ڈیم بناؤ، پاکستان بچاؤ
18 جولائی 2018 2018-07-18



پاکستان کو آج کل پانی کی قلت کے جس بحران کا سامنا ہے۔جو مستقبل میں ایک بھیانک عفریت بننے جا رہا ہے ۔لیکن ہمارے ملک کے حکمرانوں اور اس شعبے سے وابستہ ارباب اقتدارنے ملک کی زمینوں کو بنجر کر دینے والے اس اہم مسئلے کی طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پانی کا بحران پاکستان کے لیے دہشت گردی سے بڑا خطرہ ہے۔بلکہ یہ سب سے بڑا خطرہ ہے ۔لیکن ہمارے ہاں اصل مسائل سے ہٹ کر سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ٹی وی اینکرز کا بھی من پسند مشغلہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اورذاتیات پر حملے کرنا ہیں ۔
دوسری طرف بین الاقوامی ادارے رپورٹس پر رپورٹس جاری کیے جا رہے ہیں کہ 2025ء میں پاکستان خشک اور بنجر ہو جائے گا لیکن یہاں کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ پاکستان میں بننے والی کوئی بھی حکومت چاہے وہ سول ہو یا وردی والی، اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دی۔ آج تک کسی حکومت نے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ایک طرف پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بے حد متاثر ہوا ہے، تو دوسری جانب بھارت نے نئے ڈیم بنا کر پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک لیا ہے۔ دشمن سے تو کسی خیر کی توقع رکھنا بے وقوفی ہوتی ہے۔لیکن ہمارے اپنے جن کو ہم ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔ انہوں نے عوام کے بنیادی مسائل سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور اس حوالے سے مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ اس عوام کی قسمت پر بھی رونا آتا ہے جن کے بچوں کو اسی ملک میں رہنا ہے ۔وہ ایسے سیاست دانوں کو مسلسل ووٹ دیتی آ رہی ہے جن کی ترجیح ملک کے مسائل کو حل کرنا ہے ہی نہیں ۔آج کل ایک بار پھر ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔اگر عوام نے اس بار ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اور ملک پر انہی سیاست دانوں کو مسلط کر دیا جن کی نظر میں ایسے بنیادی مسائل جن کا تعلق مسلک، مستقبل اور عوام سے ہو کوئی اہمیت نہیں ہے تو ملک کی زمینوں کو بنجر ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔
پاکستانی عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مہم کا نعرہ ہے’ ’ ڈیم بناؤ، پاکستان بچاؤ ‘‘ ۔ اس مہم میں حصہ لینے والے ہر فرد کا ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ ہمیں سڑکیں ،میٹر و بس، اورنج ٹرین کی ضرورت نہیں ہے ۔ہمیں پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانا ہے ۔اس کے لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ نئے ڈیم بنائے جائیں۔کیونکہ صاحب شعور اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر ملک میں کالا باغ اور دیگر ڈیم تعمیر نہ کیے گئے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترس جائے گا۔
ہماری زراعت کا 40 فیصد انحصار ٹیوب ویل کے پانی پر ہے۔زیر زمین پانی کو ہم بے رحمی سے استعمال کر رہے ہیں۔ جس کاکوئی قانون، ضابطہ ہے نہ کوئی تربیت۔جس کا دل چاہے موٹر لگا لے اور جتنا پانی مرضی بہا دے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق کسی ملک کی پانی ذخیرہ کی صلاحیت 120 دن ہے جب کہ ہم صرف 30 دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پانی کی قلت کا شکار ممالک میں پاکستان اس وقت تیسرے نمبر پر ہے۔جس کی وجہ پانی کا غیر مناسب طریقے سے استعمال اور پانی کے ذخائر کی کمی بتایا جارہا ہے ۔اس وقت ملک میں چھوٹے ڈیموں اور براجوں کی تعداد تقریباََ ڈیڑھ سو کے قریب ہے جو کہ ناکافی ہے ۔دوسری جانب پاکستان کی چوتھائی آبادی پینے کے صاف پانی کو بھی ترس رہی ہے۔
پاکستان میں پانی کی کمی کا ذمہ دار مختلف عوامل کو ٹھہرایا جاتا ہے مثلاََ بھارت کا ڈیم بنانا ،پانی کا روک لینا ،عوام کا پانی کو ضائع کرنا ،لیکن یہ سب دوسرے درجے کی باتیں ہیں اصل اور سب سے بنیادی وجہ حکمرانوں کی کوتاہ بینی ہے جو مسئلہ پنپتا دیکھ کر بھی سدباب کے لیے کچھ نہ کر سکے۔اور نہ ہی کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دے سکے ہیں ۔بلکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کی حکومت ختم ہوئی وہ بیرون ملک سدھار جائیں گے اور ملک میں جن مسائل کو انہوں نے حل کرنا تھا اور نہیں کیا۔ ان کا سامنا صرف اور صرف عوام کی آنے والی نسل کو کرنا ہو گا ۔ان حکمرانوں کی نسلیں پہلے ہی بیرون ملک ہیں باقی جب برا وقت آیا تو یہ خود بھی بیرون ملک چلے جائیں گے ۔
مجھے آخر میں یہ ہی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے آبی وسائل کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ کی اور بڑے ڈیم تعمیر نہ کیے تو ملک میں پانی کی قلت اس حد تک بڑھ جائے گی کہ آبپاشی تو درکنار پینے کے لیے بھی پانی وافر مقدار میں دستیاب نہ ہو گا۔ملک کی ترقی ،خوشحالی اورمستقبل کو محفوظ بنانے کی لئے ڈیم بنانا وقت کی اہم ضروت ہے۔


ای پیپر