نان اور ’’مورگان‘‘…
18 جولائی 2019 2019-07-18

دوستو۔۔گزشتہ ہفتے یعنی اتوار سے لے کر جمعرات تک برقی اور ورقی(الیکٹرانکس اور پرنٹ) میڈیا پر صرف اور صرف نان اور مورگان کے ہی چرچے دیکھنے اور سننے کو ملے۔۔ نان تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں، لیکن مورگان آپ کے لئے قطعی اجنبی ہوگا، تو جناب، مورگان انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔۔انگلینڈ کی ٹیم نے ورلڈ کپ کرکٹ ٹرافی جیت لی اور فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو زیادہ باؤنڈریز مارکر ہرادیا۔۔میچ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹائی ہوگیا، پھر سپراوور میں بھی ’’ایکشن ری پلے‘‘ ہوا اور ایک بار پھر میچ ٹائی ہوگیا لیکن کرکٹ کے عجیب و غریب قوانین کے مطابق انگلینڈ کو فاتح قراردے دیاگیا کیوں کہ انگلینڈنے میچ کے دوران زیادہ باؤنڈریاں ماری تھیں۔۔

باباجی فرماندے نے۔۔یہ تو بالکل اس طرح ہوگیا کہ نیوزی لینڈ کے پاس ایک ہزار روپے تھے، انگلینڈ کے پاس بھی ایک ہزار روپے تھے، لیکن چونکہ انگلینڈ کے پاس پانچ،پانچ سو کے دو نوٹ تھے اس لئے اسے زیادہ امیر قرار دے دیا گیا۔۔ کرکٹ کے پنڈت، ماہرین،تجزیہ نگار، کمینٹریٹرز تو ایک جانب آئی سی سی کے ایمپائر نے بھی فائنل پر نکتہ چینی کرڈالی۔۔فائنل کے دوران اوورتھروجو انگلش بلے باز کے بیٹ سے لگ کر باؤنڈری کے پار چلی گئی ،اس پر چھ رنز دے دیئے گئے حالانکہ کرکٹ قوانین واضح ہیں کہ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو پانچ رنز دیئے جائیں گے۔۔ صرف اسی پوائنٹ پر انگلینڈ کی ٹیم میچ لوز کرچکی تھی۔۔لیکن قسمت کا لکھا ’’اخیر‘‘ ہوتا ہے۔۔ انگلینڈ اب نیا ورلڈ چیمپیئن ہے۔۔ ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ۔۔ورلڈ کپ انگلینڈ نے جیتا لیکن دل نیوزی لینڈ کی ٹیم نے جیتے۔۔ آپ کو یاد ہوگا، کچھ عرصہ پہلے کرکٹ کی دنیا میں ’’ بگ تھری‘‘ کا شور اٹھا تھا، انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت نے ازخوداپنے آپ کو کرکٹ کی دنیا کا بگ تھری کہنا شروع کردیا، اگر آپ گزشتہ ورلڈ کپوں کے نتائج دیکھیں تو دوہزار گیارہ میں انڈیا، دوہزار پندرہ میں آسٹریلیا اور دوہزار انیس میں انگلینڈ ورلڈ چیمپیئن بنا، اس طرح بگ تھری نے کرکٹ پر اپنی اجارہ داری دکھا دی۔۔

ہمارے پیارے دوست کاکہنا ہے کہ ۔۔جب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا فائنل ٹائی ہوا تھا تو اصولا تو ورلڈ کپ ہمیں ملنا چاہیئے کیوں کہ ہم نے ان دونوں ٹیموں کو ہرایا تھا۔۔ ہمارے پیارے دوست نیوزی لینڈ کے فائنل میں پہنچنے پر شدید ناراض تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کو جان بوجھ کر سیمی فائنل تک رسائی دی گئی اور پاکستان کو حیرت انگیز طور پر ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر کر دیاگیا، انہوں نے اپنے اس دعوے کے لئے اعدادوشمار بھی بطورثبوت ہمیں واٹس ایپ کئے۔۔انہوں نے پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ورلڈ کپ میں کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے بتایا کہ۔۔سیمی فائنل سے پہلے لیگ میچوں کے دوران پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں نے پانچ،پانچ میچ جیتے۔۔پاکستان کا ایک میچ اور نیوزی لینڈ کا بھی ایک میچ بارش کی وجہ سے نہ ہوسکا،جس پر دونوں کو ایک ایک پوائنٹ ملا، دونوں ٹیموں کو پانچ جیتے گئے میچوں کے دس اور بارش کی وجہ سے نہ ہونے والے میچ کاایک پوائنٹ ملا، اس طرح دونوں ٹیموں کے گیارہ ،گیارہ پوائنٹس ہوگئے۔۔پاکستان نے آٹھ میچوں میں ٹوٹل دوہزار پچیس اسکوربنایا، نیوزی لینڈ نے آٹھ میچوں میں اپنا اسکور ٹوٹل سولہ سو چوہتر بنایا۔۔پاکستان نے آٹھ میچز میں ٹوٹل بالز اکیس سو انتالیس کھیلیں،نیوزی لینڈ نے آٹھ میچز میں انیس سو پچانوے بالز کھیلیں۔۔ذرا اور گہرائی سے تجزیہ کریں تو پاکستان نے ایک رنز کے عوض 1.056 بالز کھلیں تو ایک رنز بنایاجبکہ نیوزی لینڈ نے 1.191بالز کھیلی فی رنز کے عوض ۔۔۔مطلب نیوزی لینڈ نے پاکستان سے سلو رنز لیئے لیکن آئی سی سی کے نتائج سازش کے نتیجے کا رزلٹ اس کے برعکس ہیں۔آئی سی سی نے پاکستان کا رنز ریٹ : 0.430- اور نیوزی لینڈ کا رنز ریٹ : 0.175+ رکھا۔۔۔پاکستان تمام میچز میں 130 رنز اور 7 ووکٹس سے ہاراجبکہ نیوزی لینڈ 205 رنز اور 6 ووکٹس سے ہارا۔ یہ تمام ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے پاکستان کو ٹیکنیکل طریقے سے رننز ریٹ کے تھوڑے پوائنٹس دیکر ورلڈ کپ سے باہر کیا گیا جب کہ نیوزی لینڈ کسی بھی بڑی ٹیم سے ایک میچ بھی نہیں جیتا پھر بھی اس کا رننز ریٹ بہت تیز رکھا گیا جس سے پاکستانی ٹیم کی مینجمنٹ بالکل غافل رہی۔۔یوں اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی ٹیم وطن واپسی پہنچی تو نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچی۔۔

سنا ہے کہ فائنل میں شکست کے بعد پاکستان کے ایک زیرک اور سدابہار سیاست دان نے نیوزی لینڈکے کپتان کو فون پر مشورہ دیا کہ ۔۔نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردواور دوبارہ فائنل کا مطالبہ کرڈالو، ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ اپنے مطالبے کے ساتھ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی دھمکی دینا نہ بھولنا۔۔باباجی بتارہے تھے کہ فائنل سے پہلے کپتان سرفراز نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو فون کئے اور انہیں حریف کو شکست دینے کے سنہری اصولوں سے آگہی فراہم کی۔۔کپتان سرفرازسے وطن واپسی پر جب پوچھا گیا کہ آپ نے تو بنگلا دیش کے خلاف میچ سے قبل پانچ سو رنز بنانے کا دعویٰ کیا تھا پھر بنائے کیوں نہیں؟؟ جس پر کپتان سرفراز نے افسردہ لہجے میںجواب دیا کہ۔۔ ہم نے اسکور پانچ سو ہی بنایاتھا لیکن ٹیکس کٹنے کے بعد تین سو سولہ رہ گیا۔۔ہمارے پیارے دوست فائنل میں آسٹریلیا کے نہ پہنچنے پر شدید رنجیدہ تھے، ہم نے جب وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔۔ویسے یہ ورلڈ کپ آسٹریلیاکو جیتنا چاہیئے تھا ان کے چھ کپوں کا سیٹ پورا ہوجاتا۔۔لندن سے خبریں آرہی ہیں کہ لندن کی سڑکوں پر پچھلے 24 گھنٹوں سے لوگوں کو مسلسل ایک ہی گانا گاتے دیکھ،سن کر ملکہ اور حکومت دونوں پریشان ہیں۔۔گانا شروع کچھ اس طرح ہوتا ہے۔۔جب آئے گا مورگان ۔۔سب کی جان ۔۔بنے گا نیا انگلستان۔۔۔ویسے ہمارے پیارے دوست نے پہلے ہی پاکستان سے متعلق یہ پیش گوئی کردی تھی کہ۔۔بیٹسمینوں کے بلے سیدھے نہیں، بالرز کی لائن ولینتھ سیدھی نہیں، کپتان کی نیند پوری نہیں، المختصر ورلڈکپ ہمارا نہیں۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔یار جوتے تو بہت شاندار لئے ہیں۔۔۔ہاں یار آج ہی لایا ہوں ۔۔کہاں سے لئے، باٹا یا سروس سے؟؟۔۔نہیں یار، مسجدسے۔۔۔آج نمازجمعہ کے لئے جائیں تو برائے کرم اپنے ہی جوتے پہن کر واپس آئیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر