بذریعہ انٹرنیٹ ایف آئی آر کا اندراج : یہ منصوبہ کہاں گیا
18 جولائی 2018 2018-07-18

مجھے یاد پڑتا ہے کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کی صوبائی حکومت نے 2005ء نے تھانوں میں مقدمات کے اندراج کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور عوامی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تھاکہ’ ایف آئی آر انٹرنیٹ کے ذریعے بھی درج کرائی جا سکے گی‘۔ بتایا گیا تھا کہ’ وزارت داخلہ کا ذیلی ادارہ نیشنل پولیس بیورو اس سلسلے میں ایک ویب سائٹ تیار کررہا ہے، جس میں ایف آئی آر فارم دستیاب ہوں گے، یہ فارم انٹرنیٹ پر پُر کرنے کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کے واقعہ کی ایف آئی آر آسانی سے درج کروا سکے گا، مذکورہ فارمز کی نقل کی کاپیاں بالترتیب نیشنل پولیس بیورو اسلام آباد، متعلقہ ریجن کے انسپکٹر جنرل، اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس اور اور ایس ایس پی کو خودکار نظام کے تحت ای میل ہو جائیں گی‘۔ بذریعہ انٹرنیٹ ایف آئی آر کے اندراج کی اطلاع بادی النظر میں ایک دل خوش کن اطلاع تھی۔ بعد ازاں2008ء سے 2018ء تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پگ میاں میاں شہباز شریف کے سر پر بندھی رہی۔ ان کے دور میں تھانہ کلچر تبدیل کرنے کی یقین دہانی سیکڑوں بار کرائی گئی لیکن عملاً انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے بھی ایک مرتبہ بذریعہ انٹرنیٹ ایف آئی آر کے اندراج کا مژدہ سنایا اور پھر ان کا یہ بیان بھی محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوا۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج بذریعہ انٹرنیٹ کسی سائل کے درد کا درماں بن سکتا ہے۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ اگر کوئی غریب اور شریف شہری تھانے میں ایف آئی آر کے اندراج کیلئے جاتا ہے تو مقامی تھانے کا محرر اس سے پہلے مرحلے پر’’ منشیانہ‘‘ وصول کرتا ہے۔۔۔ ’’منشیانہ‘‘ کی وصولی کے بعد دوسرے مرحلے پراسے کسی تیز طرار اور فعال ’’افسر‘‘ کی طرف مارک کرنے کی فیس الگ سے وصول کی جاتی ہے۔۔۔ ایف آئی آر کے اندراج کے وقت منشی ملزمان کیخلاف سخت ترین دفعات لگانے کا ’’اعزازیہ‘‘ وصول کر نا بھی اپنا حق جانتا ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد متعلقہ ملزمان کی تھانہ طلبی کیلئے مدعی سے پٹرول کا خرچہ الگ سے وصول کیا جاتا ہے۔ دوچار کلومیٹر کی رینج میں ملزمان کے ٹھکانوں تک پہنچنے کا پٹرول خرچہ بھی کسی بھی طور ہزار پانچ سو سے کم نہیں ہوتا۔ ایف آئی آر کوئی سائل بذات خود تھانہ حاضر ہو کر درج کروائے یا بذریعہ انٹرنیٹ ،باقی ’’کارروائی‘‘تو محکمہ پولیس کے مقامی افسران و اہلکاران ’’حسب دستور‘‘ اور ’’حسب روایت‘‘ ہی کرتے ہیں۔ ایف آئی آر کی ’’گاڑی‘‘ کرنسی کے پہیوں کے بغیرایک سینٹی میٹر بھی حرکت نہیں کرتی۔اسے منشی کی میز سے متعلقہ بیٹ انچارج کی میز تک پہنچنے کے لیے بھی اسے دس بیس سرخ اور چار پانچ نیلے پہیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔درست ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے متعلقہ تھانے کے منشی کے پاس ایف آئی آر کا فارم اندراج کیلئے پہنچ گیا ۔ بہتر ہوتا کہ جناب پرویز الٰہی اور جناب شہباز شریف عوام کو یہ بھی بتا دیتے کہ منشی ’’ای میلی ایف آئی آر ‘‘ کا اندراج بغیر کسی منشیانہ، معاوضہ، اعزازیہ یا چائے پانی کا خرچہ لئے بغیر ایف آئی آر رجسٹر میں کرلے گا۔ پولیس کا اصل فرض تو کمزور کو انصاف کی فراہمی کیلئے عملی امداد فراہم کرنا ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ ایف آئی آر کا اندراج مقامی پولیس حکام و اہلکاران کاغذ بازی کی حد تک تو کسی نہ کسی طور کر ہی لیتے ہیں،لیکن شکایت کے ازالہ کیلئے عملی اقدامات ’’قائداعظم کی سفارش‘‘ کے بغیر نہیں کرتے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے ایف آئی آر کے اندراج سے بظاہر تو پرویز مشرف دور کی وزارت داخلہ یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ پاکستان بھی ترقی یافتہ مغربی ممالک کی طرح اکیسویں صدی میں داخل ہو چکا ہے جبکہ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے ماتحت اعلیٰ ترین پولیس افسران آج بھی انیسویں صدی اور ملکہ وکٹوریہ کے دور میں سانس لے رہے ہیں۔ اس اقدام سے مزیدایک تاثریہ دینے کی بھی کوشش کی گئی تھی کہ ہماری پولیس بھی مغربی ممالک کی پولیس کی طرح تفتیش و تحقیق کے لیے جدید ترین ترقی یافتہ نظام کی حامل ہے جبکہ بباطن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ حصول انصاف کی فراہمی میں ایف آئی آر یقیناًایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے بشرطیکہ محکمہ پولیس کے افسران و اہلکاران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کریں۔ عدالت ہائے عالیہ تک کو اس امر کی شکایت رہی ہے کہ حصول انصاف کی جلد فراہمی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ محکمہ پولیس کا عدم تعاون ہے۔ شہادتوں کا فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اس معاملے میں ناقابل ذکر سست روی کا مظاہرہ کرتاہے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے بعض عوامی تحفظات کا ازالہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اس امر کی کیا ضمانت ہوگی کہ انٹرنیٹ کے ذریعے جس شخص نے جس میل ایڈریس سے ایف آئی آر درج کرائی ہے ، وہ اسی کا میل ایڈریس ہے؟ کوئی بھی شخص کسی بھی دوسرے شخص کے میل ایڈریس کا پاس ورڈ حاصل کر کے کسی کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے۔ ہماری پولیس کا عمومی طور پر حال یہ ہے کہ وہ گمنام درخواستوں پر ہی شہریوں کوحراست میں لینے کے لیے ریڈ تک کرنے سے بھی باز نہیں آتی۔ جب اس روایت کی حامل پولیس کے پاس کوئی ایسی ایف آئی آر آئے گی جس کی کاپیاں بالترتیب نیشنل پولیس بیورو اسلام آباد، متعلقہ ریجن کے انسپکٹر جنرل ،اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس اور ایس ایس پی کو خودکار نظام کے تحت ای میل ہو چکی ہوں گی، تو ایف آئی آر میں نامزد ملزم کو ڈرانے، دھمکانے اور ہراساں کرنے کیلئے مقامی تھانوں کے حکام اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھ ایک مضبوط ترین سند جواز لگ جائے گی۔ جدید ترین طریقوں کو اپنانے سے قبل حکام اور اہلکاروں کی ذہنی ، نفسیاتی اور شخصی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات عدالت ہائے عالیہ کے جج صاحبان کے ریمارکس اور آبزرویشنز کی روشنی میں بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ محکمہ پولیس کی اصلاح کے لیے ایک بے رحمانہ گرینڈ آپریشن کی ضرورت ہے۔ محکمہ پولیس ان چند محکموں میں سے ایک ہے جس کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بذریعہ انٹرنیٹ ایف آئی آرکے اندراج ایسے اقدامات میڈیائی اور تاثراتی سطح پریقیناًخوشنما ہیں ۔ عوامی حلقے اس موقع پر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا محکمہ پولیس کے حکام و اہلکاران ترقی یافتہ ممالک کے محکمہ ہائے پولیس کے حکام و اہلکاران کی طرح خود کو شائستہ، مہذب، ذمہ دار، فرض شناس ، قانون شعار،دیانتدار اور عوام دوست رویوں کے حامل بنانے پر بھی آمادہ ہیں؟
تھانوں کو انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے دور میں داخل کرنے سے قبل تھانوں کی حدود سے رولا کریسی ، چھترالوجی اور تھرڈ ڈگری تعذیب کیلئے استعمال کئے جانے والے آلات تشدد کا غائب کیا جانا بھی ضروری ہے۔


ای پیپر