Shehzad Akbar,timeline,broadsheet,nab,pm imran khan,recovery,nawaz sharif
18 جنوری 2021 (12:58) 2021-01-18

اسلام آباد :  وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور شہزاد اکبر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور براڈ شیٹ کے درمیان قانونی محاذ آرائی کی پوری ٹائم لائن بتائی ۔ ان کے مطابق یہ معاملہ شروع  ہوتا ہے جون 2000 میں نیب اور براڈ شیٹ کے مابین ایسٹ ریکور کرنے کیلئے۔جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی ۔ جولائی 2000 میں ایک اور ایجنسی آئی اے آر انٹرنیشنل سے بھی معاہدہ ہوا ۔ دسمبر 2000 میں نواز شریف ڈیل کر کے سرور پیلس سعودی عرب چلے گئے۔ یہ معاہدہ چلتا رہا۔ 28 اکتوبر  2003 میں براڈ شیٹ کے ساتھ یہ معاہدہ نیب نے منسوخ کر دیا کہ ہم آپ کے ساتھ معاہدے کو جاری نہیں رکھنا چاہیے۔ 2007 میں ان کمپنیوں نے حکومت پاکستان کو قانونی نوٹس دیدیا کہ آپ نے خلاف ورزی کی ہے اور آپ کے ذمے ہمارے اتنے پیسے واجب الادا بنتے ہیں۔اس وقت ان کے ساتھ ایک سیٹلمنٹ ایگری منٹ کیا گیا۔ 

پہلا ایگریمنٹ جنوری 2008 میں آئی اے آر کے ساتھ  ٗ ان کو 2.5 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ 20 مئی 2008 ایک سیٹبلمنٹ ایگری منٹ سائن ہوتا ہے براڈ شیٹ کے ساتھ  جس کے تحت انہیں 1.5 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ 25 مارچ 2008 سے یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے۔اس کے بعداکتوبر 2009 کو براڈ شیٹ نے حکومت پاکستان کو دوبارہ نوٹس دیا کہ آپ کے ذمے ہمارے واجب الادا پیسے ہیں۔ جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز ہوا جوجنوری  2016 میں مکمل ہوتی ہیں۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف تھے۔  5 اگست2016 کو لائبلٹی ایوارڈ پاکستان کیخلاف ہو جاتا ہے۔ اس میں کہا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان نے براڈ شیٹ کو یہ پیسے لازمی  دینے ہیں۔اب کتنے پیسے دینے ہیں یہ ڈٹرمنٹ کرنا ہے  اور اس کیلئے ثبوت لئے  جاتے ہیں۔ اس سماعت کا آغاز ہوتا ہے۔ دو سال وہ قانونی کارروائی چلتی ہے جولائی 2018 میں فیصلہ آجاتا ہے ۔ اس وقت نگران ہوتی آ چکی تھی۔

ہماری حکومت اگست 2018 میں آتی ہے۔ حکومت پاکستان اپیل کرتی ہے جس کا فیصلہ براڈ شیٹ کے حق میں آتا ہے۔جون 2020 میں براڈ شیٹ برطانوی عدالت سے یہ فیصلہ لیتا ہے کہ حکومت پاکستان نے ہمارے پیسے  دینے ہیں ہمیں ان کے اثاثہ جات کے بدلے وہ رقم دلوائی جائے۔حکومت پاکستان اس کے بعد 31 دسمبر 2020 کو پیمنٹ کر دیتا ہے جس کے بعد وہ اینٹرم آرڈر واپس لے لیتا ہے۔ 


ای پیپر