shafiq awan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
18 جنوری 2021 (12:03) 2021-01-18

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری میچ طے شدہ وقت میں نہ ہو سکنے کی وجہ سے اسکا فیصلہ سپر اوور میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ پی ڈی ایم کا ایک پیج پر نہ آنا اور ہر جماعت کا اپنے اپنے حساب سے آگے بڑھنا بھی ہے۔ دوسری طرف حکومت کی بھی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کرنا چاہ رہی ہے۔ عمران خان بھی شدید جنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ جس کا مظاہرہ حال ہی میں انہوں نے اپنے ہی وزرا پر برس کر کیا اور حکومتی پالیسی کے خلاف جانے پر حکومت سے نکالنے کی دھمکی بھی دے دی۔

پی ڈی ایم کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ تو ایک ہے لیکن اس میں بھی اپنا اپنا موقف ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے پی ڈی ایم نے اہم دھرنے کا اعلان کیا لیکن اب تک کی خبروں کے مطابق بلاول بھٹو اس دھرنے میں بوجوہ شریک نہ ہوں گے۔ جو وجوہات بتائی جا رہی ہیں ان میں بلاول کی سندھ میں کچھ مصروفیات ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی والے ایک اور وجہ بھی بیان کرتے ہیں جو ’’عذر گناہ بد تر از گناہ‘‘ ہے وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مولانا فضل الرحمان بے نظیر شہید کی برسی پر پی ڈی ایم کے جلسے پر نہیں آئے تھے اس لیے ہمارا بھی پی ڈی ایم کے کسی پروگرام میں شرکت نہ کرنے کا حق ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے لوگ دبے لفظوں میں اسے پیپلز پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ سے کچھ انڈر سٹینڈنگ کی بات کر رہے ہیں۔ گو کہ یہ بات وہ ببانگ دہل یا میڈیا پر کرنے سے گریز کرتے ہیں اور کہتے ہیں ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ اس کا مطلب ہے مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی سے بھی کچھ تحفظات ہیں۔ جبکہ جے یو آئی والے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے طے شدہ پروگراموں سے انحراف کرنے والی جماعت کو بہت نقصان ہو گا۔

گو کہ پی ڈی ایم قیادت ایک پیج پر ہونے کا دعویٰ کرتی رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اہم نکات پر ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ چاہے دھرنا ہو، استعفے ہوں یا لانگ مارچ ہو تینوں بڑی جماعتوں میں اتفاق نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنے لیے راستے تلاش کر رہی ہے۔ جے یو آئی کی حد تک کہا جا سکتا ہے لیکن وہ اس تمام فسانے کی آرٹیکیٹ ہے۔ اب تو نواز لیگ سے بھی آوازیں آ رہی ہیں کہ مولانا کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اس لئے ان کے بتائے ہوئے رستے پر چلنے سے کھائی میں گرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی انتہائی محتاط کھیل رہی ہے۔ اب دیکھیں انجام گلستاں کیا ہوتا ہے۔

یہ پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے سامنے 

دھرنے کا ہی پریشر تھا کہ 6 سال سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے دو کیسز میں پی ٹی آئی نے اپنا جواب داخل کر دیا۔ لیکن فیصلہ اب بھی باقی ہے۔ گو کہ بظاہر پی ٹی آئی کے اس جواب نے بھی مزید پنڈورا بکس کھول دیے ہیں جس کا فیصلہ بہر حال الیکشن کمیشن نے کرنا ہے لیکن اس سے پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان یقینا پہنچ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو بھی فارن فنڈنگ کے حوالے سے طلب کر لیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کا کیس 6 سال تک زیر التوا رہ سکتا ہے تو قارئین ان دونوں جماعتوں کے حوالے سے کیسز کے فیصلے کے وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔ جبکہ حکومت کے ایک ماہر آئین و قانون کہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے کسی جماعت نے بائی لاز نہیں بنائے بلکہ ہمارے آئین و قانون یا الیکشن کمیشن کے ضوابط کار میں بھی فارن فنڈنگ کے حوالے سے کوئی واضح قانون نہیں ہے اور اس کے لیے بھی نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو کچھ نہ ہو گا اور اگر ایسا ہوا تو پھر کوئی جماعت نہ بچ سکے گی۔

پی ٹی آئی اے کے دور میں ایک سے ایک مضحکہ خیز سیکنڈل سامنے آ رہے ہیں جس میں نیا اضافہ پی آئی اے کے طیارے کی ملائیشیا میں ضبطی ہے۔ یہ طیارہ لیز کی رقم کے تنازع کی وجہ ضبط ہوا لیکن کیا یہ پی آئی کے نئے سربراہ کا فرض نہ تھا کہ وہ اس قسم کے معاملات پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیتے لیکن ان کی تمام تر دلچسپی اپنے رشتے داروں اور ریٹائرڈ دوستوں کی پی آئی اے میں کھپت پر مرکوز ہو تو قومی اہمیت کے معاملات نظر انداز ہو کر اسی طرح کی جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں۔ اس پر پی ٹی آئی کی ڈھٹائی یہ کہ اس کا ملبہ بھی وہ پچھلی حکومتوں پر ڈال رہے ہیں۔ آپ ہر خرابی کا الزام دوسروں پر ڈال سکتے ہیں لیکن آپ کی حکومت میں ہونے والی ہر خرابی اور کوتاہی کے آپ خود ذمہ دار ہیں۔ جس دن پی ٹی آئی کو یہ سمجھ آ گئی کہ پاکستان سے جڑے ہر معاملے کی ذمہ دار حکومت وقت ہوتی ہے تو شاید ہم جگ ہنسائی سے بچ جائیں۔

عمران خان صاحب نے پھر براڈشیٹ کے حوالے سے بغیر تحقیق کے ہوائی بیان دے دیا کہ سعودی عرب سے ایک پاکستانی سیاستدان نے ایک ارب ڈالر لندن منتقل کرائے۔ جس کی بیرسٹر شہزاد اکبر نے تردید نما وضاحت کر دی۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ بولنے سے پہلے تول لیا کریں۔

سندھ حکومت نے صوبے میں 6 لاکھ سے زائد مزدوروں کو کارڈ جاری کر کے ایک احسن اقدام کیا ہے لیکن اس کی تقسیم میں شفافیت کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر