وکلا کے وفد کو نواز شریف سے کل ملنے کی اجازت مل گئی
18 جولائی 2018 (18:30) 2018-07-18

اسلام آباد:پاکستان بار کونسل(پی بی سی) کے 5رکنی وفد کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ملاقات کی اجازت مل گئی جوکل ان سے ملاقات کرے گی۔پی بی سی کی ٹیم بطور مبصرین نواز شریف سے ملاقات کرکے ان کو حاصل قانونی سہولیات کا براہ راست مشاہدہ بھی کرے گی۔

پی بی سی کے نائب چیئرمین کامران مرتضیٰ نے اسلام آباد احتساب عدالت کے رجسٹرار اور اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کو ارسال مراسلے میں ایون فیلڈ ریفرنس میں نامزد مجرم سابق وزیراعظم نواز شریف سے بدھ کو ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن متعلقہ حکام نے پی بی سی کے پانچ رکنی وفد کو 19 جولائی(جمعرات) کو 11 بج کر 30 منٹ پر ملاقات کی اجازت دے دی۔پانچ رکنی ٹیم میں کامران مرتضیٰ ، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبدالطیف آفریدی، محمد یاسین آزاد، پی بی سی ممبر اعظم تارڑ اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر خالد جاوید پر مشتمل ہوگی۔اعظم تارڑ نے بتایا کہ پی بی سی کا نواز شریف سے ملاقات کا ایک مقصد اس امر کا جائزہ لینا بھی ہے کہ انہیں فیئر ٹرائل، قانون کے مطابق جیل میں سہولیات حاصل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں فیئر ٹرائل پر سخت تحفظات ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نواز شریف د ہشت گرد نہیں بلکہ وائٹ کالر جرائم میں سزایافتہ ہیں اور اس لیے ان کے ساتھ ایک سخت گیر مجرم کی طرح رویہ نہیں رکھا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد نے کہا کہ پانچ رکنی وفد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کا جائزہ بھی لے گی اور ہمیں یقین ہے کہ احتساب عدالت کا حکم انتہائی کمزور بنیادیوں پر کھڑا ہے۔انہوں دیگر کرپشن ریفرنس میں نواز شریف کے خلاف جیل ٹرائل کی سخت مذمت کی اور کہا کہ مقدمات کی سماعت ٹرائل کورٹ کی حدود میں ہونی چاہیے۔


ای پیپر