عورت :خاندانی نظام کی بنیادی اکائی
18 جولائی 2018 2018-07-18

ہر سال مارچ کے پہلے ہفتے میں پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ اس موقع پر پاکستان میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات کے مقررین اور شرکاء خواتین کے مسائل کی نشاندہی کرتے اور ان کے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔انسانی تاریخ میں یہ اعزاز و افتخار صرف اور صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے عورتوں کے غصب شدہ حقوق کی عملی بازیابی کے نظائر دنیا کے سامنے پیش کئے۔ظہور اسلام سے قبل تمام دنیا میں عورت کو ایک گھٹیا، حقیر اور نجس مخلو ق تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام اور بان�ئاسلامؐ نے اسے افتخار و وقار کی مسند پر بٹھایا۔ وہ عورت جسے پیدا ہونے کے بعد زندہ درگور کر دیاجاتا تھا اسے والدین کیلئے جنت کی ضمانت قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات سے دوری اور انحراف کا نتیجہ ہے کہ آج عالم اسلام اور دنیا بھر میں خواتین کو ان گنت مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسلام عورت کو خاندانی نظام کی بنیادی اکائی تصور کرتا ہے۔ حجاب کا بنیادی مقصد بھی عورت کی عفت ، عصمت اور عظمت کو معاشرے سے تسلیم کروانا ہے۔ ترقی، تعلیم اور تہذیب میں بے پناہ ترقی کے دعویدار ممالک میں آج بھی عورت بدترین قسم کے استحصال، ناانصافی اور امتیازی رویوں سے دوچار ہے۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’’دنیا بھر میں 70فیصد خواتین اپنے شوہروں سے پٹتی ہیں۔ ہر سال 5 سے 15سالہ پچیس لاکھ عورتوں کو جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسی پر بس نہیں عورتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بنائی گئی لاکھوں فارن فنڈڈاین جی اوز کے کروڑوں عہدیداران کی موجودگی میں دنیا کے مختلف ممالک میں ایک لاکھ سے زائد عورتوں کو جسم فروشی کیلئے سمگل کیا جاتا ہے۔ امریکی ریاستوں اوریورپی ممالک میں بھی خواتین کو یہ شکایت ہے کہ مردوں کے برابر حقوق اور آزادیوں کے دعووں کے باوجود انہیں مرد روایتی تعصبات کا نشانہ بناتے ہیں۔ امریکی آئین کے تحت ڈیڑھ عشرہ قبل تک کوئی عورت ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے سے اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے اختتامی برسوں تک ان گنت ممالک کی عورتوں کے حقوق کی سب سے زیادہ پامالی امریکا اور اس کے حلیف مغربی ممالک کی افواج اور حکام ہی کے ہاتھوں ہوئی۔ گزشتہ 3عشروں میں بوسنیا،کسووا،چیچنیا، کشمیر، فلسطین، افغانستان،عراق اور شام میں بھارتی، سرب،روسی، اسرائیلی، امریکی اور مغربی افواج اور حکام نے ان ممالک کی عورتوں کے ساتھ سنگین زیادتیاں اور ناانصافیاں روا رکھیں۔ جا و بے جا عورت پر ظلم کے

خلاف صداہائے احتجاج بلند کرنے والی پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی این جی اوز اس کھلی درندگی پر مہربلب ر ہیں اور آج بھی خاموش ہیں۔

جب بھی خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے تو سب سے زیادہ زور اس امر پر دیا جاتا ہے کہ عورت گھرکی چاردیواری سے باہر نکل کر دفاتر، کاروباری مراکز،فلمی نگار خانوں،شبستانوں اور زندگی کے دیگر میدانوں کی رونق بن جائے۔ عورت کو گھر کی چار دیواری کے فانوس سے نکال کر آندھیوں کے چوراہے کی شمع بنادینا کسی بھی طور قرینِ انصاف نہیں۔ وہ عورتیں جو اپنے بچوں کی تربیت ، اپنی شخصی عزت، شوہر کی محبت اور خاندانی نظام کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے رضاکارانہ گھروں میں رہتی ہیں، بعض خواتین این جی اوز ان کے بارے ڈِس انفارمیشن پھیلانے کے گھٹیا حربے استعمال کرنے سے بھی باز نہیں آتیں۔ گھر عورت کیلئے کبھی قید نہیں رہا۔ حالات و حقائق نے ثابت کیا ہے کہ دنیا بھر کے معاشروں اور مملکتوں میں امڈ کر آنے والے بپھرے ہوئے طوفانِ بدتمیزی میں گھر ہی عورت کیلئے سفینۂ نوح کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ممالک جہاں عورت کو مساوی حقوق کے نام پر گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے،وہاں بھی آزادئ نسواں کی علمبردار خواتین یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ انہیں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔برطانیہ میں ہر پانچ میں سے چار عورتیں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ آزادی نسواں کے سب سے بڑے علمبردار ملک امریکا میں ہر تیسری عورت کو کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت کی سب سے قیمتی متاع اور سرمایہ اس کی عفت ہے اور تہذیب کے سب سے بڑی علمبردار اس عالمی طاقت کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ وہاں ہر تین منٹ بعد ایک عورت کو جنسی تشدد کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی مغربی تہذیب جسے عورت کی آزادی قرار دیتی ہے اس آزادی کی حیثیت حقیقتاً اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس نے عورت کو والدین، شوہر اور بچوں کی محبت کی قید سے نجات دلا کر اجنبی مردوں کے ہجوم میں دھکے کھانے، ہوٹلوں، نائٹ کلبوں، شراب خانوں اور جہازوں میں میزبانی کرنے اور دفاتر میں ’’باسز‘‘ اور ’’کولیگز‘‘ کی بدنگاہی کا سامنا کرنے ایسی ’’تفریحات‘‘ سے ’’محظوظ‘‘ ہونے کے مواقع فراہم کر دیئے ہیں۔ اس نام نہاد آزادئ نسواں کے خلاف وہاں کا سنجیدہ فکر حلقہ بھی صدائے احتجاج بلند کر رہا ہے۔ اس حلقے کا مؤقف ہے کہ مردوں اور عورتوں کے شانہ بشانہ کام کرنے سے بلاشبہ ہماری پروڈکشن میں اضافہ ہوا ہے لیکن ہمارا خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ امریکا و مغرب کی متعارف کردہ نام نہاد عورت کی آزادی کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اب تو وہاں باقاعدہ ایسی تحریکیں چل رہی ہیں کہ عورت کو گھر واپس لایا جائے۔ سابق روسی صدر گورباچوف نے تو اپنی کتاب میں یہاں تک لکھا ہے کہ ’’ عورت کو گھر واپس لانا پڑے گا، ورنہ جس طرح ہمارا خاندانی نظام تباہ ہوا ہے اسی طرح ہماری قوم بھی تباہ ہو جائے گی‘‘ بہرحال عورت کو دوسرے درجے کی حیثیت دینے کے خواہاں طبقات بھی اسلامی تعلیمات کے منافی رویوں اور رجحانات کو معاشرے میں فروغ دے رہے ہیں، انہیں بھی اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ معاشرے میں عورت کے ساتھ امتیازی رویوں کی روش اور چلن کا فوری انسداد ہونا چاہئے۔


ای پیپر