nasif Awan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
18 جنوری 2021 (11:59) 2021-01-18

کہا جا رہا ہے کہ حزب اختلاف نے حکومت کو محروم اقتدار کرنے سے متعلق اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے کہ اب وہ جلسے جلوسوں کے ساتھ ساتھ ایوان کے اندر سے بھی اسے دباؤ میں لائے گی ازاں بعد تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرے گی۔ ایسا اس لیے سوچا گیا ہے کہ حکومت نے جلسوں سے زیادہ اثر نہیں قبول کیا۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اگر حزب اختلاف جلسے کرتی ہے اور عوام کی مطلوبہ تعداد اکٹھی نہیں ہوتی تو اس کو پشیمانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پھر اس میں شکست و ریخت کا عمل بھی جاری ہے یعنی دو بڑی جماعتوں میں دھڑے بندی ہو چکی ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کمزور ہو گئی ہے اور اس سے عمران خان کو چلتا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو چکا ہے لہٰذا آصف علی زرداری پی پی پی کے سربراہ نے ساتھی جماعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایوان میں اپنے ووٹ کا استعمال کر کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے توڑ جوڑ کی سیاست کا آغاز ہو گیا ہے۔ آصف علی زرداری کے بارے میں تو یہ بات مشہور ہے کہ وہ ماہر سیاست جوڑ توڑ ہیں لہٰذا عین ممکن ہے کہ وہ سڑک سیاست کو بالکل ترک کر دیں اور ساری توانائیاں نئی حکمت عملی پر صرف کر دیں لہٰذا یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اب تحفوں کی دکانیں سجنے والی ہیں جس میں قیمتی سے قیمتی تحائف موجود ہوں گے اور جو بھی ان کا خواہشمند ہوا وہ بآسانی حاصل کر سکے گا یوں سیاسی منظر یکسر تبدیل ہو جائے گا اور پھر یہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ہر سمت بانسریا کی آواز فضاؤں میں ابھرتی ہوئی سنائی دے گی اور وہ چہرے جواب تک مرجھا سا گئے تھے ان پر بہار ایسا رنگ دکھائی دینے لگے گا۔ 

حزب اختلاف کی اس حکمت عملی کے پیش نظر حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اس نے اس پہلو پر پوری سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ناراض ارکان کو منانے کے لیے دوڑ پڑی ہے ۔ ان کے مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت نے انہیں فنڈز جاری کرنے کا ارادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت کے لیے جو منصوبے بنانا چاہیں بنا سکتے ہیں۔ فقط اپنے اراکین ہی کو نہیں بعض حزب اختلاف کے لوگوں کو بھی فنڈز دیئے جا رہے ہیں تا کہ وہ بھی عوامی خدمت میں حصہ لے سکیں اور حکومت کے لیے اچھا سوچیں۔ ویسے بھی عمران خان نے اپنی پچھلے برس کی آخری تقریر میں 

یہ کہا کہ اب خدمت کا وقت ہے لہٰذا تمام ارکان اس کے لیے کمر باندھ لیں اس سے پہلے انہوں نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اب بھی کاہلی کا مظاہرہ کریں گے توپھر وہ آرام کریں حال ہی میں بھی انہوں نے واضح طور سے کہہ دیا ہے لہٰذا اب حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے آمادہ و تیار نظر آتی ہے ایسے منصوبے بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن سے براہ راست عوام کو آسانیاں اور سہولتیں میسر آتی ہوں اس صورت میں اسے حیران و پریشان کرنا اب حزب اختلاف کے لیے بے حد مشکل ہو گا کیونکہ ایک طرف عوام کے مسائل حل ہوں گے تو دوسری جانب عوامی نمائندے بھی راضی ہو جائیں گے جنہیں اڑھائی تین برس اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت کی طرف دیکھنا پڑ رہا تھا اور ان کے لوگ انہیں تنگ کررہے تھے کہ وہ ان کے لیے کچھ نہیں کر رہے شاید فنڈز ہڑپ کر چکے ہیں؟ جبکہ وہ فنڈز سے محروم تھے اب ان کے لیے کروڑوں اور اربوں کے انبار لگ جائیں گے جنہیں وہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے میں آزاد و با اختیار ہوں گے۔ اس طرح حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے مابین ایک نئی طرح کی کشمکش کا آغاز ہو چکا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا حزب اختلاف اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا نیا وزیراعظم اس کا ہو گا یا پھر پی ٹی آئی ہی کا ہو گا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا نیب کی کارکردگی محدود ہو جائے گی اس حوالے سے قطعی طور سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا مگر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم پی ٹی آئی کا ہی ہو گا جو احتساب کے عمل کو جاری رکھے گا ہاں مگر بلا تخصیص و تفریق لہٰذا حزب اختلاف کو ایسی کسی کوشش کے بجائے حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں جس میں کچھ لو اور کچھ دو کے نظریے کے تحت کچھ چیزیں طے ہونی چاہئیں۔ بہرحال تاثر یہ ابھر رہا ہے کہ فریقین اقتدار کے لیے ہی محترک ہیں ایک اقتدار بچانا چاہتا ہے تو دوسرا اسے حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس  میں اس کی بقا ہے اس کے اس سے مفادات وابستہ ہیں مگر اس کھینچا تانی میں کچھ عوام کا بھی بھلا ہو جائے گا یعنی اب اگر حکومت لوگوں کو ریلیف دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے اور اس کا کریڈٹ صرف اسے ہی نہیں حزب اختلاف کو بھی جائے گا کیونکہ اس کی وجہ سے یہ ہو گا وگرنہ حکومت تو شاید آخری چند ماہ میں کچھ دینے کا سوچتی اور اس وقت لوگوں کا حال بہت خراب ہو چکا ہوتا۔ 

خیر دیر آید درست آید حکومت اگر یہ ارادہ کر چکی ہے کہ اب وہ عوام کو ڈلیور کرے گی تو حزب اختلاف کو حکومت ہٹاؤ پروگرام سے اجتناب برتنا چاہیے کیونکہ وہ عوام کو یہی کہتی ہے کہ حکومت نا اہل ہے ناکام ہے، اس نے معیشت تباہ کر دی، مہنگائی کر دی اور بیروزگاری میں اضافہ کر دیا اب جب وہ فنڈز کا اجرا کر کے اور کچھ سہولتیں دے کر سرخرو ہونا چاہتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے لہٰذا اسے کچھ دیر انتظار کرنا چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتی ہے یا  نہیں مگر کہتے ہیں کہ ’’ماڑے بندے کی کون سنتا ہے‘‘ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کو عوام کے مشوروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ اپنے ذہن سے سوچتی ہیں اور کوئی فیصلہ کرتی ہیں لہٰذا دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کرتی ہیں اور کیا نہیں کرتیں لوگ بے چارے ہیں کہ وہ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سیاست کے اس کھیل میں وہ ہمیشہ طوعاً و کرہاً شریک ہو جاتے ہیں کہ انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ کوئی تو انہیں سکھ دے گا مگر یہ ایک خواب کے سوا کچھ نہیں ہوتا جو آنکھ کھلنے پر محو ہو جاتا ہے۔ 

افسوس تہتر برس کے بعد بھی ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں کہ حکمران ذاتی مفادات کے لیے دست و گریباں بھی ہوتے ہیں اور مل بیٹھتے بھی ہیں مگر آج تک عوام کے لیے انہوں نے کبھی بھی اتحاد نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قانون سازی کی اگر کی بھی تو اس پر عمل نہیں ہوا۔ اس وقت جب آئین کی بات ہو رہی ہے تو ان سب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ عوامی مفادات سے متعلق جتنی شقیں آئین میں موجود ہیں ان پر کبھی کسی نے غور کیا نہیں، ایسا نہیں ہوا مگر اپنی تقاریر اور بیانات میں آئین کی ان شقوں کا ذکر تواتر سے کیا جاتا ہے اور بآواز بلند کیاجاتا ہے جو ان کے مفاد میں ہوتی ہیں لہٰذا جب تک یہ نظام حیات نہیں بدلتا حقیقی جمہوریت نہیں آ سکتی اور مستقلاً فلاحی منصوبے بھی نہیں بن سکتے لہٰذا یہ جو عارضی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ اس  میں حکمرانوں کا اپنا مفاد ہوتا ہے اگر یہ بات درست نہیں تو اب تک خوشحالی کا سورج کیوں طلوع نہیں ہو سکا؟ 

حرف آخر یہ کہ دونوں حزب اقتدار اور حزب اختلاف مل بیٹھیں اسی میں سب کا بھلا ہے لڑائی میں کسی کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا حزب اختلاف نے کچھ کرنا ہی ہے تو وہ ایوان میں ان نکات پر بحث کا آغاز کرائے کہ حکومت مہنگائی پر کیوں قابو نہیں پا سکی انصاف سستا اور آسان کیوں نہیں کر سکی ٹیکسوں پر ٹیکس لگا کر عوام کی زندگیاں کیوں اجیرن کر رہی ہے اس سے وہ عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کا فائدہ اسے آگے چل کر ہو گا!


ای پیپر