اگلا الیکشن کیسا
18 جولائی 2018 2018-07-18

انتخابات صرف ووٹ ڈالنے، گنتی کی کی تکمیل کے بعد نتائج کے اعلان ہی کا نام نہیں۔نہ ہی الیکشن کے بعد پارلیمنٹ کے وجود میں آنے،حکومت بن جانے کو جمہوریت کہا جاتا ہے۔ یہ تو محض پرا سس ہے۔ جو اچھا بھی ہو سکتا ہے برا بھی۔ مثبت بھی ہو سکتا منفی بھی۔ الیکشن کا نتیجہ تو لڑنے والی سیاسی جماعتوں کیلئے قابل قبول یا نا قابل قبول ہوتا ہے۔ قوم کیلئے،بین الاقوامی برادری کی نظر میں تو الیکشن اس پراسس کی ساکھ کا نام ہے۔ لہٰذا کامیاب الیکشن وہ ہوں گے جس کے نتائج کو قوم کی غالب اکثریت تسلیم کر لے۔ سیاسی جماعتیں رزلٹ کو قبو ل کر لیں۔ اور بین الاقوامی ادارے ان کے مستند ہونے پر مہر تصدیق ثبت کریں۔دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ہفتے منعقدہ الیکشن کس حد تک قابل قبول ہو تے ہیں۔اور اگلے الیکشن ماضی کے انتخابات سے کتنے مختلف ثابت ہوتے ہیں۔ الیکشن تو 2002 میں بھی ہوئے تھے۔اگر چہ وہ الیکشن سید ظفر علی شاہ کی جانب سے سپریم کو رٹ میں دائر پٹیشن پر فیصلے کے نتیجہ میں منعقد ہوئے۔ اس مشہور زمانہ فیصلہ میں جو قانون کی کتابوں میں نظیر بن کر سید ظفر علی کے نام پر کریڈٹ بن کر زندہ رہے گا۔ اس فیصلہ میں تین سالہ روڈ میپ دیا گیا تھا۔ جس میں ایک پہلو الیکشن کا انعقاد بھی تھا۔ پرویز مشرف کا الیکشن کرانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ بین الاقوامی وعدالتی مجبوری تھی۔ لہٰذا پہلے قابض حکمران نے لوکل باڈیزکے انتخابات کے ذریعے حاشیہ بر داروں اور کاسہ لیسوں کی فوج ظفر موج کو اضلاع شہروں ٹاؤنوں میں مسلط کیا۔ جعلی ڈگری یافتہ ناجائز کاروبار میں ملوث ہو کر دولت کمانے والے سیاسی گماشتے ان کے عزیز واکارب پیسہ پانی کی طرح بہا کر بلدیاتی اداروں کے سربراہ بن گئے۔ پھر بھی خطرہ محسوس ہوا تو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا نام ہی ان کی پا رٹیوں سے ہٹا دیا گیا۔ تا کہ وہ اپنی جماعتوں کی راہنمائی نہ کرسکیں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں قائدین پہلے ہی جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن آمر مطلق کو ان کا نام رسمی طور پر بھی کاغذات میں گوارا نہ تھا۔ مکافات عمل ہے کہ اب وہ صاحب پرویز مشرف متحدہ عرب امارات میں مفرور ہیں۔ کمر میں درد کا شکار ہیں۔ علاج جس کا وہ رقص تھراپی کے ذریعے کراتے ہیں۔مفرور ہیں اور سپریم کورٹ کی ہلاشیری کے باوجود واپسی کی ہمت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ بھگوڑے وعدوں پر اعتبار کم ہی کیا کرتے ہیں۔ احتساب کا خوف دل ناتواں کو ہمت نہیں پکڑنے دیتا۔ 2002 کے الیکشن میں من پسند نتائج کے حصول کیلئے مزید اقدامات کرنے پڑے۔مسلم لیگ (ق) بنائی گئی۔ پورے ملک سے نیب زدہ سیاستدانوں کو مشرف بہ (ق) لیگ کیا گیا۔ ملت پارٹی بنائی گئی۔ جس کو بعد میں شکست کی ذلت چکھنا پڑی۔ سرکاری اہلکاروں نے انتخابات میں کھل کر مداخلت کی۔ پری پول الیکشن ڈے اور پوسٹ پول رگنگ کی گئی۔اس کے باوجود (ق) لیگ کو سپورٹ دینے کیلئے پیپلز پارٹی کو توڑدیا گیا۔ اس کے بطن سے پیٹریاٹ بنا ئی گئی۔ پھر بھی کام نہ بنا تو جیل میں
قید مولانا اعظم طارق کو رہا کر کے ظفر اللہ جمالی کی سپورٹ کیلئے آمادہ کیا گیا۔ ظفر اللہ جمالی کو صرف ایک ووٹ سے جتایا گیا۔ بہر حال وہ دور ختم ہوا۔ 2008 کے الیکشن آئے تو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو وطن واپس آ چکے تھے۔ اسی الیکشن سے چند روز پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ پروز مشرف نے دھاندلی کا زبر دست منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔ لیکن ان کا کوئی حر بہ کام نہ آیا۔ ایم ایم اے، پونم،پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کے باوجود الیکشن ہوئے۔مسلم لیگ (ق) کو بری طرح شکست ہوئی۔ مجموعی طور پر اس الیکشن کے نتائج کو تسلیم کیا۔ یہ دور پاکستان میں سیاسی استحکام لے کر آیا۔ سیاسی سطح پر بے شمار اقدامات ہوئے۔ یوں لگ رہا تھا کہ قوم کی سمت متعین ہو چکی ہے۔ اسی دوران پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھرنا شروع ہوگئی۔ جو کہ 2013 کے الیکشن تک مکمل طور پر بھر دی گئی۔ پیش گوئی کی گئی کہ بس سونامی آگیا۔ وکٹوں پر وکٹیں گرنے لگیں۔ کبھی پی پی کی،کبھی مسلم لیگ (ن) کی۔اکا دْکا دیگر پارٹیوں کی بھی۔ عام انتخابات کی شام تک تاثر تھا کہ پی ٹی آئی بس آئی کہ آئی۔ لیکن نتائج کچھ اور نکلے۔ پی ٹی آئی کو صرف کے پی میں سادہ اکثریت ملی۔ مرکز میں اڑھائی درجن سیٹیں۔پیپلز پارٹی جان سے جاتے جاتے بھی دوسرے نمبر پر رہی۔ پی ٹی آئی کو اپوزیشن کا کردار بھی نہ ملا۔ پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگا یا۔ ثبوت کے طور پر چار قومی اسمبلی کے حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا۔ دو حلقے لاہور کے ایک لودھراں،ایک سیالکوٹ۔ان تینوں حلقوں پر طویل قانونی جنگ ہوئی۔ دو حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوا۔ ایک میں مسلم لیگ (ن) جیتی ایک میں پی ٹی آئی۔ دو پر فیصلہ مسلم لیگ کے حق میں آیا۔ یہ سب کچھ بہت بعد میں ہوا۔ صرف ایک سال کے اندر پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے مابین خفیہ زبانی نکاح ہوا مقام نکاح، لندن۔گارنٹر قبلہ گاہی پا شا صاحب تھے۔ باراتی البتہ بہت سے تھے۔ خفیہ بھی اور ظاہری بھی۔ لہٰذا دھاندلی کا معاملہ دھرنے کے روپ میں متشکل ہوا۔ عمران خان،طاہر القادری الگ الگ کنٹینروں میں سوار رہے۔ اور دارالحکومت پر یلغار کی۔ راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ مورخ کبھی بتائے گا کہ کس طرح پنجاب حکومت نے دھرنے کی سہولت کاری کی۔ اسلام آباد میں خفیہ میزبانی میں شریک میزبان چوہدری نثار بھی تھے۔ جنہوں نے راستے کھلے رکھ کر لشکران جرار کو بتدریج ڈی چوک تک پہنچایا۔ اور پھر ایسا بیٹھے کہ 126 دن تک نہ اْٹھے۔ آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہوا تو دھرنا ختم ہوا۔ طاہر القادری البتہ زار راہ لیکر پہلے ہی رفو چکر ہو چکے تھے۔ حال ہی میں سیاسی جماعتوں نے اپنے اخراجات کی تفصیل الیکشن کمیشن کو جمع کرائی تو با ضابطہ اعتراف کیا گیا کہ دھرنے پر پارٹی فنڈ سے 27 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس دوران انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔سول نافرمانی کا اعلان ہوا۔ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنے کا حکم جار ی ہوا۔ سرکاری عمارتوں پر حملے ہوئے۔ آخر کار یہ معاملہ ایک طویل مباحثے کے بعد جوڈیشل انکوائری کمیشن میں گیا۔ 35 پنکچر ثبوتوں کے صندوق سب دعوے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ انکوائری کمیشن نے فیصلہ دیا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔ لیکن اس دوران جو ڈیمج ہونا تھا وہ ہو گیا۔سیاسی جماعت کے جسم پر اتنے چرکے لگے کہ خون رسنا چروع ہو گیا۔ 2018 کے الیکشن سے پہلے متفقہ انتخابی اصلاحات منظور ہوئیں اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے سوا تمام معاملات پر اتفاق رائے ہوا۔ نئے انتخابی قوانین بنائے گئے۔ جو احتساب کے حوالے سے نہایت موثر ثابت ہوئے۔ اس کے باوجود انتخابی مہم پھیکی بھی ہے اور خطرات سے پر بھی۔ ابھی عام انتخابات میں ڈیڑھ ہفتہ باقی ہے لیکن ایک کے سوا باقی جماعتوں نے شکایات کے انبار لگا رکھے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ عام انتخابات میں بیلٹ پیپر،بیلیٹ باکس کا تحفظ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔انتخابی عمل کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی سکیورٹی بھی الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی ہے۔ اگر بیلٹ پیپر،بیلٹ باکس کا تحفظ نہ کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کا اعتماد الیکشن پر نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ گزشتہ الیکشن تو نتائج کے بعد متنازعہ ہوا تھا۔ اگلے الیکشن پر تو ابھی سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔


ای پیپر