عمرہ نامہ!
18 جولائی 2019 2019-07-18

گزشتہ سے پیوستہ!....

زرداری کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے بعد میں حرم شریف میں واقع اپنے ہوٹل میں آگیا، ایک دن میں دو عمرے کرنے سے جسم بے جان سا ہو گیا تھا، پاﺅں سو جے ہوئے تھے، البتہ اِس بات کی بہت خوشی اور اطمینان تھا کہ ایک دِن میں دو عمرے کر لئے.... اگلے روز صبح سویرے مدینہ شریف روانگی تھی۔ ہمیں یہ کہا گیا تھا فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوٹل کی لابی میں پہنچنا ہے جہاں ناشتے کا ہتمام کیا گیا تھا۔ میری آنکھ لگ گئی۔ اُنہیں میری یہ فکر تھی صبح کہیں سوتا نہ رہ جاﺅںلہٰذا میں نے سونے سے قبل دو گھنٹے بعد کا الارم لگا لیا تھا۔ دو گھنٹے سے پہلے بغیر الارم کے ہی آنکھ کھل گئی۔ ابھی فجر کی اذان نہیں ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے وضو کیا اور حرم شریف کی جانب نکل گیا۔ تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد میں وہیں بیٹھ گیا۔ مجھے اپنے والدین یاد آرہے تھے۔ میں دو دِن اتنا مصروف رہا تسلی سے اُن سے بات نہیں کر سکا تھا۔ پہلے میں نے سوچا اِس وقت اُنہیں کال کروں۔ مگر پھر یہ سوچ کر نہیں کی اِس وقت وہ سوئے ہوں گے۔ مجھے اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیگم یاد آرہی تھی۔ جس نے میری زندگی میں ہر طرح کی آسانیاں پیدا کیں۔ مجھے ایک مکمل انسان بنانے کی بھر پور کوشش کی۔ مجھے اُس وقت اُس کی ایک بات یاد آئی۔ میں اکثر بیرون ملک جاتا تھا ایک بار وہ مجھ سے کہنے لگی” آپ کیا منہ اُٹھا کر ہر دوسرے ماہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ کبھی مجھے بھی ساتھ لیجایا کریں“.... میں نے عرض کیا ” بیگم آپ کو صِرف حج اور عمرے پر ہی ساتھ لیجایا جاسکتا ہے“۔ میں سوچ رہا تھا کاش اِس وقت وہ بھی میرے ساتھ ہوتی۔ اِنہیں سوچوں کے دوران فجر کی اذان شروع ہوگئی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ شریف میں جب اذانیں ہوتی ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری موت واقع ہو چکی ہے۔ ہمیں اللہ نے بخش دیا ہے۔ ہم اس وقت جنت الفردوس میں ہیں۔ یہ اذانیں جنت الفردوس میں واقع کسی مسجد میں ہو رہی ہیں۔ چاروں جانب خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ایسی خوشبوئیں جِن سے آپ کے اندر کی ساری بُو ختم ہو جاتی ہے۔.... فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے کچھ دیر خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر قرآن پاک پڑھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا یہ وقت یہیں رُک جائے۔ میں یہیں بیٹھا رہوں۔ اِس دوران ایک پرندہ میرے سر پر آکر بیٹھ گیا۔ میں نے اُوپر دیکھا وہ میرے سر سے اُڑ کر میرے اِرد گرد منڈلانے لگا۔ میں نے قرآن پاک مخصوص جگہ پر رکھا اور یہ سوچ کر اپنے ہوٹل کی جانب چل پڑا کہ مجھے فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوٹل کی لابی میں پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا۔ وہ پرندہ ( چھوٹی سی ایک خوبصورت چڑیا جس کے انوکھے ہی رنگ تھے) میرے ساتھ ساتھ اُڑ رہا تھا۔ میں جیسے ہی حرم شریف سے باہر نکلا اُس چڑیا نے میرے اِرد گرد دو تین چکر کاٹے اور پھر واپس حرم شریف کے اندر چلی گئی۔ میں اُس چڑیا کو آج تک نہیں بھولا۔ میں اِس یقین میںمبتلا ہوں وہ چڑیا نہیںتھی۔ کوئی اور ہی تھا جو مجھے خدا حافظ کہنے آیا تھا۔ میں ہوٹل پہنچا تو وفد کے تقریباً تمام ارکان اپنا اپنا سامان لیکر ہوٹل کی لابی میں پہنچ چکے تھے۔ کچھ ناشتہ کر رہے تھے۔ میں بھی اپنا سامان لیکر لابی میں آگیا۔ ہلکا سا ناشتہ کیا اور پھر سب مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ ہم اکثر جب حج اور عمرے پر جاتے ہیں یہ دعا مانگتے ہیں اللہ ہمارے اِس عمل کو قبول فرمائے۔ مجھے یقین ہے ہمارا یہ عمل ضرور قبول ہو جاتا ہوگا۔ کیونکہ ہر کِسی کو اِس کی توفیق ہی نہیں ملتی۔ اور جنہیں ملتی ہے وہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں یہ عمل پورے جوش و جذبے پوری دیانتداری اور لگن سے ادا کریں۔ اِس کے باوجود اُن کے اِس عمل میں چھوٹے موٹے نقائص اگر رہ

جائیں اللہ ضرور معاف فرما دیتا ہوگا۔ مدینہ منورہ جاتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا عمرہ کی ادائیگی کے بعد جب روضہ رسول پر آپ حاضر ہوئے ہیں یہ بھی اصل میں اِس بات کا ثبوت ہوتا ہے اللہ نے آپ کی عبادت قبول کر لی ہے اور اِس کے صلے یا نتیجے میں ہمیں روضہ رسول پر حاضری کی سعادت بخش دی ہے۔ مدینہ شریف جاتے ہوئے میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ کہتے ہیں کوئی شخص جب نیک نیتی سے حج اور عمرہ کرتا ہے، اور سچے دل سے توبہ کرتا ہے اللہ اُس کے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ ہر انسان غلطیوں اور خطاﺅں کا پتلا ہے۔ جس طرح اللہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی ایسے ہی انسان کی غلطیاں بھی ختم نہیں ہوتیں۔ اللہ بہت رحیم کریم اور معاف کرنے والا ہے ( بے شک)۔ اللہ کے غضب سے مگر ڈرتے رہنا چاہئے۔ اور کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جس سے اللہ اپنے بندے سے مستقل طور پر ناراض ہو جائے۔ خصوصاً کسی کے ساتھ ظلم زیادتی نہیں کرنی چاہئے۔ تکبر ، منافقت اور کسی کا حق بھی نہیں مارنا چاہئے۔ اللہ ہم سب کو اِن سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جوں جوں مدینہ شریف قریب آتا جا رہا تھا دِل اِس احساس سے لبا لب بھرتا جا رہا تھا گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں جو ٹوٹی پھوٹی عبادت کی اُس کا صِلہ ملنے کا وقت قریب آتا جا رہا تھا۔ پھر پتہ چلا اب ہم مدینہ شریف کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ سب درود شریف پڑھ رہے تھے۔ سوائے میرے قریب بیٹھے سندھ اسمبلی کے اراکین کے جو مسلسل سیاسی موضوعات میں الجھے ہوئے تھے۔ ہمارا سفر مکمل ہوگیا۔ ہم مدینہ شریف میں مسجد نبوی کے قریب اپنے ہوٹل پہنچ چکے تھے۔ یہاں بھی سب کو کمرے الاٹ کئے گئے۔ سب نے اپنا اپنا سامان اپنے اپنے کمروں میں رکھا اور ٹولیوں کی صورت میں مسجد نبوی کی جانب جانے لگے۔ مسجد نبوی کا منظر بڑا سہانا تھا۔ حافظ مرغوب ہمدانی کی یہ نعت اُس وقت مسلسل میرے کانوں میں گونج رہی تھی ” رحمت برس رہی ہے محمد کے شہر میں “ .... آج اِس رحمت کو برستے ہوئے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ پھر حاجی غلام فرید یاد آئے ” بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاﺅں گا خالی “ ( جاری ہے)


ای پیپر