mushtaq sohail columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
18 جنوری 2021 (12:08) 2021-01-18

لانگ مارچ سے پہلے خوف و ہراس کی فضا، ترجمانوں کی پوری کھیپ بد زبانی پر اتری ہوئی۔ بقول محترم الطاف حسن قریشی بد زبانی کا مقابلہ چل رہا ہے جو جیتا وہی سکندر، شکست پر ندیم افضل چن کی طرح مستعفی، آپا فردوس عاشق اعوان کے بیانات میں بھی شاعری کا رنگ نمایاں، کہنے لگیں۔ استعفے خواب، اسلام آباد دھرنا سراب، قافیہ مل گیا مگر حکومتی ترجمانوں کے بیانات سے لگتا ہے کہ فاقیہ تنگ ہو رہا ہے۔ مہلت ختم ہونے کو ہے لوگوں نے کہنا شروع کردیا۔ ’’لانگ مارچ سے پہلے خوف لانگ مارچ کے بعد دھڑن تختہ، دھڑن تختہ محض مفروضہ، اس پر اتنا خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ جلسوں اور ریلیوں کی صورت میں لانگ مارچ کے ٹریلر سے ہی خوف سے بھرے بیانات، پریس کانفرنسیں، ٹوئٹس، ترجمانوں کی پوری پلٹن، وزرا اور مشیروں کی بریگیڈ ہائی الرٹ، بلڈ پریشر میں اتنا اضافہ، وزیروں پر برس پڑے کیسے وزیر ہیں۔ اتنی بار جھاڑ پلانے پر بھی کارکردگی صفر، وفاقی کابینہ کے اجلاس میںجھاڑ پلائی کارکردگی درست نہیں، اپوزیشن کے کہنے پر اعتبار نہیںآ یا تھا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ’’کھلی آنکھوں سے دھوکہ کھا گئے ناں‘‘ 9 اور  10 جنوری کی درمیانی رات، عزیز از جان سکھوں سے منسوب ٹائم ٹھیک بارہ بجے ادھر سوئی پر سوئی چڑھی ادھر پورے ملک کی بجلی غائب، قسمت میںہی اندھیرے لکھے ہوں تو کوئی کیا کرے، صبح سے پہلے روشنی کی کرن نظر نہ آئی۔ اس دوران افواہوں کا بازار گرم۔ ہزاروں میسیج، لاکھوں ٹوئٹس، خلق خدا پریشان ’’یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔‘‘ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ’’انسانی غلطی کی وجہ سے روز بد دیکھنا پڑا۔ لوگوں نے انقلاب اور تبدیلی کی افواہیں اڑا دیں۔ انقلاب آیا نہ تبدیلی۔ صبح دم بجلی آگئی۔ عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ موجودہ دور میں جو مل جائے وہ ہی غنیمت۔’’ غنیمت جانیے مل بیٹھنے کو، جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے‘‘ عمر ایوب وزیر توانائی لیکن خود توانا نہیں، دادا خاصے بلکہ بڑے توانا تھے۔ دو تین ڈیم بناگئے۔ جن سے توانائی حاصل ہوئی، عمر ایوب بجلی کو ٹرانسمنٹ نہ کرسکے۔ الزام اول آخر سابق حکومت پر، بجلی بنالی ٹرانسمیشن لائنیں درست نہ کرسکے حافظہ کمزور ہے۔ خواجہ آصف نے ان ہی دنوں کہا تھا۔ ٹرانسمیشن لائنوں کو درست کر رہے ہیں۔ 2014ء کے تاریخی دھرنے والوں نے درستی کی مہلت نہ دی خرابی تو ہوگی ۔کمال ہے ڈھائی تین سال میں لائنیں درست نہ ہوسکیں۔ وزیر اعظم کی برہمی درست ،لائنیں دینے کے بجائے لائنیں درست کردیتے تو گردشی قرضے 537 ارب سے بڑھ کر 2400 ارب نہ ہوتے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قرضے آئندہ چند دنوں میں 2805 ارب تک بڑھ جائیں گے۔ نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 3 روپے 30 پیسے اضافہ تجویز کیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی قیمت بڑھنے سے صارفین پر 177 ارب کا بوجھ پڑے گا۔ عوام کی جیبیں خالی کرنا اصل ویژن، ہر پندرہ دن بعد پیٹرول ہر ماہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ، اس پر حیرانی کا اظہار مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے۔’’ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔ بات سے بات چلی اور دور نکل گئی۔ عرض کر رہے تھے پی ڈی ایم کے جلسوں اور ریلیوں کی صورت میں لانگ مارچ کے ٹریلر نے خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ سارے وزیر مشیر ترجمان اپنے کام چھوڑ کر لانگ مارچ سے پہلے ہی اسے ناکام بنانے کے لیے ’’ایڑی چوٹی‘‘ کا زور لگا رہے ہیں۔ ایڑی چوٹی میں مرد و خواتین ترجمان دونوں شامل، وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر غور کے بجائے اپوزیشن کو زیر کرنے کے احکامات ،مخالفین کو مارو ریاست کے کام اور خوشحالی کے منصوبوں پر عملدرآمد ہوتا رہے گا۔ جب تک اپوزیشن سلامت ہے کچھ نہیں کرنے دیں گے۔ اندازہ نہیں تھا کہ مولانا فضل الرحمان اتنے خطرناک ثابت ہوں گے۔ ورنہ کامیاب کرا دیتے۔ مولانا بھی چومکھی لڑ رہے ہیں لانگ مارچ کا اسٹیرنگ ان کے ہاتھ میں ہے کبھی رخ اسلام آباد کی طرف کبھی راولپنڈی کی طرف 

موڑنے کے اعلانات، خوش قسمت ہیں چائے پانی کی پیشکش ہو رہی ہے۔ کڑک چائے سے تواضح کی جائے گی۔ مولانا خوش ہوئے۔ ’’دریچے اب کھلے ملنے لگے ہیں، فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ ہلکی پھلکی باتیں، خطرناک صورتحال سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسلام آباد جانے کی صورت میں کنٹینر اور کھانا دینے کی پیشکش ناقابل اعتبار، کنٹینر راستے بند کرنے کے لیے استعمال ہوں گے اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے ’’راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے، ڈھیر لگ جائیں گے رستے میں گریبانوں کے‘‘ ملک بھر کی پولیس استعمال ہوگی۔ ابابیلوں نے کنکریاں ماری تھیں، یہاں آنسو گیس کے شیل برسیں گے۔ شیخ رشید مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ بڑھکوں کے بادشاہ اور چٹ پٹی باتوں کے شہنشاہ ہیں اس کے علاوہ لاٹھی چارج، گرفتاریاں، مقدمات، دہشت گردی کی دفعات، ضمانتوں کے لیے بھاگ دوڑ، حوالات، جیلوں کی سیر، ’’بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں۔‘‘ اسلام آباد پیکیج میں ساری ’’مراعات‘‘ شامل ہیں۔ مولانا سے زیادہ ان دھوکوں کو کون جان سکتا ہے۔ پہلے دھوکہ کھا چکے ہیں۔ اب سوچ سمجھ کر قدم آگے بڑھائیں گے۔ 2021ء میں بھی لڑائی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ ایک دوسرے کو بے بس کرنے کی خطرناک پالیسی جاری رہے گی۔ مستقبل کے مورخ کو پریشانی آئندہ دو سال میں خوشحالی کے منصوبے بنتے رہیں گے۔ عملدرآمد خدا معلوم، ویسے بھی ارشاد فرمایا ٹیکس دہندگان کم ہیں۔ ترقیاتی کاموں پر پیسہ نہیں لگا سکتے۔ مگر پیسہ تو لگ رہا ہے۔ اربوں کھربوں کہیں تو خرچ ہو رہے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف مقدمات بنانے، کرپشن ثابت کرنے کے لیے برطانوی کمپنی براڈ شیٹ سے رابطوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بیس سال میںکچھ نہیں ملا۔ عدالتی فیصلہ براڈ شیٹ کے حق میں آیا۔ نیب کو 4 ارب 38 کروڑ جرمانہ ہوا۔ نیب کے وکیل، لیگل فرم کو فیس ادائیگی اور سود کے بعد یہ رقم 7 ارب 18 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں۔ ہمیں کیا ملے گا ایک کروڑ ڈالر تو ملنے چاہئیںا س پر دو اپوزیشن خواتین کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ، 50 کروڑ ہرجانہ ورنہ معافی، ایک خاتون جان کو اٹک گئیں، ہم کیوں معافی مانگیں معافی مانگنے کی آپ کی باری ہے۔ براڈ شیٹ کا پورا ڈرامہ 2000ء سے شروع ہو کر 2008ء میں ختم ہوا۔ نیب کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ سارے فسانے میں شریف فیملی کا ذکر نہ تھا۔ زیب داستان کے لیے ڈالا جا رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ بڑھتے مسائل سے ہٹائی جاسکے اس کے لیے کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ براڈ شیٹ اسکینڈل اسی ’’کچھ نہ کچھ کرنے‘‘ کا حصہ ہے۔ واضح طور پر دو ٹوک انداز میں بیک ڈور رابطوں کی تردید پھر محمد علی درانی کس کا سودا بیچنے نکلے تھے۔ شہباز شریف سے مایوس ہو کر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، یہاں سے بھی کورا جواب ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے ’’کس کے گھر جائے گا طوفان بلا اس کے بعد‘‘ اصل چینل بیرون ملک جس کسی نے بھیجا اس نے بتا دیا ہوگا کہ دال گلنے میں دیر لگے گی مقصد کیاتھا اندر کی خبریں رکھنے والے کہتے ہیں کہ عوام حکمرانوں سے بد گمان ہو رہے ہیں۔ بقول غالب ’’بد گمانی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک، ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا؟‘‘ مولانا نے برملا کہا کہ عوام کہتے ہیں پرانے چوروں کو لائو روٹی تو ملے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ گھر کی مرغی مارکیٹ میں دال کے برابر، مرغی کا گوشت 240 روپے کلو ماش کی دال 235 سے 245 روپے کلو۔ کریڈٹ حکمرانوں کو جاتا ہے کہ انہوں نے مرغی اور دال برابر کردی ۔کیا کہا پیسے نہیں ہیں نہ سہی لنگر خانے حاضر ہیں۔ انڈہ مرغی سے چلے تھے لنگر خانوں پر ختم، حال ہی میںمیر پور خاص کے ریلوے اسٹیشن پر ایک غریب آدمی سردی سے ٹھٹھر کر مر گیا۔ ریاست مدینہ میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ خلیفہ وقت جوابدہ تھا ’’یہاں کس سے کہیں حال دل‘‘ عوام میں مایوسیاں اور بد گمانیاں تو بڑھیں گی لیکن ترجمانوں کو حکم ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں میں بد گمانیاں پھیلائیں تاکہ لانگ مارچ نہ ہوسکے۔ ترجمان مشن میں سر گرم، بد گمانیاں پھیلانے میں مصروف، دور کی کوڑی لائے، لگتا ہے جماعتوں میں پھوٹ ڈلوانے کی تجویز بلیک آئوٹ کے دوران ذہن میںآ ئی ہوگی۔ ’’اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی‘‘ لب لباب یہ کہ پی ڈی ایم کے حالات دگرگوں، ڈرامائی تبدیلی کے امکان، ارادے متزلزل ملکی سیاست میں ایک تاریخی یو ٹرن کا امکان، با خبر ذرائع کے حوالے سے پورا اسکرپٹ بے نقاب، ذرائع اتنے با خبر کہ انہیں پتا چل گیا کہ اپوزیشن لانگ مارچ پر منقسم ہو گئی۔ ’’خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘‘۔ ان ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کا استعفوں اور لانگ مارچ پر رویہ بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ پارٹی کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ڈیل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سندھ حکومت کی قربانی دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ۔ سیاست کے استاد مکرم نے پی ڈی ایم کو جلسوں ریلیوں پر لگا دیا خود نرم خو طبیعت سے نرم راستوں پر چل پڑے۔ بیرون ملک علاج کے لیے روانگی کا پلان، استعفے، سینیٹ بائیکاٹ لانگ مارچ سب پیچھے رہ گئے اس تمام اسکرپٹ کے بارے میں حقائق کیا ہیں؟ مولانا اور یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ اسٹوری ہی اسٹوری ہے کہانی نہیں ہے۔ بائبرڈوار، میڈیا جنگ لیکن اس سارے پراپیگنڈے کے بعد سیاست کے آسمان اول پر بے یقینی کے بادل اور لانگ مارچ کے راستوں پر دھند چھا گئی ہے۔ لانگ مارچ سے پہلے ہی بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شیخ رشید، شہباز گل اور آپا فردوس عاشق جیسے ’’ماہرین ‘‘کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ 31 جنوری کو حکومت مستعفی نہیں ہوگی تب کیا ہوگا؟ وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا۔ لانگ مارچ ہوگا؟ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے جب ہوگا دیکھا جائے گا ابھی تو بقول محترم تجزیہ کار سسٹم سے دھواں اٹھنے لگا ہے۔ لانگ مارچ کے بعد کا منظر پہلے سے مختلف ہوگا۔


ای پیپر