شاہی سواری اور عوام
18 جولائی 2019 2019-07-18

یہ ایک حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے انسان ہر دور میں بے بس رہا ہے۔ انسان ہر سائنسی ایجاد کے بعد خود کو زیادہ معتبر سمجھنے لگتا ہے ہر نئی آسانی کے بعد انسان سر فخر سے بلند کرتا ہے۔کبھی آسمانوں کی سیر کو جانے کی بات کرتا ہے کبھی خلائوں میں اپنی حکومت چاہتا ہے اور کبھی سمندروں میں اپنی بالا دستی ثابت کرتا نظر آتا ہے۔لیکن قدرت کی ایک ہلکی سے آفت کئی کئی علاقوں کو نیست و نابود کردیتی ہے۔جاپان ہو یا امریکہ,چین ہو یا بھارت قدرتی آفات کے سامنے سب بے بس نظر آتے ہیں۔

بارشیں دنیا بھر میں ہوتی ہیں اور دنیا بھر کے لوگ بارشوں کے بعد اپنے لوگوں کو مختلف انداز میں ریسکیو کرتے ہیں۔ہم ہر سال دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں موسم برسات کے دنوں ہر طرف پانی ہی پانی دکھایا جارہا ہوتا ہے۔ہمارے پڑوسی بھارت میں ہر سال ہم سے کئی ہفتے پہلے برسات شروع ہوتی ہے۔شہروں کے شہر بارش کے پانی سے بھر جاتے ہیں۔ٹرین کی لائنیں تک پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔بہت سے لوگ پانی کا قہر برداشت نہ کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔جو ملک ترقی یافتہ ہیں انہوں نے پانی نکاسی کا نظام بہتر سے بہترین کیا ہوا ہے۔وہاں بارش کے کچھ گھنٹوں بعد برساتی پانی اترنے لگتا ہے۔ مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں برساتی پانی برسات ختم ہونے کا انتظار کرتا ہے۔گلی محلے جوہڑوں کی شکل دھار لیتے ہیں۔ اور برساتی پانی کھڑی فصلوں کو تباہ و برباد کرتا سمندر میں جا پہنچتا ہے۔دنیا بھر میں بارشوں کے بعد انتظامیہ اور حکمران عوام کی مدد کو نکلتے ہیں مگر پاکستان میں بہت دہائیوں سے دوسری آفات کی طرح برسات کے موسم کو بھی سیاست,نمبر سکورنگ اور پیسہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ باقی صوبے کی طرح لاہور بھی پچھلے کچھ دنوں سے مون سون بارشوں کی لپیٹ میں ہے۔کل لاہور میں کھل کے بارش ہوئی۔گلی محلے ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔سڑکوں پر ٹریفک پولیس کے جانباز کسی نہ کسی گاڑی کو دھکا لگاتے بھی نظر آئے۔بہت سے علاقوں میں موٹر سائیکل اور کاریں انجنوں میں پانی جانے کی وجہ سے بند بھی ہوتی رہیں۔بہت سے گھرو ں میں بوڑھی خواتین گھروں میں داخل ہونے والا پانی بھی نکالتی رہیں۔مگر شدید بارش میں ایک بندہ بڑی سی گاڑی میں سڑکوں پر چکر لگاتا بھی نظر آیا۔جی بڑی سی گاڑی جسے صوبے کا وزیراعلیٰ خود ڈرائیو کر رہا تھا۔کل ہمیں دکھایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بارش میں شہر میں گاڑی چلا رہا ہے اور سڑک کنارے کھڑے عام سے لوگوں کو اپنی انتہائی مہنگی گاڑی میں بیٹھا کے ان کی منزل تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس صوبے کے وزیراعلیٰ سے اسمبلی کے منتخب نمائندے بھی نہ مل سکتے ہوں۔اس صوبے کے وزیراعلیٰ کی گاڑی میں سکول کے بچوں کو جگہ مل جانی۔ حیرت ہے اور بہت حیرت ہے۔ گویا وزیراعلیٰ نے پانی میں پھنسے عوام کے لیے شاہی سواری کا انتظام کر دیا ہو۔

وزیراعلیٰ پنجا ب بہت تیزی سے عام لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے دن رات متحرک رہے ہیں۔ عوام کے ساتھ زندگی گزارنے والے اس شریف انسان کو عوام کے بنیادی مسائل بارے دوسروں سے کچھ زیادہ خبر تھی۔اسی لیے وہ بہت تیزی سے عوامی مسائل کو حل کر نے کے لیے دن رات کام کرتے رہے ہیں۔ یہ سچ ہے ایک عوامی بندے کو عام لوگوں کے مسائل کا بہت اچھے سے پتہ تھا۔شروع میں وزیراعلیٰ پنجاب پر ہر طرف سے تنقید ہوتی رہی۔ٹی وی اینکرز صبح و شام ان کی کم علمی و شرافت پر آواز بلند کرتے رہے۔ مگر اس بندے نے کسی شعبدہ بازی میں پڑے بغیر عوامی خدمت کو اپنا مشن بنالیا۔پھر جیسے جیسے وقت گزرنے لگا تنقید کرنے والے خاموش ہوتے چلے گئے اپوزیشن کے ساتھ اپنی صفوں میں بیٹھے موقع پرستوں کو بھی سانپ سونگھ گیا۔ کیونکہ جو منصوبے عثمان بزدار نے عام شہریوں کے لیے شروع کیے تھے ان کے بارے پہلے حکمرانوں نے شائد کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ عثمان بزدار نے دکھاوے کی بجائے کام کرنے پر زور رکھا۔ وہ میڈیا کو ساتھ لے کے کسی ’اچانک‘ دورے پر کہیں نہیں گئے بلکہ برسات کا موسم شروع ہونے سے بہت پہلے وزیراعلی پنجاب نے چھوٹے بڑے شہروں میں نکاسی آب کی تیاری پر کام شروع کروادیا تھا۔ نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کے اخراج کیلئے مشینری اور دیگر وسائل پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ پنجا ب دھرتی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں وہ پنجاب کے عوام کی بنیادی ضروتوں کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے دورِ اقتدار کے صرف دس ماہ میں قبضہ مافیا کو لگام ڈال دی ہے اور ان کے خلاف خصوصی کارروائی مہم شروع کی ہوئی ہے۔ صرف دس ماہ میں قبضہ مافیا کے خلاف کامیاب کاروائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ قیادت عوام کے ساتھ کس حد تک کھڑی ہے۔وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بالکل درست کہتے ہیں کہ اتنے زیادہ وسائل سے مالا مال صوبہ پنجا ب کے سابق حکمرا ن اگر بنیادی مسائل پر توجہ دیتے تو آج پنجاب کے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔پنجاب ہمیشہ سے خوشحال ترین علاقہ رہا ہے قدرت نے یہاں ہر نعمت وافر مقدار میں عطا کی ہوئی ہے بس ضرورت ہے کہ حکمران اور ان کے لوگ ترازو برابر رکھیں۔صرف اپنے گھر کی سڑکیں اور سکیورٹی پر توجہ نہ دیں بلکہ عوام کا خیال بھی رکھیں۔پنجابی قوم قدیم ترین تہذیب وتمدن رکھتی ہے،یہاں کے لوگ مہمان نوازی اور حسن سلوک کی وجہ سے ایک خاص شہرت رکھتے ہیں۔اپنے وطن کے حفاظت کے لیے ہر وقت تیار کھڑے نظر آتے ہیں۔ساتھیو پنجا ب کی مخصوص ثقافت ہی ہمیں دنیا منفرد کرتی ہے،ہماری زبان وثقافت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔رنجیت سنگھ اسی دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جس نے سامراج کا ڈٹ کے مقابلہ کیا اور اس سارے پنجاب پر حکومت کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا۔وہ اس دھرتی سے جڑت کی وجہ سے ایک خاص عزت کماچکا ہے۔آج اس کا مجسمہ لاہور قلعے کے باہر نصب کیا گیا ہے تو کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہورہا ہے لیکن اپنے پنجابی ہیروز کو سراہنے میں ہمیں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہونی چاہئے بلکہ ان کی بہادری پر فخر کرنا چاہیے جنہوں نے سامراج کا جوانمردی سے مقابلہ کیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لاہور میں نصب کیا جانااور کرتار پور راہدی کی تعمیر یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وجودہ قیادت دونوں پنجابوں کے درمیان فاصلے کم کرنا چاہتی ہے۔محبتیں بڑھانا چاہتی ہے,نفرتیں ختم کرنا چاہتی ہے۔


ای پیپر