ch farrukh shahzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
18 جنوری 2021 (12:02) 2021-01-18

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی فوجی چھاؤنی میں نئے کمانڈر تعینات ہوئے۔ کمانڈر صاحب نے انسپیکشن کے دوران ایک گراؤنڈ میں ایک لکڑی کا بنچ دیکھا جس پر 2 فوجی پہرہ دے رہے تھے۔ کمانڈر نے ا نہیں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ پچھلے کمانڈر کے دور میں یہ چل رہا تھا۔ نئے کمانڈر نے پچھلے کمانڈر کا نمبر ڈھونڈ کر اسے فون کیا اور بنچ پر تعینات جوانوں کی ڈیوٹی کا پس منظر دریافت کیا تو پرانے کمانڈر نے کہا کہ اصل وجہ مجھے بھی نہیں پتہ کیونکہ میں نے دیکھا کہ یہ مجھ سے پہلے جو کمانڈر تھا اس کا حکم تھا جسے ہم نے اسی طرح برقرار رکھا۔ تین چار سابق کمانڈروں سے ایک جیسے جواب ملنے کے بعد بالآخر انہیں ایک سب سے پرانے کمانڈر کا سراغ مل گیا جس کی عمر 80 سال سے اوپر تھی اور وہ کب کا ریٹائر ہو چکا تھا۔ اسے یادداشت کا مسئلہ بھی تھا مگر یہ وہ کمانڈر تھا جس کے دور میں بنچ پر ڈیوٹی شروع ہوئی تھی بالآخر اسے پورا سیاق و سباق یاد آ یا تو وہ حیرت زدہ ہو کر نئے کمانڈر صاحب سے پوچھنے لگاکہ کیا بنچ کا پینٹ ابھی تک گیلا ہے؟ 

اس موقع پر ہمیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے سب سے پہلے چیئر مین محترم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب بڑی شدت سے یاد آ رہے ہیں جن کا 2002ء میں HEC کے قیام کے وقت کیا گیا ایک فیصلہ اس وقت ادارے میں لا متناہی تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے ۔ یہ معاملہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ کے Career Path سے متعلق ہے۔ HEC کے قیام تک یونیورسٹیوں میں بی پی ایس ٹیچرز تھے۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے نئے پی ایچ ڈی اساتذہ کو باہر جانے کے بجائے قومی یونیورسٹیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک پرکشش پیکیج دیا جسے Tenure Track to System یا TTS ٹیچرز کہا جاتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تمام پی ایچ ڈی اساتذہ کو ایک ہی دھارے میں لا کر یہ نیا سسٹم چلایا جاتا مگر درحقیقت ایسا نہیں تھا۔ یہاں سے یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی 2 قسمیں ہو گئیں ، ایک تو وہ تھے جو BPS ٹیچرز تھے ، دوسرے جو نئے سسٹم کے ذریعے شامل ہوئے وہ TTS ٹیچر کہلاتے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں BPS اساتذہ 80 فیصد ہیں جبکہ TTS کی شرح 20 فیصد ہے۔ بی پی ایس سسٹم برطانوی دور سے نافذ العمل ہے جبکہ TTS ڈاکٹر عطاء الرحمن کا اپنا Brain Child تھا جو انہوں نے امریکی نظام سے اخذ کیا تھالیکن اگر ڈاکٹر صاحب کو اس وقت یہ پتا ہوتا کہ اس سے یونیورسٹی اساتذہ کے اندر فرسٹریشن بے چینی اور غیر مساوی بلکہ امتیازی پالیسی کا دروازہ کھل جائے گا تو شاید وہ ایسا نہ کرتے۔ ان سے یہ غلطی نادانستگی میں ہوئی ہے مگر ان کے بعد جتنے چیئرمین آتے جاتے رہے کسی نے بھی اس مسئلہ کو سنجیدگی سے ایڈریس کرنے کی مخلصانہ کوشش نہیں کی۔ 

آپ اندازہ لگائیں کہ ایک ہی طرح کی نوکری میں اگر آپ 2 اشخاص میں ایک کو دوسرے سے تین گنا 

تنخواہ دیں جبکہ دونوں کی تعلیم ایک ہی ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اس وقت BPS کے مقابلے میں TTS اساتذہ 2 سے 3 گنا زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ سسٹم بالائے ستم یہ ہے کہ BPS اساتذہ کی ترقی کا نظام بہت پیچیدہ اور غیر یقینی ہے جبکہ TTS ٹیچرز کی ترقی کا ایک طے شدہ دورانیہ ہیں جس کی تکمیل کے ساتھ ہی ان کی پروموشن ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس BPS کی مدت پوری ہونے کے بعد اخبار کے ذریعے درخواستیں مانگی جاتی ہیں پھر بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے اور اس طرح کی فیصلہ سازی میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں مگر ترقی نہیں ہوتی اور بے چارے BPS اساتذہ میں بہت سے تو اسسٹنٹ پروفیسر ترقی کے انتظار میں ریٹائر ہو جاتے ہیں یہ وسیع پیمانے پر اعلیٰ درجے کے Talent کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ 

BPS اساتذہ سالہا سال سے اس امتیازی نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہو رہی ۔ انگریزی محاورہ ہے کہ "A bad system destroys good people" یعنی ایک برا نظام اچھے لوگوں کو تباہ کردیتا ہے۔ اس محاورے کی حقیقی تصویر دیکھنے ہو تو آپ ایچ ای سی کے BPS اساتذہ کی حالت دیکھ لیں۔ 

علامہ اقبال نے اپنے ایک فارسی شعر میں اللہ سے شکوہ کیا ہے کہ ’’تو شب آفریدی چراغ آفریدم‘‘ کہ تم نے رات بنائی تو میں نے چراغ جلا لیا۔ کچھ عرصہ قبل ملک بھر کے BPS اساتذہ نے مل کر اس معاملے پر آل پاکستان BPS ٹیچرز ایسوسی ایشن APUBTA کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس پیشہ ورانہ تنظیم کے صدر ڈاکٹر سمیع الرحمن میں تنظیم کے عہدیداروں نے چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن جناب ڈاکٹر طارق بنوری سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اساتذہ کرام نے چیئرمین صاحب کو ایک مسودہ (Draft) پیش کیا گیا جس میں اساتذہ کی تقرری اور ترقی کا ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے تا کہ اسے یونیورسٹی کے Statute یا قانون کی شکل دی جا سکے۔ گزشتہ ملاقات میں چیئرمین صاحب نے معاملے پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر چیئرمین صاحب نے میرٹ پر اس معاملے پر غور و خوض کیا تو فیصلہ BPS کے حق میں آئے گا۔ جب تک اساتذہ کی ان دونوں کیٹیگریز کے درمیان Equal level playing field قائم نہیں کی جائے گی۔ HEC میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ کسی ادارے کی سب سے بڑی طاقت اس کی مین پاور ہوتی ہے جسے جدید دور میں Human Resource یا HR کہا جاتاہے جس نظام میں آپ ایسے قانون یا Statute متعارف کرائیں جس سے 80 فیصد کی واضح حق تلفی ہو رہی ہو تو سسٹم کیسے کامیاب ہو گا۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جہاں فروغ تعلیم کے لیے Single Curriculum جیسا انقلابی قدم اٹھانے کے لیے بے چین ہے وہاں اسے اس تنازع کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ HEC بطور ادارہ بہتر استعداد کار کے ذریعے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کر سکے۔ یاد رکھیں میرٹ کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ 


ای پیپر