صحن چمن کی رونق
18 جولائی 2018 2018-07-18

ڈالر کی قیمت میں اضافے کی خبر سن پڑھ کر ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ہے۔ کیونکہ اس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا بلکہ آ چکا ہے۔جو لوگ پہلے ہی اس عفریت سے خوف زدہ تھے اب اور بھی ہوں گے۔ ادھر ملکی معیشت کا جو ہونے جا رہا ہے اس سے خوف آتا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں سے لٹے گئے قرضوں پر سود کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ یہ کیا ہو گیا؟
پچھلی حکومت کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستانی روپے کو مضبوط بنانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ۔ بالخصوص اسحاق ڈار پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عہدے کو بروئے کار لاتے ہوئے اقتصادیات کو توانائی فراہم نہیں کر سکے۔ قرضوں پر قرض لیکر خزانہ بھرتے رہے اور بڑے فخر کے ساتھ عوام کو بتاتے رہے کہ انہوں نے معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے؟
چونکہ میں ماہر معاشیات نہیں ہوں لہٰذا اعدادوشمار سے متعلق بتانے سے قاصر ہوں۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ گزشتہ حکومت کو اس امر کا لازمی علم ہو گا کہ آنے والے دنوں میں حالات کیا ہوں گے۔ کیونکہ وہ جو بھاری قرضے لیتی رہی ہے انہیں واپس کرنا ایک مسئلہ ہو گا ۔ اور ملک کے اندر ٹیکس نیٹ کو نہ پھیلا کر اس نے جن لوگوں کو خوش کیا ہے وہ قومی خزانے پر اثر انداز ہوں گے مگر وہ خاموش رہی۔ شاید وہ یہ بھی جانتی تھی کہ آئندہ اسے اقتدار نہیں ملنا لہٰذا آنے والی حکومت کو اتنا مسائل میں الجھا دیا جائے کہ وہ انہیں حل کرتے کرتے تھک جائے۔ اور عوام کی نظروں میں گرتی چلی جائے۔ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے اس نے عارضی اور مصنوعی اقدامات کیے جو آج اذیت پہنچانے لگے ہیں۔ بعض علاقوں میں ایک ایک گھنٹہ کے لیے بجلی آ جا رہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کہتی ہے کہ وہ اندھیرے بھگانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اب ملک جگمگ کر رہا ہے صنعتوں کا پہیہ حرکت میں آ گیا ہے روز گار کے مواقع
میسر آنے لگے ہیں اور خوشحالی کا دور دورا ہے۔ حیرت مگر یہ ہے کہ مسلم لیگ کے لوگ اب بھی کہے جا رہے ہیں کہ انہوں نے ہی دوبارہ اقتدار میں آنا ہے کیسے جناب! ملک کی حالت جب یہ کر دی گئی ہو کہ کھربوں روپے پلک جھپکتے ہیں قرضوں کا سود بڑھ جائے۔ اور عام آدمی زندگی کو خطرات میں گھرا دیکھ رہا ہو اسے قومی خزانے میں محفوظ اثاثوں کی فکر لاحق ہو جائے کہ اب اسے اپنا خون مزید دینے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ایک تشویش کی لہر ہر کسی کے بدن میں دوڑ جائے۔ اور وہ مایوسیوں کی گہری کھڈ میں گرتا چلا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے وہ کیوں انہیں کامیاب کرائے گا۔ اور جو ایسا سوچے گا وہ ذاتی مفاد کی خاطر ہی ان کی جیت کے لیے کوشاں ہو گا وگرنہ ملکی منظر سامنے ہے۔ جان نکلی جا رہی ہے اسے دیکھ کر۔ کہ اگر اثاثے خطرناک حد تک کم ہو گئے تو ایک افراتفری پھیل سکتی ہے۔ جرائم برق رفتاری سے بڑھ سکتے ہیں اور انارکی بھی جنم لے سکتی ہے۔ مگر زرا دیکھیے ان سابق حکمرانوں ۔۔۔ کو وہ پریشان نہیں ، انہیں اپنی جیت کی پڑی ہوئی ہے اور کہتے ہیں کہ اسے قانون کیوں حساب کتاب کا کہہ رہا ہے۔ اس کی جائیدادوں ، محلوں اور دولت کے بارے میں کیوں متحرک ہواہے۔ وہ تو یہ سب انتہائی خانفشائی اور دن رات کی محنت کی بناء پر حاصل کر سکے ہیں ۔ لہٰذا انہیں اس کا کوئی جواب نہیں دینا؟
پی پی پی کا بھی یہی مؤقف ہے کہ اس نے تو بالکل کچھ نہیں کیا جتنے بھی فنڈز ہیں اس نے غریب عوام پر خرچ کر دیے۔ پھر سندھ میں کہیں بھی غربت کا نشان نہیں ہے۔ ہاریوں اور مزارعوں کے چہرے روشن ہیں ننگے پیر خوبصورت آرام دہ جوتوں میں سکون سے ٹہل رہے ہیں ان کی زندگی میں ایک انقلاب آ چکا ہے نظام مساوات رائج ہو چکا ہے۔ جبکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور ان کے رفقاء بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ مل مل کر دھوتے رہے ہیں۔ باہر ان کی جائیدادیں موجود بتائی جاتی ہیں ڈالروں کو ادھر سے ادھر لے جایا گیا۔ اور عوام پر چند روپے صرف کر کے ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا۔ بھلا وڈیرے سائیں جاگیردار اور سردار اپنے ’’ محکوموں‘‘ کو خوشحال بنانے کے جتن کرتے یہ ممکن ہی نہیں تھا ۔ آئندہ بھی وہ اسی ڈگر پر چلیں گے انہیں خطرہ ہے کہ کل یہ پر آسائیش زندگی بسر کرنے لگے تو ان کی تابعداری کون کرے گا کون ان کے لیے زمینوں سے فصلیں (سونا ) اُگائے گا۔ جن سے وہ مغربی ممالک میں جا کر عیش و نشاط کی محفلیں سجاتے ہیں۔ ان کے نمائندے ’منتخب‘ ہوتے ہیں تا کہ انہیں ریاستی قوانین میں جکڑا جا سکے۔
یہ نا انصافی شاید اب زیادہ دیر نہیں چلے گی ان کا ظلم و جبر طول نہیں پکڑے گا۔ کیونکہ تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں ۔ ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہو چکا ہے۔ افسوس کہ نام نہاد دانشور ایسے لوگوں کو روشن خیال قرار دے رہے ہیں اپنی تحریروں میں اپنے مذاکروں اور مباحثوں میں۔ یہ وہ سیاسی جماعت ہے جس نے مزدوروں کو اس راستے سے دور کیا جو انقلاب کا راستہ تھا۔ ان کی انجمن سازی پر بھی پابندیاں عائد کیں۔ اور خوب مال کمایا ؟
ہاں تو بات ہو رہی تھی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے رخصت ہونے والی حکومت کے حوالے سے کہ اس نے ڈالر کو کمزور کرنے والے منصوبے نہیں بنائے۔ ٹیکس کا نظام بہتر نہیں کیا نا جائز ذرائع سے حاصل کیے گئے سرمایے کو بھی نظر انداز کیا۔ جس سے خزانہ بڑھنے کی بجائے گھٹتا رہا اور جناب اسحاق ڈار اپنے پسندیدہ چینلوں پر آ کر منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے سب اچھا کا اعلان کرتے رہے جو سفید جھوٹ تھا۔ آج نوبت فاقوں تک آ گئی ہے مگر سوال یہ بھی ہے کوئی ادارہ ایسی حکمت عملی پر نگاہ نہیں رکھے ہوئے تھا جو کم از کم عوام کو بتاتا کہ شریف برادران کی حکومت کی پالیسیاں نقصان دہ ہیں مستقبل میں گھمبیر مسائل کا سبب بنا سکتی ہیں۔۔۔؟
یقیناًان پر نظر ہو گی مگر ان کی طعنہ زنی، نشتر زنی اور ہاؤ ہو کی وجہ سے شور نہیں مچایا گیا اور دبے زبان میں بات کی گئی۔ جو دھیرے دھیرے لوگوں کی سمجھ میں آ تی گئی اگرچہ عمران خان نے ان پہلوؤں کی طرف کبھی کبھی نظر دوڑائی مگر وہ بھی سارا زور بد عنوانی پر دیتے رہے اور ان کی پالیسیوں سے متعلق واضح انداز میں زیادہ نہ بتا سکے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ شریف بھائی ملک کی قیمتی اور منافع بخش اداروں کو نجی ملکیت میں اس لیے دینا چاہتے ہیں کہ ملکی معیشت و اقتصادیات پر ان کا کنٹرول قطعی اور مضبوط ہو جائے۔ پھر وہ تاحیات حکمران بن جائیں۔ خیر جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ مگر یہ بھی خوشگوار پہلو ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں سو فیصد کامیاب نہیں ہو سکے۔!
اس کا ثبوت چوہدری نثار کا یہ بیان یا انکشاف ہے کہ ’’ نواز شریف واہ فیکٹری کی نجکاری چاہتے تھے مگر انہوں نے یہ کھیل تبدیل کر دیا‘‘
مجھے اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ عوام ابھی ’’ اپنے‘‘ نمائندوں کی پہچان نہیں کر پائے اور ان کی سادگی کی ایک جھلک یہ بھی دیکھیے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو بھی ہے اچھا ہے یا برا ہے۔ کسی نے جو بھی غلط کیا ہے اس سے انہیں غرض نہیں ووٹ اسی کو ہی دیں گے۔؟
بہر کیف ابھی حکومت بنتے بنتے کئی ماہ لگ جائیں گے۔ مگر ضرورت ہے ڈالر جو آکاس بیل کی مانند پھیلتا ہی جا رہا ہے کو مزید پھلنے پھولنے سے روکا جائے۔ نگران حکومت اس کے لیے ہر صورت کوئی قدم اٹھائے۔ بعض سیانے کہتے ہیں ایمر جنسی لگائے بغیر چارہ نہیں کیونکہ حالات خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں جن کی ذمہ داری گھوم پھر کر پچھلی حکومت پر ہی عائد ہو گی۔ کیونکہ وہ مصنوعی ترقی ، خوشحالی اور معیار زندگی بلند ہونے کا راگ الاپتی رہی جبکہ سب کچھ اس کے بر عکس تھا اور آج ڈالر کی حیران کن چھلانگ لگی ہے تو سمجھ میں آ یا کہ کس طرح عوام کو دھوکے میں رکھا گیا۔ اندھیرے ختم کرنے کی آڑ میں انہیں گہرا کیا گیا۔ صرف گہرا ہی نہیں ڈراؤنا بھی بنا دیا گیا۔ مگر کچھ تو کرنا ہو گا ۔ تاکہ صحن چمن کی رونق بحال رہے۔۔؟


ای پیپر