نظام انفاق کا نفاذ: معاشی ناہمواری کے خاتمہ کی ضمانت
18 جولائی 2018 2018-07-18

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی صلاحیت موجود ہے اور مخیر حضرات بے بس اور بے سہارا لوگوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ ایدھی ٹرسٹ ، چھیپا ٹرسٹ ،فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، شوکت خانم میموریل ہسپتال، سہارا لائف ٹرسٹ اور اخوت فاؤنڈیشن اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں، پاکستان کے شہری حلقے ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کی شخصیت کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اپنے منصب اور مقام کو کو عام اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بحالی اور بہبود کے پروگراموں کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ جو غریب اور نادار خاندانوں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے متمول اور مخیر حضرات کے تعاون سے کئی تقاریب کا اہتمام کر تیہیں۔ وہ معاشرہ کے وہ افراد جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانوں سے مال و زر سے نوازا ہے، کی توجہ اکثر غریب اور محروم طبقات کی جانب مبذول کرواتے رہتے ہیں۔ جہاں تک معاشرے کے محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں آسودگیاں اور آسائشیں بانٹنے کا تعلق ہے تو بنیادی طور پر یہ کام ایک فلاحی ریاست کو اپنے وسائل سے کرنا چاہیے۔

یہ المیہ ہے کہ جدت، تہذیب، جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق اور عام شہری کی بہبود کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود 21ویں صدی میں بھی تیسری دنیا کے اکثر ممالک کے غریب اور محروم طبقا ت سے تعلق رکھنے والے شہری زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ جہاں تک وطنِ عزیز کا تعلق ہے تو بدقسمتی سے مجموعی طور پر صورت حال کو یہاں بھی لائق رشک قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم یہ امر غنیمت ہے کہ وطنِ عزیز کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ اسلام کے پیروکاروں کی حیثیت سے آبادی کی اکثریت میں غریب، محروم اور نادار طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی امداد و بحالی کا جذبہ قوی اور توانا ہے۔ اس قوی اور توانا جذبہ کو بروئے کار لا کر وہ اکثر و بیشتر معاشرہ میں حوصلہ افزا اقدار و روایات کو متعارف کرواتے رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قدرت کسی ایک فرد کو اپنے وسائل اور اسباب اس لیے عطا کرتی ہے تاکہ وہ انہیں ان لوگوں تک پہنچا سکیں، براہِ راست جن کی رسائی ان تک نہیں۔ اس ضمن میں اسلام کا بنیادی درس یہی ہے کہ اس کے پیرو کار معاشرے میں غربت اور ناہمواری کے خاتمے کے لئے ایثار و قربانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ یہ بات اسلام کو دیگر مذاہب سے اس لئے بھی متمیز کرتی ہے کہ اس کے پیرو کار غریب اور مستحق افراد کی مدد کر کے کبھی کسی قسم کے زعمِ بے جا اور احساسِ برتری میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حقداروں تک ان کا حق پہنچا دیا ہے۔ قرآن واشگاف الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کرتا ہے ’’اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم لوگوں کا حق ہے‘‘ ۔قرآن ان لوگوں کو سخت وعید کا مورد ٹھہراتا ہے جو اللہ کے راستے میں انفاق نہیں کرتے اور اپنے سرمائے اور دولت کو اپنی ذات تک مرکوز رکھتے ہیں۔ سرمائے اور وسائل کا ارتکاز کرنے والے انسانوں کے لئے درد ناک عذاب کی بشارت ہے۔ ارتکازِ زر اور تکاثرِ زر کو قرآن کسی بھی ایک فرد یا گروہ کی ہلاکت کا موجب ٹھہراتا ہے۔ اس طرح اسلامی معاشرہ اور مملکت میں اس قسم کی بے نفسانہ اور بے لوثانہ اقدار و روایات فروغ پاتی ہیں، جن کے تحت اصحابِ خیر اور اصحابِ تمول اپنی دولت و ثروت کو اپنی کسی قابلیت، مہارت یا اہلیت کا شاہکار قرار نہیں دیتے بلکہ اسے خدا کی ایک خصوصی عطا سمجھتے ہیں اور اس پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ اس بخشش و عطا میں معاشرے کے ہر نادار اور غریب شہری کا بھی حصہ ہے۔ سو وہ معاشرے اور مملکت کے غریب اور مستحق شہریوں کی مدد کرنا اپنا فرضِ منصبی جانتے

ہیں۔ زکوٰۃ و عشر سے حاصل ہونے والی رقم کا بنیادی مقصد بھی معاشرے سے ناداری اور ناہمواری کا خاتمہ ہے۔یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اگر وطن عزیز کے خوشحال اور متمول طبقات و حضرات دیانتداری سے اپنی زکوٰۃ ادا کر دیں تو زیادہ سے زیادہ پانچ برسوں میں ملک کے محروم و نادار طبقات سے تعلق رکھنے والے تمام شہریوں کو غربت اور بیروزگاری کی زنجیروں سے آزاد کروایا جا سکتا ہے۔ زکوٰۃ کی رضاکارانہ اور دیانتدارانہ ادائیگی کسی بھی مسلم معاشرے اورمملکت سے ناداری اور ناہمواری کے مکمل خاتمہ کی یقینی اور حتمی ضمانت ہے۔ قرآن نے تو انفاق فی سبیل اللہ کے ایک پورے نظام کو متعارف کروایا ہے۔ اگر کسی بھی مسلم معاشرے اور مملکت میں انفاق فی سبیل اللہ کے اس نظام پر عملدرآمد کو یقینی بنا لیا جائے تو وہ معاشرہ اور مملکت دنیا بھر کے شہریوں کیلئے ایک رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر جائے۔


ای پیپر