وزیراعظم کا دورہ امریکہ… خواہشات، توقعات
18 جولائی 2019 2019-07-18

دنیا کے مختلف ممالک میں امریکہ کی مداخلت کو دو دہائیاں گزرنے کے بعد دو باتیں واضح ہوئی ہیں ایک یہ کہ فوجی طاقت چاہے وہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور ہی کیوں نہ ہو اس کی بھی حدود ہیں اور وہ ہر متعین کردہ ہدف کو حاصل نہیں کر سکتی۔ دوسرا یہ کہ اب دنیا میں واضح طور پر ایک سے زائد طاقت کے مراکز کا ظہور ہو رہا ہے۔ ایک لحاظ سے سرد جنگ کے بعد پیدا ہونے والی امید کہ دو بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ ٹل جانے کے بعد دنیا امن کے ثمرات سے بہرہ مند ہو سکے گی نئے خطرات کی نذر ہو گئی۔ بعد از سرد جنگ کی دنیا اب نئے تنازعوں، تصادم، فوجی مداخلتوں اور ان سے جنم لینے والے مسائل میں مبتلا ہے۔ ایسے وقت میں وزیرِا عظم کا دورہ امریکہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

امریکہ اعتماد کے فقدان کا شکار ہے، وہ اپنے طور پر کوئی بات سوچ لیتا ہے اور فیصلہ بھی کر لیتا ہے، جیسے کہ امریکی حکومت کو پاکستان سے توقع تھی کہ وہ طالبان قیادت پر مفاہمت کے لئے دباؤ ڈالے گا۔ جب کہ پاکستان افغان طالبان پر صرف اتنا دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ مفاہمت کے عمل میں شریک ہوں لیکن وہ ان کا مٔوقف بدل نہیں سکتا۔ امریکہ کا یہ بھی خیال رہا ہے کہ پاکستان خود مذاکراتی میز پر بیٹھنا چاہتا ہے یا یہ کہ وہ طالبان قیادت کے براہِ راست امریکیوں یا کابل حکومت کے ساتھ رابطوں کے خلاف ہے۔ امریکہ کی یہ بھی سوچ تھی کہ پاکستان افغان طالبان کو تحفظ دے رہا ہے کہ وہ انہیں مستقبل کا اثاثہ سمجھتا ہے اور ان کو بعد ازاں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ یہ بات قابلِ فہم نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس قسم کے کھیل یا کوشش کا نتیجہ صرف افغانستان میں خلفشار اور جنگ و جدل کو طول دینے کے مترادف ہے جو پاکستان کو کئی لحاظ سے نقصان ہی نہیں پہنچاتا بلکہ کمزور بھی کرتا ہے۔ یہی غلط فہمیاں تھیں جن کی وجہ سے امریکہ پاکستان پر اعتبار نہیں کر رہا ہے۔

امریکہ پاکستان کو امدادی رقوم دیتا ہے جو مختلف منصوبوں کے لئے بین الاقوامی اداروں مثلاً عالمی بینک یا آئی ایم ایف کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ ایسی امداد بین الاقوامی اداروں کے مالیاتی نظم کے تحت خرچ ہوتی ہے، جن کو پاکستان کی خود مختاری سے متصادم تصور کیا جاتا ہے۔ امداد کی ایک شکل یہ ہے کہ امریکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے سہولیات مہیا کرے۔ لیکن پاکستان کی امریکہ سے تجارتی سہولیات لینے کی کوشش ابھی تک بارآور نہیں ہوئی۔ پاکستان کے لئے فائدہ مند آزادانہ تجارت کا معاہدہ اس لئے تعطل میں پڑ گیا کہ اس کے لئے پہلا قدم باہمی سرمایہ کاری کا معاہدہ ہے۔ ایسے معاہدے کے لئے پاک امریکہ تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے لیکن خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے۔ اس حوالے سے 2005ء میں ایک تجویز یہ بھی آئی تھی کہ پسماندہ علاقوں خصوصاً فاٹا میںا یسی صنعتیں لگائی جائیں گی جن کے بنائے گئے مال کو امریکہ برآمد کرنے پر کوئی ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس سے پاکستانی صنعتکاروں کو فاٹا وغیرہ جیسے علاقوں میں صنعتیں لگانے کی ترغیب ملتی۔ جس سے عسکریت پسندی کے شکار ان علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے جو وہاں انتہا پسندی کو کم کرنے میں معاون ہوتے۔ لیکن پاکستان کی کوششوں کے باوجود امریکہ نے منصوبے کو ناقابلِ عمل بنانے کے لئے اس میں سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو خارج کر دیا۔ یہی ایک ایسا سیکٹر تھا جس کی وجہ سے علاقے میں اقتصادی سرگرمی کی امید کی جا سکتی تھی۔ یہ تجویز مذاکرات کی حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ بہر حال پاکستان کی کوشش کے باوجود تجارتی شعبہ میں امریکہ اور یورپی یونین نے کوئی خاص مراعات نہیں دیں۔ حالانکہ یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ اقتصادی ترقی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بہت اہم اور مٔوثر لائحہ عمل ہے اور بغیر تجارت کے اقتصادی ترقی کا خواب پورا ہو ہی نہیں سکتا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور جو قربانیاں دی ہیں ان کی نظیر دنیا کا کوئی ملک پیش نہیں کر سکا۔ دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا حلیف ہونے کی وجہ سے وطنِ عزیز کو مختلف حلقوں کی غیر معمولی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت امریکہ سے تعلقات کی از سرِ نو تعمیر چاہتی ہے۔ پاک امریکہ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور اب ان کا انحصار کسی قسم کی مالی امداد پر نہیں ہے۔ امریکہ سے ہمارا تعلق ایک نیا موڑ مڑ گیا ہے اور اب صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں چاہے اس میں دفاعی امداد ہو یا نہ ہو ۔ ہم امریکی مدد کے بغیر گزارہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی برادری کا نہایت متحرک اور با صلاحیت ملک ہے جس نے دنیا میں امن کے فروغ کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔

دہشت گردی پوری دنیا میں ایک عرصہ قدیم سے موجود ہے اورا سے تباہ کن فوج اور ہتھیاروں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بہر کیف جمہوری معاشروں کی تشکیل کے ذریعے اور سیاسی تصادم کی بنیادی وجوہ کو دور کر کے اسے محدود کیا جا سکتا ہے۔ معاشروں کو جمہوری بنانے کی حکمتِ عملی اس امر کی متقاضی ہے کہ مغرب اورا سلامی دنیا کے درمیان تزویراتی شراکت ہو، مگر یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ ان ممالک کے عوام وہی بنیادی حقوق، عزت و احترام چاہتے ہیں جو مغربی ممالک کے عوام کو میسر ہیں تاہم یہ اسی طور پر ممکن ہے کہ جب امریکہ اورا س کے مغربی اتحادی ممالک مسلم ممالک کی حقیقی جمہوری حکومتوں کو قبول کرنے اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے تیار ہوں، خواہ وہ حکومتیں امریکی پالیسیوں کی حمایت نہ کریں جس طرح آمر اور بدعنوان سیاستدان کرتے ہیں۔ اب جب کہ وزیرِا عظم عمران خان امریکہ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں تو ان کی بہترین حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مثبت تعلقات اور کردار پر زور دیں، ساتھ ساتھ امریکہ سے تعمیری تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں۔


ای پیپر