shahzad akbar,nawaz sharif,corruption,broadsheet,NRO
18 جنوری 2021 (13:19) 2021-01-18

اسلام آباد :وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ والے معاملے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ماضی کی ڈیلوں اور این آر اوز کی قیمت ایسی چکانا پڑتی ہے۔یہ خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔یہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے براڈ شیٹ کو ادا کی گئی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ لندن کورٹ کے فیصلے کے مطابق براڈ شیٹ نے نواز شریف کے اوپر 19 ملین کی کرپشن کی کیس ڈالا ہے اس وقت (مشرف حکومت میں) جو ڈیل ہوئی ۔2000 تک کی کرپشن 100 ملین یعنی 16 ارب روپے بنتے ہیں۔ ان کی  چوری کا اندازہ اس عدالتی فیصلے کے مطابق 16 ارب روپے لگایا گیا اور اس 16 ارب کا پھر آپ کو 20 فیصد دینے کیلئے کہا گیاجو حکومت پاکستان کو  دینے پڑے اور یہ این آر او کی قیمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی حکومت کے مطابق تمام فیصلے ہم نے پبلک کر دئیے ہیں۔وزیر اعظم نے وزرا کی  کمیٹی کے ذمے لگایا تھا کہ آپ نے اس سلسلہ میں ہمیں سفارشات دینی ہیں کہ ہمیں اس پر کیا کرنا چاہیے انہیں بھی وزیر اعظم کی طرف سے سفارشات آئی ہیں کہ 48 گھنٹوں کے اندر اپنی سفارشات دیں تاکہ اگلا لائحہ عمل بنایا جا سکے۔پھر جس بھی ایکشن کا فیصلہ کیا جائیگا وہ عوام سے شیئر کیا جائیگا۔  ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ہیں ہماری کوشش ہے کہ آنیوالے وقت میں ایسی غلطیاں نہ ہوں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ این آر او کی قیمت ٗ ڈیلوں کی قیمت ٗ سیٹلمنٹ کی قیمت ہمیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔اس معاملے میں احتساب ہوتا ہوا نظر نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ ماضی سے سیکھنا بہت ضروری ہے۔ احتساب کا عمل بہت ضروری ہے۔ اگر ایک شخص ٗ جس کی چوری پکڑی گئی ٗ وہ ہائی لائٹ ہوئی ٗ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا ٗ وہ نااہل ہوگئے ٗ ان پر مقدمہ چلا ٗوہ مجرم ہوگئے ٗمگر اس کے باوجود ان کی پارٹی اور کچھ لوگ آج بھی انہیں اپنا رہنما مانتے ہیں۔احتساب اس چیز کا بھی ہونا چاہیے کہ ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آپ برے کو برا نہیں کہیں گے تب تک آپ کیسے اس عمل کو بڑھا سکیں گے۔اس کا مطلب ہے کہ جن لوگوں نے نہیں ماننا ٗ انہوں نے نہیں ماننا ۔براڈ شیٹ کے معاملے میں پاکستان کو  جو جرمانہ ہوا ہے اس میں ایڈمرل منصور الحق کا نام نہیں ہے ٗ وہ شاید دوسرے  معاہدے میں ہو گا۔ 


ای پیپر