اخلاقیات .... ہر ایک نے اللہ کو جان دینی ہے
18 جولائی 2019 2019-07-18

رسول پاک کے در پہ حاضری دینے اور سلام کرنے کیلئے حرمین شریفین جانے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، حضور کے فرمان پہ اگر مُسلمان عمل کرنا شروع کر دیں تو خدا گواہ ہے ، کہ ہمارے ملک سے کینہ پروری، غیبت ، جھوٹ اور دشمنی یکدم ختم ہو جائے۔

ان کا فرمان ہے ، کہ رات کو سُونے سے پہلے ہر مُسلمان کا یہ عمل ہونا چاہئے کہ وہ محض اللہ کی رضا، کے لئے ہر اُس شخص کو معاف کر کے سوئے، جس نے اُس کے خلاف زیادتی کی یا کوئی نقصان پہنچایا، تو اللہ سبحان و تعالیٰ ، اُس شخص کے لئے، جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیتا ہے ۔

مگر تعجب ہے کہ دَس بارہ، اقساط ” عمرہ نامہ “ پڑھنے کے بعد پتہ چلا ہے ، کہ محض ایک آدھی قسط میں مُوضوع سے انصاف کیا گیا ہے ، اور باقی تمام اقساط طنز ، کینہ پروری گلے شکوے شکایات، کی نذر کر کے خود کو مکمل اِنسان ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

میاں برادران کی طرف سے بے توجہی تو شاید سمجھ میں آتی ہے ، مگر میں حیران ہُوں، کہ سابق سینئر ترین پولیس افسر ذوالفقار چیمہ ، جن کے ساتھ ن لیگ والے بھی کنی کتراتے تھے، جن کی نیک نامی اور فرض شناسی کا ایک زمانہ مُعترف ہے ، اُن کے ساتھ کدورت سمجھ سے باہر ہے اِسی طرح سابق آئی جی، پنجاب اَسلم سُکھیرا، جن کے نام کا حصہ ہی ” سُکھیرا“ ہے ، اُن کے خلاف بھی وہ دِلی بھڑاس نکالنے کو اپنا صحافی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔

مجھے ذاتیات پر آکر کالم کے کاغذ کالے کرنے پہ کوئی خوشی نہیں ہوتی، بلکہ میں اسے صحافتی ذمہ داری اور فرض شناسی سے پہلو تہی کرنے کا عمل سمجھتا ہوں، میری عادت میں شامل ہے کہ میں نوائے وقت کے سابقہ ساتھی ، جن میں سے اکثریت دوسرے اخبارات سے منسلک ہوگئی ہے ، مثلاً جناب عطاالرحمن ، سید ارشاد احمد عارف، سعد اللہ شاہ، اسد اللہ غالب، فضل اعوان، میر نواز نیازی، توفیق بٹ صاحب، وغیرہ اور کچھ عرصے سے فاروق عالم انصاری کے کالم نظر آ جائیں تو ضرور پڑھنے کا اعزاز حاصل کرتا ہوں، اور انصاری صاحب، کا جذبہ انس بھی اب حکومت سے مفقود نظر آتا ہے کہ کسی سے پرخاش کے لئے کسوٹی یہ نہیں ہونی چاہئے، کہ وہ آپ کے در پہ، آپ کے دَست شفقت کے لئے حاضر نہ ہوا ہو، یا پھر اپنے دفتر میں چائے پلوانے کے لئے نہ بلوایا ہو، بلکہ وجہ امتیاز و افتخار تو اِن سر کردہ افراد سے بے نیازی ، اور غیر جانبداری ہونی چاہئے، اور خصوصاً اِن پر مثبت و منفی آپ کے تبصرات و خیالات زیادہ اہمیت کے حامل ہونے چاہئیں کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا، مگر منفی خصوصیات کے حامل شخص میں بھی قدرت نے کوئی خوبی ضرور رکھی ہوتی ہے ، آئی جی اگر دفتر بلائے تو تصوراتی وارے نیارے ہو جائیں اپنے والدین کی حق حلال، اور خون پسینے کی کمائی دو لاکھ روپے ، جو والدہ محترمہ نے اپنی تجہیز و تکفین کے لئے پہیہ پہیہ جوڑ کر وصیت کی تھی، کہ اُس کو میرے مرنے کے بعد خرچ کیا جائے، وہ تجدید تعلقات مزید کی خاطر عمران خان کو دے دینا، کہاں کا انصاف ہے ؟، کہ اُسے تحریک انصاف کو دے کر وصیت کی خلاف ورزی کر دی جائے، حالانکہ وصیت لکھنے کا حکم بھی حضور نے خود دیا ہوا ہے ، آپ اِس انحراف اور حکم عدولی کو کیا نام دیں گے؟ آج کل ایک حکومتی شخصیت ایسی ہیں، جن کے بیانات و خیالات سے نسبتاً زیادہ متاثر ہوں، اُن کا بیان دینے سے قبل اور پریس کانفرنس کی شروعات ، اِس بات سے ہوتی ہے ، کہ میں نے اللہ کو جان دینی ہے حالانکہ اُن کے ساتھ بیٹھے ہوئے میجر جنرل صاحب، نے بھی تو اللہ تعالیٰ کو جان دینی ہے ۔

رانا ثناءاللہ نے بھی تو اللہ تعالیٰ کو جان دینی ہے ، یار لوگ تو یہ کہتے ہیں ” جادو گر “ صرف گورنر سندھ عمران نہیں، بلکہ آصف علی زرداری تو یہ کہتے ہیں، کہ آج کل باندر کے ہاتھ میں اُسترا آگیا ہے ، مگر میں یہ سمجھتا ہوں، کہ قاری ثناءاللہ ، مولوی ثناءاللہ حافظ ثناءاللہ تو اکثر ہوتے ہیں، مگر رانا ثناءاللہ شاید پہلی دفعہ کسی نے نام رکھا ہے ۔

بڑے بزرگ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں، کہ انسان کی زبان ہی اُسے مَعتوب یا محبوب بناتی ہے ، اِسی لئے میں سمجھتا ہوںکہ رانا ثناءاللہ کا گرفتاری سے پہلے جو چیز اُن سے برآمد ہوئی ہے ، اُس کے ” سُوٹے “ لگا کر اُنہوں نے کہا تھا، کہ میں پاکپتن سے لے کر کسی کی چیخوں کی داستان قوم کو سناﺅں گا، رانا ثناءاللہ نے چیخنے والے کا نام بھی بتا دیا تھا، لیکن میں قلمکار ہونے کی حیثیت سے ” اَز خود نوٹس“ لیتے ہوئے ، وہ نام حذف کر دیتا ہوں، اگر سپیکر صادق سنجرانی پارلیمان سے کچھ الفاظ حذف کرا سکتے ہیں، تو میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟

آخر میں اگر میرے محترم دُوست بُرا نہ مان جائیں، تو اُن کی کالم میں دی گئی نصیحت کے مطابق کہ شریف بردران کی مشکل کی اِس گھڑی میں غیر سیاسی کالم لکھنے کی بجائے کُھل کر ان کے حق میں لکھیں ، مجھے اگر انتقامی کارروائی نہ کرنیکی ضمانت میرے صحافی بھائی لے دیں، تو میں کلمہ حق ادا کرنے کیلئے تیار ہوں، ویسے مجیب الرحمن شامی، سلمان غنی، محمود شام، ڈاکٹر اجمل نظامی، جناب عطاءالرحمن، نذیر غازی، ظفر ہلالی، نصر اللہ ملک ، جاوید چودھری، حامد میر، شاہ زیب خانزادہ اور پیر زاداہ وغیرہ کے بارے میں موصوف کا کیا خیال ہے ؟ کیا یہ سارے مجھ سمیت مُردہ ضمیر انسان ہیں، الحمد للہ اِن میں کینہ اور بغض نہیں ہے ، اگر ان پہ بھی اعتبار نہیں، تو وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار صاحب کے کہے پہ اعتبار کر لیں، اُن کا کہنا ہے ، کہ شہباز شریف نے اپنے دور میں چالیس غیر ملکی دُورے کیئے ، اور انکا خرچہ اپنی جیب سے ادا کیا، جون 2013 ءسے مئی 2018 ءکی تفصیلات کے مطابق بزدار صاحب نے تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی مسرت جمشید کے سوال کے جواب پر پنجاب اسمبلی کو یہ بات بتائی ، ن لیگ سے بزدار اور ان کے والد مرحوم کا پندرہ بیس سال سے تعلق رہا ہے ۔

قارئین آخر میں عرض ہے ایکدفعہ اُس وقت چودھری غلام رسول کے بھائی چودھری امین، آئی جی تھے اُن کے بھتیجے کے خلاف ناجائز پرچہ درج ہوا ہے ، اور میرے چچا آج کل آئی جی ہیں اسلم سکھیرا نے کہا کہ تم نے مجھے دھمکی دی ہے ، میں اب پرچہ خارج نہیں کرونگا، اپنے چچا سے جا کر کرا لو، میں اِس بات کا عینی شاید ہوں۔

رانا ثناءاللہ کو گرفتار کرنے پہ جب وفاقی وزیر محمد علی خان اور میجر جنرل صاحب نے جب کانفرنس کی تو پھر اپنا بیان دوہرایا، کہ میں نے اللہ کو جان دینی ہے ، میرے خیال میں وہ جنرل صاحب کے بارے میں یہ کہہ دیتے کہ انہوں نے بھی اللہ کو جان دینی ہے ، رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پہ اگر فوج کو ملوث نہ کیا جاتا، تو بہتر تھا، منشیات فروش کی گرفتاری کیلئے تو تھانیدار یا اے ایس آئی ہی کافی ہوتا ہے ، ویسے اس حوالے سے میرے محترم کالم نویس بھائی اسلم لودھی نے خوب بات کی ہے ، کہ منشیات والی ہیئروئین کی بجائے اگر رانا صاحب پہ کوئی فلمی ہیروئین ڈال دی جاتی، تو زیادہ بہتر تھا، لوگوں کو بھی یقین ہو جاتا، اور اُن کی اہلیہ بھی یقین کر کے مطمئن ہو جاتیں، اور اقوام متحدہ جانیکا عندیہ نہ دیتیں، ویسے 11 ماہ میں 75 ویں ریلوے حادثے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔


ای پیپر