جرم ایک جیسا، ایک کو سزا، ایک کو جزا
18 جولائی 2018 2018-07-18

میں پچھلے کئی دنوں سے تواتر کے ساتھ ، ملک میں بدلتی صورت حال، اور کسی کی مچلتی آسوں اور اُمیدوں، اور نکاح میں پہنی ہوئی شیروانی کو حلف اُٹھاتے وقت پہننے کی آرزو صبح دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے کی وجہ سے ”پھرتیاں“ جو شہر، شہر، قریہ قریہ لیے پھرتی ہیں، نہ دن کا چین ہے، اور نہ رات کا سکون، بس ایک جنون، ایک خبط، ایک خواہش ، ایک اُمید کسی کی دلائی ہوئی آس جو کبھی ”بدحواس“ بھی کردیتی ہے اور انسان ”گدھے“ نظر آنے لگتے ہیں۔ مگر ایسی بات صرف عمران خان نے نہیں کہی، کئی صاحب اسرار یہ بات کرتے ہیں، کہ باہر راہ چلتے انسانوں میں گنتی کے چند لوگ نظرآتے ہیں، باقی سب جانوروں اور درندوں کی شکل میں گھوم پھررہے ہوتے ہیں، میںنے پڑھی ہوئی اور سنی ہوئی بات کردی ہے مگر بشریٰ بی بی اس دشت بے بیکراں کی سیاح ہیں، جو پیدل اور ننگے پاﺅں مزارات پہ حاضری کے لیے چل پڑتی ہیں مگر بی بی رابعہ بصری ؒ، کسی بھی روحانی شخصیت یا متلاشی حق کے لیے ایک مثال ہیں، ان سے کسی نے ازراہ آزمائش سوال کیا، کہ خدا نے مردوں کو عورتوں پہ فوقیت دی ہے، اور وصف نبوت صرف مردوں کو ہی کیوں حاصل ہے، اس کے باوجود بھی رابعہ، آپ کو اپنے اوپر فخروتکبر ہے، دراصل آپ ریاکاری میں مبتلا ہیں، جواب دیا کہ یہ آپ بجا کہتے ہو، مگر یہ بتاﺅ کسی عورت نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا ہے؟اور ہیجڑے بھی مردوں میں سے ہوتے ہیں، کیا کبھی عورت بھی ہیجڑہ ہوئی ہے، جب کہ سینکڑوں مرد ”مخنث“ پھرتے نظرآتے ہیں ، رابعہ بصریؒ کے ان الفاظ پہ جوان کے بھرپور اعتماد اور یقین کا مظہر ہیں، کہ جس کی کوئی اور نظیر مجھے کسی اور میں نہیں ملی ، البتہ حضرت عمرؓ نے مصر کے دریائے نیل میں جہاں ہرسال نوجوان لڑکی کی قربانی دے کر اس کی طغیانی بند کرنے کا رواج پڑ گیا تھا، اور حضرت عمرؓ نے جوش میں آکر کہا تھا کہ لائیں میری قلم دوات، اور آسمان کی طرف دیکھ کر بے ساختہ کہا تھا، کہ ”ہم اُس کا کام کرتے ہیں، وہ ہمارا کام کیوں نہیں کرے گا، توکل کی یہ انتہا تھی، اور وہ خط دریائے نیل کے نام تھا، اور دریا میں پھینکنے کے بعد طغیانی واقعی بند ہوگئی ۔

قارئین آپ کو میری اس بڑھیا کی بات بھی یاد ہوگی، جس کی جھونپڑی بادشاہ نے گروادی تھی، بڑھیا اس وقت کسی کام سے کٹیا سے باہر گئی ہوئی تھی، جب واپس آئی، تو اس نے بھی آسمان کی طرف دیکھ کر یہی الفاظ بولے تھے کہ اے اللہ، میں اگر گھر میں نہیں تھی، تو کیا ہوا، ”تو توموجود ہے“پھر یہ جھونپڑی کیسے گرنے دی، اور اس کے ساتھ ہی بادشاہ کا محل دھڑم سے گر گیا بشریٰ بی بی امیدوار خاتون اول ، کسی بزرگ نے خواب میں حضرت رابعہ بی بی ؒ کو خواب میں دیکھا، اس وقت حضرت بی بی رابعہ بصریؒ کا انتقال ہوگیا تھا، اور ان سے پوچھا، کہ وفات کے بعد منکر نکیر سے کیا سوال جواب ہوئے؟ جواب دیا کہ جب انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ واپس جاکر اللہ تعالیٰ سے عرض کرو، کہ جب تو نے پوری مخلوقات کے ”خیال“ (بلکہ دیکھ بھال“ کے باوجود ایک ناسمجھ عورت کو کبھی فراموش نہیں کیا، اور ہروقت یادرکھا، تو پھر وہ تجھے کیسے بھول سکتی ہے، اور جب میرا دنیا میں تیرے سوا کسی سے ”تعلق“ ہی نہیں تھا.... تو فرشتوں کے ذریعے جواب طلبی کا کیا مطلب ؟وصال سے پہلے انہوں نے یہ بھی کہا تھا، کہ اگر تم نے مجھے جہنم میں ڈال دیا، تو میں شکوہ کرنے میں حق بجانب ہوں گی، دوستوں کے ساتھ تو دوستوں ہی جیسا برتاﺅ ہونا چاہیے، اس کے بعد ندائے غیب سے آواز آئی، کہ تو ہم سے بدظن نہ ہو، ہم تجھے اپنے ایسے دوستوں کی قربت میں جگہ دیں گے، جہاں تو ہم سے ہم کلام ہوسکے گی، یہ سن کر رابعہ بصریؒ بولیں، میرا کام تو بس تجھے یاد کرنا اور آخرت میں تمنائے دیدار ہے، مگر مالک ہونے کی حیثیت سے تو مختار کل ہے، یہ باتیں لکھنے کا مقصد، اور ضرورت تب پیش آئی، جب مجھے واٹس ایپ پہ یہ دکھایا کہ دنیا میں اب تک جتنی تحریکیں چلی ہیں، ماﺅں نے اپنے لاڈلے بیٹوں تک کوقربان کردیا، مگر تحریک انصاف یہ ایک ایسی تحریک ہے، کہ بچوں نے اپنی ”مائیں“ قربان کردیں، مگر تحریک کو کمزورنہیں ہونے دیا۔ میں نے پچھلی دفعہ عرض کیا تھا، کہ انسان اپنے ”ہم نشینوں“ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، عمران خان کے ہم نشین اور ہم جماعت وہم سکول جناب محترم پرویز خٹک سابق وزیراعلیٰ وارفع نے پیپلزپارٹی کے خلاف اتنی دھویں دار تقریر کی، کہ ایسی تاریخی زبان مدتوں پہلے مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کے خلاف کی تھی، اور وہ اکثر ایسے ہی کہا کرتا تھا، جیسے پرویز خٹک جیسے اہل قبور نے کہا .... اس نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے اپنی بیگمات سے دھندہ کرائیں، مجھے لکھتے ہوئے، شرم وحیا کے ساتھ ساتھ انتہائی دُکھ ہوا ، کہ عمران خان کے تربیت یافتہ، اس اخلاق باختہ شخص کے اخلاق کا معیار اتنا گھٹیا اور قابل مذمت ہے کہ جو براہ راست پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر اثر انداز ہوگا، پرویز خٹک نے مزید کہا کہ میں جس جگہ بھی پیپلزپارٹی کا جھنڈا لگا دیکھتا ہوں، تو مجھے فوراً یہ خیال آتا ہے، کہ یہ کسی طوائف کا گھر ہوگا۔ جس شخص کی تعلیمی قابلیت محض ”میٹرک“ ہو، تو پھر اس کے منہ سے پھول نہیں جھڑیں گے گالی گلوچ ہی نکلے گی، جس کو فسق وفجور کہتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے روز حسن اخلاق سے بڑھ کر مومن کے میزان میں کوئی اور چیز بھاری نہیں ہوگی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش کلامی کرنے والے ” بداخلاق “ کو ناپسند فرماتا ہے۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسا شخص نہ بتاﺅں، جو جہنم کی آگ پر حرام ہوگا، اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اور پھر فرمایا جومسلمان ہردل عزیز نرم خو، اور خوش گفتار ہوگا، جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی جو نرم خوئی سے محروم رہا وہ ہرقسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔

مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ پی ٹی آئی کے لیڈران کرام دوسرے ہم منصبوں کو تھپڑ جڑنے سے بھی باز نہیں آتے، اور وہ بھی کہیں تنہائی میں نہیں ، بلکہ ٹی وی، کے چلتے پروگرام میں میرا تو یہ خیال ہے اگر بشریٰ بی بی، ٹکٹ کی تقسیم پہ دخل اندازی کرکے، شوروغوغا، اور احتجاج کو دخل اندازی کرکے بند کراسکتی ہیں، تو مندرجہ بالا واقعات کو مدنظر رکھ کر اپنے لیڈران کرام کو جو خود گدی نشین ، اور ہم نشین بھی ہیں، انہیں درس وتربیت بھی دیں، کیونکہ کسی کو تعلیم دینے کا ثواب واجر بے حساب ہے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کیا خوبصورت بات کی ہے، فرماتے ہیں کہ اخلاق یہ ہے کہ انسان ”اعمال“ کا عوض نہ لے، اب آپ خود اندازہ لگائیں، کہ پارٹی کے کارکنان سے لے کر نگہبان تک کون ایسا شخص ہے کہ جو بے غرض ہے؟ کل نگران وزیراطلاعات علی ظفر سے جب پیمرا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب سے ہم آئے ہیں ہم نے میڈیا آزاد کردیا ہے، علی ظفر کی بات پہ یقین کیے بغیر ہم رہ نہیں سکتے، کیونکہ ان کے چہرے کی سنجیدگی بلکہ کھچاﺅ دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کو سہناتو بہت دور کی بات ہے، مسکرانا بھی بالکل نہیں آتا، کامران خان نے ان سے پوچھا کہ پیمرا کو آزاد کرکے آپ نے پورے ”میڈیا“ پہ پابندی کیوں لگا دی ہے، سوائے سنجیدگی کے ان کے لبوں پہ کوئی جواب نہیں تھا۔

قارئین کرام، اس دفعہ میں آپ کی توجہ راجہ ظفرالحق جنہوں نے واقعی حق ادا کرتے ہوئے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم، اور خصوصاً مذہب کے خانے کو خراب کرنے کی جوکوشش کی ہے بے نقاب کیا ہے چونکہ ہمارا اور ہمارے قارئین محترم کا دین، ایمان اور محورزندگی، رسول آخر زمان ﷺ کی ذات گرامی ہے، اور گستاخی رسول کی اداﺅں اور بیانات پہ محترم ممتاز قادری سے برداشت نہ ہوسکا، اور عمران خان نے یہ بیان داغ دیا تھا، کہ ممتاز قادری نے ہیرو بننے کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے، چونکہ اس وقت، تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی۔ ورنہ وہ بھی نون لیگ والا کام کرتے، میری دانست میں محض ایک یہی وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے پورا خاندان زیرعتاب ہے، اب ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے ہورہے ہیں، پچھلی دفعہ جسٹس (ر) چودھری اعجاز صاحب نے حضور کی شان میں منعقدہ ایک محفل میں مجھے بتایا تھا کہ میں نے از خود نوٹس لے کر حکومت جو غالباً ن لیگ کی تھی کہا تھا فوراً اقوام متحدہ میں ہنگامی طورپر جاکر گستاخانہ خاکوں کی نمائش بند کراکے اور احتجاج کرکے مجھے کل رپورٹ کرے.... اب اگرایسا درد، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت علی صدیقی صاحب کے دل میں غلامی رسول کی وجہ سے ہے تو ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کیس بھیج دیا جاتا ہے، اس کی ذمہ دار عبوری حکومت ہے موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار ہیں یا جان نثار کرنے والے کروڑوں عوام ہیں؟


ای پیپر