ریکوڈک کی گنجل
18 جولائی 2019 2019-07-18

پا کستا ن کے و جو د میں آ نے کے بعد اول دن سے قوم کو خو شخبر ی سنا ئی جا تی ر ہی کہ بے شک یہا ں غر بت تو ہے مگر وہ عا ر ضی ہے۔ وہ یوں کہ صو بہ بلو چستا ن میں سونے اور تا نبے کے اتنے و سیع ذ خا ئر مو جو د ہیں کہ ان کی ما لیت ڈھا ئی کھر ب ڈ الر سے بھی ز یا دہ ہے۔ کسی بھی روز یہ ذ خا ئر نکا ل لیئے جا ئیں گے، اور پا کستان کا شمار دنیا کے امیر تر ین مما لک میں ہو نا شر و ع ہو جا ئے گا۔ یعنی تا ثر یہ تھا کہ بیلچو ں سے پہا ڑ وں کی ز مین کھو د لینی ہے اور سو نا اور تا نبا با ہر آ جا ئے گا۔ لیکن حقیقت میں یہ اتنا آسا ن نہیں ہو تا۔ اس کے لیئے سپیشل ٹیکنا لو جی اور وسیع تجر بہ کی ضر ورت ہو تی ہے۔ چنا نچہ اس طر ح کے پیچید ہ حقا ئق سے گذ رنے کے بعد با لا آ خر 1993 ء میںبی ایچ پی نا م کی کمپنی سے پا کستا ن کا معاہدہ طے پایا کہ صو بہ بلو چستا ن سے حا صل شد ہ ذ خا ئر میں سے پچیس فیصد پا کستا ن کا ہو گا جبکہ پچتھرفیصد کمپنی کے حصہ میں آ ئے گا۔پھر بیچ میں بہت سے مو ڑ آئے اور 2006ء میں بی ایچ پی کے حصص کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی اینٹوفاگاسٹا کاپر کمپنی نے خرید لیے۔یو ں بی ایچ پی کمپنی کی جگہ ٹیتھیان کاپر کمپنی نے لے لی۔

اب آ تے ہیں اس صو رتِ حا ل کی جا نب جس کا آجکل اخبا رات اور ٹی وی نیو ز پر بہت چر چا ہے۔خبر کے مطا بق انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیویٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) کی جانب سے ریکوڈک کیس میں پاکستان پر 5.9 ارب ڈالر یعنی قریب 947 ارب روپے کا جرمانہ عا ئد کر دیا ہے۔ اس صورتحال کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ اس کا جواب ان دو سوالوں میں سے ایک میں موجود ہے۔ یا تو ٹیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا کوئی جائز اور قانونی جواز ہمارے پاس نہ تھا، یا ہم سرمایہ کاری کے تنازعات کے تصفیے کے عالمی ادارے میں اپنے مؤقف کا دفاع نہیں کرسکے۔ا س مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ جولائی 1993ء میں حکومت بلوچستان اور بی ایچ پی منرلز انٹرنیشنل نے ’چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر‘ کے نام سے ایک ایگریمنٹ کیا جس کے مطابق حکومت بلوچستان کو ریکوڈک کے ذخائر سے حاصل ہونے والے سونے اور تانبے سے 25 فیصد حصہ ملنا تھا جبکہ 75 فیصد بی ایچ پی کی ملکیت تھا۔ 2006ء میں بی ایچ پی کے حصص کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی اینٹو فاگاسٹا کاپر کمپنی نے خرید لیے۔ ان کمپنیوں نے ریکوڈک کے وسائل کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی اور کان کنی لائسنس لینے کے لیے اگست 2010ء میں یہ رپورٹ حکومت بلوچستان کو پیش کی۔ تاہم حکومت بلوچستان نے کمپنی کو کان کنی کا لائسنس دینے سے انکار کردیا۔ اس دن کے ریکوڈک کا سونا اور تانبا پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے مابین وجۂ تنازعہ بنا ہوا ہے۔ بعد کے سات برسوں کے واقعات کی ٹائم لائن کچھ اس طرح ہے کہ نومبر 2011ء میں حکومت بلوچستان نے ٹی سی سی کی کان کنی کے لائسنس کی درخواست مسترد کردی۔ مئی 2011ء میں سول پٹیشنز کے ذریعے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں داخل ہوگیا۔ جنوری 2012ء میں ٹیتھیان کاپر کمپنی نے پاکستان کے خلاف سرمایہ کاری کے تنازعات کے تصفیے کے لیے عالمی ادارے آئی سی ایس آئی ڈی میں پاکستان کے خلاف 11.4 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کردیا۔ جنوری 2013ء میں سپریم کورٹ نے ریکوڈک کی کان کنی کے معاملے میں مولانا عبدالحق بلوچ وغیرہ کی سول پٹیشنز کا فیصلہ دیا جس میں چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ کو ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ مارچ 2017ء میں آئی سی ایس آئی ڈی نے پاکستان کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد صرف ہرجانے کی رقم کا سوال باقی رہ گیا تھا، جس کا حتمی فیصلہ اب آیا ہے۔ آئی سی ایس آئی ڈی میں پاکستان کے دفاع پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ مثلاً ابتدا میں پاکستان کا زور اس نکتے پر رہا کہ پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کے مابین یہ تنازعہ آئی سی ایس آئی ڈی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ جب آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے ثابت کردیا گیا کہ اس کا دائرہ اختیار ہے تو ہمارا دفاع اس نکتے پر جم گیا کہ ٹی سی سی کو جو حقوق دیئے گئے تھے، ان میں بدعنوانی کا عنصر شامل تھا۔ مگر ہم کسی قسم کی بدعنوانی کا ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے۔ اس مقدمے کے قانونی دفاع پر پاکستان کی قریب ایک کروڑ ڈالر لاگت آئی۔ یہ معدنی ذخائر کے ایک اس منصوبے کی قیمت ہے جس سے ہم ابھی تک کچھ بھی حاصل نہیں کرسکے۔ اس فیصلے کے بعد ٹیتھیان کمپنی کے سربراہ کی جانب سے اگرچہ معاملہ باہمی رضامندی سے طے کرنے کا اشارہ دے دیا گیا ہے مگر پاکستان کے لیے بھی اپنے مفادات کا تحفظ اہم ہے اور مفادات کے تحفظ میں یہ بھی مدنظر رہے کہ اس مقدمے بازی نے پاکستان کو ان معدنی وسائل کے فائدے سے محروم رکھا ہے۔ ریکوڈک کے معدنی وسائل غیر معمولی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دنیا میں سونے کا پانچواں بڑا ذخیرہ ہے، مگر قریب ایک دہائی کایہ عرصہ ان معدنی وسائل پر مقدمے بازی کی نذر ہوگیا۔ اگر یہ وقت ان وسائل کی دریافت پر صرف ہوتا تو سوچیں پاکستان کو سونے اور تانبے کے ان ذخائر سے کس قدر حصہ مل چکا ہوتا۔ اس سے ملکی معدنی وسائل میں سرمایہ کاری میں کس قدر اضافہ ہوتا اور ان وسائل کو بروئے کار لانے سے ہماری قومی ترقی کی رفتار کیا ہوتی؟ آج حالات یہ ہیں کہ ہم دو دو، تین تین ارب ڈالر کے لیے دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں ۔جو قرضے مالیاتی اداروں سے لیتے ہیں ان کا بڑا حصہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں کوئی متبادل صورت نظر نہیں آتی جبکہ ریکوڈک کے معدنی وسائل کی مالیت کا اندازہ 100 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ ہمارے ہمارے ملک کے مٹی میں سونے، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کا یہی واحد ذخیرہ نہیں، مگر اتنے بڑے معدنی وسائل کے باوجود اگر ہم معاشی مشکلات میں گھرے رہیں یا قرضوں سے دبے رہیں تو یہ ہمارا انتخاب تو ہوسکتا ہے لیکن اسے حالات کا جبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب ضروری ہے کہ اس روایتی تجاہل سے جان چھڑائی جائے۔ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں سوچ سمجھ کر اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق فیصلے کیے جائیں اور معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کی سنجیدہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ریکوڈک کے معاملے میں ایک قانونی جنگ ہم ٹیتھیان کاپر کمپنی کے خلاف عدالت میں ہارے ہیں جبکہ دوسری شکست ہمیں وقت کے خلاف دوڑ میں ہوئی ہے۔گو اس معا ملے میں ہما رے قانونی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ چکے ہیں، مگر ضر ورت اس امر کی ہے کہ اس بھا ری جر ما نے سیـ،جس کی ما لیت اس رقم کے بر ابر ہے، جو ہمیں حا لیہ دنو ں میں آ ئی ایم ایف سے قر ضے کی صو رت میں حا صل ہو ئی ہے،بچنے کا کو ئی در میا نہ را ستہ تلا ش کیا جا ئے۔


ای پیپر