نواز شریف کا مقدمہ
18 جولائی 2018 2018-07-18

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی احتساب عدالت کے 6 جون کے فیصلے کے خلاف اپیل اور جیل سے ضمانت پر رہائی کی سماعت رواں ماہ جولائی کے آخری ہفتے یعنی انتخابات کے انعقاد کے بعد کسی تاریخ پر ملتوی کر دی ہے۔۔۔ جس کا مطلب ہے وہ انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔۔۔ نواز کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے جس تیز رفتاری کے ساتھ نیب عدالت میں سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی اور انہوں نے پے در پے تاریخوں پر بیٹی سمیت اسی سے زائد پیشیاں بھگتیں اسی سرعت کے ساتھ اپیل اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کیوں نہیں کی جا رہی۔۔۔ مگر ان تمام مقدمات اور سزاؤں کے پیچھے ہماری جن مہربان قوتوں کا ذہن اور منصوبہ بندی کار فرما ہے وہ ایسا کیوں ہونے دیں گی۔۔۔ انہوں نے نواز شریف اور مریم کو اس لیے جیل بھیجنے کا انتظام انصرام نہیں فرمایا کہ وہ وہاں سے نکل کر اپنی جماعت کی انتخابی مہم میں چھلانگ لگا دیں اور اس کا رخ پلٹ کے رکھ دیں۔۔۔ کچھ عرصہ قبل یہ بات ہمارے ’’والیان ریاست‘‘ کی پوری طرح سمجھ میں آ گئی تھی کہ نواز شریف کو انتخابات کے کھلے میدان میں شکست نہیں دی جا سکتی انہیں جائز اور شفاف آئینی و جمہوری طریقے سے اقتدار سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔۔۔ ان کا ووٹ بینک مضبوط تھا۔۔۔ باوجودد اس کے کہ 2014ء میں دھاندلی کے الزامات پر عمران خان اور طاہر القادری صاحب کے دھرنے لگوائے گئے۔۔۔ اک شور قیامت بپا کیا گیا یہاں تک کہ اس کی پرواہ نہ کی گئی کے عوامی جمہوری چین جیسے دوست ملک کے صدر شی چن طے شدہ دورے پر اسلام آباد ہائی اڈے سے اتر کر سلامتی کے ساتھ ایوان صدر یا وزیراعظم ہاؤس پہنچ سکیں گے یا نہیں انہیں مجبوراً بھارت کا رخ اختیار کرنا پڑا۔۔۔ ذرہ برابر احساس ہمارے صاحبان ذیشان کو اس کے باوجود نہ ہوا۔۔۔ دھرنوں کا زور ٹوٹنے نہ دیا گیا تا آنکہ اسی برس 16 دسمبر کو دہشت گردوں نے اچانک پشاور کے آرمی پبلک سکول پر وہ قیامت ڈھائی کہ پورا ملک لرز کر رہ گیا۔۔۔ ہمارے نونہالوں اور ان کے اساتذہ کے خون کے ساتھ اس ہولناک طریقے سے دہشت گردی کی ہولی کھیلی گئی کہ ملک کا بچہ بچہ کانپ اُٹھا ۔۔۔ اصل حاکموں کے بھی اوسان خطا ہو گئے۔۔۔ تب کسی امپائر کے اشارے پر ہمارے کھلاڑی نے دھرنوں کی صف لپیٹ دینے کا اعلان کیا۔۔۔ طاہر القادری پہلے ہی رخت سفر باندھ چکے تھے۔۔۔ طے ہوا چیف جسٹس کی قیادت میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا جو 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا مکمل طور پر جائزہ لے گا۔۔۔ تحریک انصاف کی جانب سے تمام تر ’’شہادتوں‘‘ کے پیش ہونے اور عبدالحفیظ پیرزادہ جیسے مہنگے ترین اور قابل ترین وکیل کے دھاندلی کے حق میں دلائل کے بعد فیصلہ یا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔۔۔ انتخابی عمل کے دوران ایسا کوئی ناجائز کام نہیں کیا گیا جو انتخابی نتائج کو پلٹ کر رکھ دیتا ۔ چھوٹی موٹی بے قاعدگیوں کے شواہد یقیناًملے ہیں جو ہر انتخاب میں ہوتے ہیں۔۔۔ یوں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ تیسری مرتبہ وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کی یار لوگوں کی ایک بڑی کوشش ناکام ہو گئی۔۔۔

لیکن خود کو ارض پاکستان کا مالک سمجھنے والوں نے یہ کام کرنا ضرور تھا۔۔۔ انہوں نے تہیہ کر رکھا تھا۔۔۔ اپریل 2015ء میں میں عالمی اور ملکی ذرائع ابلاغ میں پانامہ کے انکشافات کی خبر چھپی۔۔۔ اس میں بتایا گیا پاکستان سے تعلق رکھنے والے 436 افراد اور ان کے خاندانوں کی بھی اس جزیرہ نما ملک میں آف شور کمپنیاں ہیں۔۔۔ نواز شریف کے بچوں کے نام بھی تھے۔۔۔ سب نظر انداز ہوئے لیکن وزیراعظم صاحب دھر لیے گئے کہانی کی

تفصیلات ہر پڑھنے والے کے علم میں ہیں۔۔۔ جے آئی ٹی قائم کی گئی۔۔۔ جرم تلاش کرنے میں مگر وہ کامیاب نہ ہوئی۔۔۔ لیکن نواز شریف کی جلد از جلد برطرفی مقصود خاطر تھی لہٰذا اقامہ جیسا صاحب نظر اور قانون دان حضرات کی نگاہ میں کھوکھلا بہانہ ڈھونڈا گیا کہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ اگرچہ وصول نہیں کی۔۔۔ لیکن آپ کے نام پر درج تو تھی۔۔۔ کاغذات نامزدگی میں اتنی ساری آمدنی کو چھپا کر کیوں رکھا یوں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ’تاریخی‘ فیصلہ صادر فرماتے ہوئے وزیراعظم کو بیک گونی و دو گوش گھر روانہ کر دیا۔۔۔ ساتھ حکم جاری فرمایا کہ نیب کی عدالت ہمارے ایک جج کی نگرانی میں پانامہ الزامات کی تحقیقات کرے اور فیصلہ سنائے۔۔۔ چنانچہ 6 جولائی کو نواز کے لیے دس سال کی قید جمع 80 ملین ڈالر کا جرمانہ مریم 7 سال کی جیل بمع 2 ملین پاؤنڈ جرمانہ اور اس کے شوہر کیپٹن صفدر کو ایک سال کے لیے پابند سلاسل ہونے کا مستحق قرار دے دیا گیا۔۔۔ نواز اور مریم مصنوعی سانس لیتی ہوئی کینسر کی مریضہ بیگم کلثوم نواز کے علاج اور عیادت کی خاطر عارضی طور پر لندن گئے ہوئے تھے۔۔۔ فیصلے کا علم ہوا تو قانون کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے بیمار و لاغر بیوی اور ماں کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے آئے۔۔۔ نیب نے لاہور کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیا اور راولپنڈی لے جا کر اڈیالہ جیل میں ڈال دیا۔۔۔ لندن اکانومسٹ جیسے دنیا کے معتبر جریدے نے تبصرہ کیا پاکستان میں حکمرانی پر فائز رہنے والے لوگ اپنے خلاف مقدمات کی بوباس پا کر بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں۔۔۔ نواز شریف سزا کاٹنے کی خاطر لندن سے چلا آیا۔۔۔ اور جس فیصلے کی بنا پر اتنی بڑی سزا دی گئی ہے اس میں جج صاحب نے کھل کر اعتراف کیا ہے ملزمان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔۔۔ البتہ آمدن سے بڑھ کر وسائل جمع کیے ہیں۔۔۔ اس فرمان کی بنیاد بھی کسی ٹھوس اور قطعی شہادت کے بجائے مفروضات پر رکھی گئی ہے۔۔۔ ثقہ اور معتبر قانون دانوں کی اکثریت کی رائے میں فیصلہ اتنا کمزور ہے کہ اعلیٰ عدالت میں اپیل کے منظور ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔۔۔ مگر اگر یہ ہونا تھا تو تمام تر مقدمہ اور سخت ترین سزائیں کس کام کی۔۔۔ فوری مقصد نوا زاور مریم کو انتخابی اکھاڑے سے باہر رکھنا اور پسندیدہ کھلاڑیوں کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔۔۔ انتخابات سے پہلے اپیل کیوں منظور کی جاتی۔۔۔ دھرنوں کے روز اوّل سے لے کر آج تک سب کچھ Script کے تحت ہو رہا ہے۔۔۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے محترم چیف جسٹس صاحب چھٹی پر ہیں۔۔۔ لیکن اپیل اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے لیے دو رکنی بنچ سب سے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے نہیں بنوایا گیا۔۔۔ آگے اے قارئین آپ بہتر جانتے ہیں۔

نواز شریف کا اصل جرم کیا ہے۔۔۔ اس نے خود کہا مجھے جنرل (ر) مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت سنگین غداری کے الزام پر مقدمہ قائم کرنے کی سزا دی گئی ہے۔۔۔ کسی جانب سے تردید نہیں ہوئی ۔۔۔ صاحبان نظر و خبر کی رائے یہ بھی ہے ڈان لیکس والا قضیہ آخری کیل ثابت ہوا۔۔۔ ہماری تاریخ کی اس متنازع ترین خبر کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے آئینی لحاظ سے اپنے ماتحت ماتحت حاکموں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ دہشت گردی کے مسئلے پر امریکہ و افغانستان کیا چین بھی ہمارا مؤقف ماننے کے لیے تیار نہیں۔۔۔ سختی کے دن آنے والے ہیں حفظ ماتقدم کے طور پر ابھی سے کچھ اقدامات کر لیے جائیں۔۔۔ خبر چھپی تو نازک آبگینوں کو ٹھیس پہنچ گئی۔۔۔ اشاعت کی دیر تھی۔۔۔ ہلچل مچی اور غصہ دیدنی تھا۔۔۔ باوجود اس کے کہ حکومت کی جانب سے تردید کی گئی مگر خبر کی اپنی جگہ ایک طاقت تھی کیونکہ طاقتوروں کے بارے میں تھی۔۔۔ بعد کے مہینوں میں پاکستان کا نام البتہ گرے لپیٹ میں شامل ہو گیا۔۔۔ ہر کہ و مہ کو جان لینا چاہیے کہ نواز شریف اپنے کیے کی سزا خود بھگت رہا ہے۔۔۔ چودھری نثار نے شاید درست کہا ہے ’’ نواز شریف کو اپنی غلطیوں کی سزا مل رہی ہے۔۔۔ اداروں سے ٹکر لینے سے منع کیا تھا‘‘ ۔۔۔ خواہ ماتحت ہوں۔۔۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ملکی تاریخ کے تیرہ کے تیرہ وزرائے اعظم کے ساتھ ٹکر کس نے اور کیوں لی۔۔۔ انہیں چین سے کام کیوں نہیں کرنے دیا گیا حالانکہ وہ آئینی لحاظ سے ٹکر لینے والوں کے مقابلے میں برتر عہدے کے مالک تھے۔۔۔ ادارے دنیا کے دوسرے جمہوری اور مہذب ملکوں میں بھی ہوتے ہیں۔۔۔ منتخب حکومتوں کی پالیسیوں کا اتباع کرتے ہیں۔۔۔ نواز شریف اوصاف حمیدہ کا مرقع ہے نہ غلطیوں کا مرکب ۔۔۔ درمیانے درجے کا آدمی ہے۔۔۔ جیسے دنیا کا ہر سیاستدان ہوتا ہے۔۔۔ مودی کہتا ہے مجھے روزانہ اڑھائی من کے حساب سے گالیاں سننی پڑتی ہیں اور امریکہ کا صدر ٹرمپ کی اس کے ملک کے اندر وہ درگت بنتی ہے کہ بیان سے باہر ہے ایک روز بیان دیتا ہے دوسرے دن واپس لینے پر مجبور ہوتا ہے۔۔۔ مگر ادارے چپ بیٹھے رہتے ہیں۔۔۔ کوئی مشورہ دینا ضروری ہو تو خاموشی کے ساتھ گوش گزار کر دیا جاتا ہے۔۔۔ آئینی حدود کا پاس و لحاظ کیا جاتا ہے۔۔۔ بھارت میں 2019ء میں انتخابات ہونے والے ہیں۔۔۔ مودی حکومت کو اپوزیشن اور عوام دونوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔۔۔ مستقبل یقینی نہیں۔۔۔ امریکہ میں ٹرمپ کے بارے میں بھی عام رائے پائے جاتی ہے کہ دو سال بعد ہونے والے صدارتی چناؤ میں عوام کے ہاتھوں اڑا کر رکھ دیا جائے گا۔۔۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں نظام چلتا رہتا ہے اپنے برگ و بار لاتا ہے۔۔۔ ملک و قوم کے لیے ثمربار ثابت ہوتا ہے۔۔۔ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔۔۔ عوام سے ان کا بیلٹ بکس پر پہنچ کر کسی وزیراعظم یا اس کی حکومت ختم کردینے کا حق کیوں چھین لیا جاتا ہے۔۔۔ افراد سے انتقام لینے کی خاطر نظام کی گاڑی پٹڑی سے اکھاڑ کر رکھ دی جاتی ہے۔


ای پیپر