پر کھڑی ہے۔علی عمران، فرخ رشید اور نوید اکرام کا بدعنوانی میں گٹھ جوڑ رہا جو ملک چھوڑ کر مفرور ہوچکا ہے، نوید اکرام ایرا کے پیسے سے زمین کیسے خرید رہا تھا، 13 کروڑ روپے ادائیگی سے زمین خریدی گئی لہٰذاشہباز شریف قوم کو گمراہ نہ کریں اور 6 کروڑ روپے کا حساب اپنے داماد سے لیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی پریس کانفرنس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پورے ٹبر کی چوری پکڑی گئی، شہباز شریف کے خاندان نے 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی منی لانڈرنگ کی اور ان کے خاندان کو بذریعہ ٹی ٹی کروڑوں روپے بھیجے گئے ، حمزہ، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور علی عمران کے نام رقوم بھیجی گئیں، شہباز شریف خاندان کی جو چوری پکڑی گئی اس کا وہ جواب نہیں دے رہے، شہباز شریف کی ساری جائیداد ٹی ٹی کے ذریعے بنائی گئی ،جو گھر اٹیچ کیے گئے وہ آپ کے جدی نہیں ٹی ٹی کے پیسوں سے بنائے گئے اور ہمارے پاس ٹی ٹی کا تمام ریکارڈ موجود ہے جس سے زمینیں،گھر اور گاڑیاں خریدی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ شہباز شریف نے مجھ سے وعدہ کیا تھا برطانوی عدالت میں مقدمہ کروں گا، مجھے برطانیہ کی عدالت میں گھسیٹیں گے ،اس سے پہلے آپ نے وعدہ کیا تھا زرداری کوگھسیٹیں گے لیکن اب آپ ان کے ساتھ خود گھسٹ رہے ہیں۔آپ سے پھر کہتا ہوں کہ میرے خلاف لندن میں مقدمہ کریں، اگر لیگل ایڈ کی کمی ہے تو میں وکیل بھی دوں گا۔آئندہ ہفتے شہباز شریف کی منی لانڈرنگ سے متعلق مزید انکشافات کروں گا اور بتاﺅں گا کہ کن کن لوگوںنے ان کےلئے منی لانڈرنگ کی ۔انہوںنے مزید کہا کہ شہباز شریف صاحب ہم آپ سے ایرا فنڈز سے کی گئی صرف تین ادائیگیوں کا پوچھ رہے ہیں اس کا جواب دے دیں، قوم کو گمراہ نہ کریں،ہم ا دائیگیوں کا پوچھ رہے ہیں جو حکومت پنجاب کے ارتھ کوئیک ریلیف اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا)سے کی گئیں۔

شہزاداکبر نے بتایا کہ 6 ستمبر 2012 کو 2کروڑ روپے کی پہلی ادائیگی کی گئی، دوسری ادائیگی ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی مارچ 2013 میں کی گئی، تیسری ادائیگی دو کروڑ 70 لاکھ روپے کی جولائی 2011 میں کی گئی، تینوں ادائیگیوں کی رقم ملا کر 6 کروڑ روپے بنتی ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ علی عمران کنٹریکٹر تھا نہ سب کنٹریکٹر، یہ سیدھا سیدھا ڈاکہ تھا۔انہوں نے کہا کہ منی لامڈرنگ سے نصرت شہباز نے ڈونگا گلی میں گھر خریدا، حمزہ شہباز کا جوہر ٹاﺅن کا گھر ٹی ٹیز سے خریدا گیا،حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور علی عمران کی ایمپائر ٹی ٹیز پر کھڑی ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ احتساب سے ملک بدنام نہیں ہورہا بلکہ پتہ چلتا ہے کہ نظام نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو کور اپ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، اگر اینٹی کرپشن کارروائی کررہا تھا تو 2016 سے 2018 تک علی عمران کا نام کیوں نہیں سامنے آیا؟ نیب نے اینٹی کرپشن سے اس کیس کو لیا تو سارا معاملہ کھل کر سامنے آیا۔نوید اکرام پلی بارگین کرچکا ہے اور علی عمران مفرور ہے، قانون کے مطابق اس کی جائیداد ضبط ہوگی اور ریکوری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ یہ جیلوں میں رہیں اور ہم ان پر پیسا خرچ کریں، جتنا پیسا لوٹا ہے واپس کریں اور ہماری جان چھوڑیں، زیادہ تر مطلوب افراد برطانیہ اور یو اے ای میں ہیں،برطانیہ سے حوالگی کا معاہدہ نہیں ا س لیے مشکلات ہیں، ہمیں برطانیہ کے تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے۔

انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر یہ لوگ پلی.بارگین کرنا چاہتے ہیں تو نیب کے ساتھ کریں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار سب سے اہم کیس ہے ،برطانیہ کے ساتھ ہمارا ایم او یو سائن ہواہے ، قانونی تقاضے پورے ہونے پر اسحاق ڈار کو حوالے کیا جا سکے گا۔نیب سے کہا ہے کہ ان کے جو بھی ملزمان بیرون ممالک ہیںان کی فہرست دیں تاکہ حکومت اس پر کارروائی کرے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جج کی ویڈیو لیک ہونے پر مقدمہ درج ہوا اور میاں طارق گرفتار ہوا ،اس ڈرامے اور پس منظر میں کرداروں کے حوالے سے حقائق سامنے آئیں گے۔


ای پیپر