’’سر ۔۔۔ کرن کو کل رات کسی نے قتل کر دیا ۔۔۔؟؟‘‘
18 جولائی 2018 2018-07-18

’’مظفر کیا تم قسمت کے حال پر یقین رکھتے ہو؟‘‘ ۔۔۔ اُس نے سر جھکائے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھا ۔
’’کبھی کبھی تو یہ سب بکواس لگتا ہے لیکن کبھی کبھی اس پر سو فیصد یقین کر لینے کو بھی دل چاہتا ہے‘‘ ۔۔۔ میں نے غیر ارادی طور پر کہا تو وہ ہنس دی ۔۔۔ (اپنے مخصوص انداز میں ۔۔۔!)
’’تم تو اُن مردوں میں سے ہو جو کبھی درمیانی رستہ اختیارنہیں کرتے لیکن اس معاملے میں یہ کیا پالیسی ہے تہماری‘‘؟ ۔۔۔ وہ غور سے مجھے دیکھتے ہوے محبت سے بولی ۔۔۔
’’فیمی‘‘ ۔۔۔ مجھے ایک پیور پٹھان نے چند دل پہلے جب کہا کہ ضرورت کے وقت ’’گدھے کو بھی باپ کہہ لینا چاہئے‘‘ تو میں اُس سے ناراض ہو گیا کیونکہ پٹھان روایات کے مطابق دشمن دشمن ہوتا ہے اور دوست تو پھر دوست ہی ہوتا ہے ۔۔۔ اس لیے پشتون علاقوں میں خاندان در خاندان دشمنی چلتی ہے‘‘ ۔۔۔ میں نے اُسے کچھ سمجھانا چاہا ۔۔۔ مگر کمزدور دلیل کے باعث وہ ہنس دی کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ فون کی گھنٹی بج اُٹھی ۔۔۔ اُسے میرے ساتھ سفر کرتے یہ بات بہت ہی بُری لگتی تھی کہ میرے یا اُس کے فون کی گھنٹی بج جائے کیونکہ اس فون کی گھنٹی کو بھی وہ ہمارے معاملات میں مداخلت تصور کرتی تھی ۔۔۔ جس طرح اس وقت نواز شریف کے بعد زرداری صاحب کے فون کی بھی گھنٹی بار بار بج رہی ہے اور وہ بظاہر خود کو پریشان ’’شو‘‘ نہیں کر رہے لیکن پورے لاؤ لشکر کے ساتھ عدالت میں جا نے کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ ’’میں تو کسی سے نہیں ڈرتا‘‘ یا ’’میرا نام شیر خان ہے‘‘ ۔۔۔ بس ذرا کتا بھونکے تو میری ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔۔۔ تم نے فیس بک پر وہ پوسٹ دیکھے ہیں جس میں لکھاری نے اس ایک فقرے میں عجب داستان بیان کر دی ۔۔۔ ’’بچپن میں اُس وقت دل بُری طرح بد مزگی کا شکار ہو جاتا تھا جب ساری رات بارش برسنے کے بعد اسکول جانے کے وقت بارش تھم جاتی تھی ۔۔۔ ہاہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔ ہم دونوں خوب ہنسے بچوں کی طرح ۔۔۔ یہ جو تمہاری کزن الیکشن لڑ رہی ہے وہ نشہ بھی کرتی ہے‘‘ ۔۔۔ ؟! (قہقہے لگاتے اِک دم سے میرا یہ سوال اُس پر بجلی بن کر گرا؟) ۔۔۔
’’کیا‘‘ ۔۔۔؟ میں نے غیر ارادی طور پر پوچھا ۔۔۔ تو سنجیدہ ہو گئی۔۔۔ ’’اچانک ایسی بے ہودگی کرنا تمہاری عادت ہے؟ ۔۔۔ وہ میری سیدھی سادھی کزن ہے، مالدار ہے، خوبصورت ہے ۔۔۔ میں نے اُسے کئی بار نماز پڑھتے بھی دیکھا ہے ۔۔۔ پچھلے سال منگیتر کے ساتھ عمرہ بھی کر کے آئی ہے‘‘ ۔۔۔ اُس نے ہر طرح سے اُسے پارسا ثابت کرنا چاہا ۔۔۔
’’وہ الگ بات ہے اُس کے پارٹی کے نائب صدر سے راہ و رسم ہیں اور اُن کی ایک کلپ بھی فیس بک پر وائرل ہو چکی ہے ۔۔۔؟! جس پر لکھا جانا چاہئے تھا ۔۔۔ ’’صرف بالغوں کے لیے‘‘ ۔۔۔ میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے مداخلت کی ۔۔۔
’’زیادہ بکواس نہ کیا کرو ۔۔۔ تم یہ جو کبھی کبھی بہت زیادہ ’’لبرٹی‘‘ لے جاتے ہو ناں یہ کوئی اچھی بات نہیں ۔۔۔ اور با خبر تو تم نہ جانے ہر وقت کیوں اور کیسے ہوئے رہتے ہو‘‘ ۔۔۔ ؟
2013ء کے الیکشن کی طرح اس بار بھی تمہاری حالات پر پوری نظر ہے اور تم بھی اپنے استاد یٰسین وٹو کی طرح بضد ہو کہ وزارتِ عظمیٰ عمران خان کے پاس سے گزر جائے گی ۔۔۔؟! ’’چلیں جی ہم چپ رہتے ہیں‘‘ ۔۔۔ میں نے سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ لیکن میرا سنجیدہ ہونے کا ارادہ نہ تھا کیونکہ مجھے حالات ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔؟! ’’نہ نہ ۔۔۔ نہ نہ نہ پلیز ایسا نہ کرنا ۔۔۔ مجھے لاہور سے پنڈی والا وہ سفر یاد ہے جس میں میں نے بس میں بیٹھتے ہی کہا تھا ۔۔۔ پلیز گفتگو ذرا کم ۔۔۔ میں اس سفر کو آرام دہ بنانا چاہتی ہوں ۔۔۔ اور پھر تم نے پورے پانچ گھنٹے میری طرف مڑ کے نہیں دیکھا اور لگا تار سوتے رہے ۔۔۔ خراٹے مارتے رہے؟!‘‘ ۔۔۔ ’’ہے ناں ضدی لوگوں کی نشانی‘‘ ۔۔۔ ؟! ’’کوئی اور ہوتا تو تمہاری منت سماجت کرتا، ترلے ڈالتا ۔۔۔ کہ میں اس سفر کو بھی رنگین بنانا چاہتا ہوں پلیز اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرو؟ ہے ناں‘‘ ۔۔۔ میں نے اس کی طویل بات کا مختصر سا جواب دیا ۔۔۔ ’’اچھا وہ میری الیکشن لڑنے والی کزن کا تم کچھ بتا رہے تھے؟ کوئی خدشہ ہے تمہارے دل میں جو تم نے پوچھا کہ وہ نشہ کرتی ہے؟‘‘ ۔۔۔ ’’نہیں ۔۔۔ بس یونہی‘‘ ۔۔۔ ایسے موقع پر بات کو کریدنا اور مجھ سے سچ اگلوا لینا اُس کی فنکارانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔۔۔
میں نے اُسے کہانی سنا ڈالی ۔۔۔ وہ چہکی ۔۔۔ ’’اچھا تو وہ تمہارے دور پار کے دوست افضال گجر سے جو اُس نے منگنی سے پہلے ایک بڑا گھر اپنے نام کروانے کے علاوہ پانچ کروڑ لیا ہے ۔۔۔ کیا تم سمجھتے ہو اُس نے وہ پانچ کروڑ ابھی تک خرچ نہیں کیا ہو گا ‘‘ ۔۔۔ وہ بولتے ہوئے مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔؟! ’’دیکھو ۔۔۔ ’’فیمی‘‘ جب میں کسی ’’ایسے کیس‘‘ کو ہاتھ ڈالتا ہوں تو پھر سنجیدگی سے اُس کو انجام تک پہنچاتا ہوں تمہیں پتہ ہے ناں میں نے کبھی کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ۔۔۔ تہمت لگانا ویسے بھی بُری بات ہے اور تم خود کہتی ہو کہ میں اچھی عادتوں کو مجموعہ ہوں‘‘ ۔۔۔ میں نے اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے وضاحت کی ۔۔۔ ’’ہا ہا ہا ہا ہا‘‘ ۔۔۔ لمبا قہقہہ لگاتے ہوئے وہ مجھ سے مزید کچھ پوچھنا چاہتی تھی لیکن زور اُس کا پانچ کروڑ کے ہی معاملہ کی طرف تھا ۔۔۔ اصل میں جس رات کرن نے مجھے بتایا کہ ’’مظفر تم بھی کسی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ہو چوہدری ابو بکر کی طرح‘‘ ۔۔۔ تو میں نے اُس کو بازو سے پکڑ کر غصے سے دیکھا اور اُس کا بازو زور سے دبایا ۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔ ’’ چوہدری ابو بکر کی شادی کی فلم میں نے کل شام اُس کی نئی نویلی دلہن کے ساتھ دیکھی جس میں سب سے اہم مہمان تم ہی دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔ گویا تم اُن کے گھر کے فرد ہو یا پھر بہت ہی Closed فیملی Friend ۔۔۔؟
تمہاری کزن کی یہ بات سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔ میں نے اُسی رات چوہدری ابو بکر کے گھر جا کر ابو بکر اور اُس کی نئی نویلی دلہن سے سخت اور نہایت سنجیدہ لہجے میں بات کی تھی اور وہیں اُن دونوں نے گھبرا کر بتا دیا تھا کہ ’’ کرن تو صوم صلوۃ کی پابند نہایت عالی شان گھرانے کی لڑکی ہے اور چوہدری کے کزن افضال سے اُس نے منگنی کی ہے اور منگنی سے پہلے ویلنشیاء والا بڑا گھر بھی اس نے اپنے نام کروایا ہے اور پانچ کروڑ بینک بیلنس بھی ہے۔۔۔ میں نے ’’چڑ‘‘ کر اُنھیں پوچھا تھا ۔۔۔ کیا تمہیں معلوم ہے کرن ایک ڈرامہ پروڈیوسر ہے اور چرس کی رُسیا بھی ہے ۔۔۔؟ اور اُس کے حلقوں میں اُس کا نِک نیم ’’تتلی‘‘ پڑا ہوا ہے ۔۔۔؟!
میری اس بات پر وہ اچھلے تھے مگر گھبرا بھی گئے تھے ؟ ۔۔۔ اور میری موجودگی میں گاڑی نکال کر کہیں چلے گئے تھے۔۔۔ ’’اچھا‘‘ تو کرن جو بیمار ہے اور اُس کو دورے پڑ رہے ہیں اُس نے شاید ’’ڈرگز‘‘ کا بہت زیادہ استعمال شروع کر دیا ہے ۔۔۔ اس کی بنیادی وجہ تم ہو؟ ۔۔۔ اُسے اس حال میں تم نے پہنچایا ہے؟ ۔۔۔ وہ غصے سے بولی حالانکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ محض ڈرامہ کر ہی ہے ۔۔۔ فنکار تو بہر حال وہ ہے ناں ۔۔۔
اس دوران مجھے طارق فاروق کا فون آ گیا ۔۔۔ ’’ سر کدھر ہو؟‘‘ ۔۔۔ وہ بولا ۔۔۔ ’’میں جوہر ٹاؤن‘‘ ۔۔۔ میں نے غیر ارادی طور پر کہا ۔۔۔ ’’یہ خاتون کون ہے ساتھ ۔۔۔ ہماری بھابھی تو نہیں لگتی‘‘ ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔’’گاڑی روکو‘‘ ۔۔۔ میں نے فیمی سے کہا اور جلدی میں اتر کر طارق فاروق کی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔ فیمی نے غصے میں ’’کتا‘‘ بولا اور گاڑی بھگا دی ۔۔۔ میں عام طور پر دوستوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا اسی لیے سب کو میری سب الٹی سیدھی باتوں کا ہر وقت علم ہوتا ہے اور یہ سچائی مجھے ہر موڑ پر مسائل سے بچاتی ہے ۔۔۔؟اگلی صبح چوہدری ابو بکر کا فون چار بجے آیا جب اذانیں ہو رہی تھیں اور میں گہری نیند سو رہا تھا ۔۔۔
وہ ’’حاضر‘‘ تھا اور ڈرا ہوا بھی لگ رہا تھا ۔۔۔ کانپتی آواز میں بولا ۔۔۔
’’ سر ۔۔۔ سر جی کرن کو کسی نے قتل کر دیا ہے؟‘‘ ۔۔۔


ای پیپر