new scandal,erupted,London,court,Broadsheet,nab,fake payment
18 جنوری 2021 (11:54) 2021-01-18

لندن : براڈ شیٹ کے حوالے سے لندن کورٹ کے حوالے سے نیا سکینڈل سامنے آگیا۔ ثالثی عدالت نے تمام ذمہ داری پاکستان کے ادارے نیب پر ڈال دی۔ 

تفصیلات کے مطابق لندن کورٹ کے فیصلہ میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کے ادارے نیب نے جان بوجھ کر براڈ شیٹ کو مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔غلط بنیادوں پر ایل ایل سی براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ توڑا۔ براڈ شیٹ کے نام سے جعلی کمپنی کے ساتھ تصفیہ کا معاہدہ کر کے رقم کی ادائیگی کی۔1.5 ملین ڈالر کی یہ رقم دو اقساط میں ادا کی گئی جو غیر قانونی تھا۔ اصل براڈ شیٹ کمپنی برطانیہ میں تھی۔ مقدمے میں نیب کے تمام سابق سربراہان نے گواہی دی۔لندن کی ثالثی عدالت نے براڈ شیٹ کیس میں تمام ذمہ داری نیب پر ڈال  دی ہے۔جن بنیادوں پر نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ توڑا وہ قطعاً غلط بنیادوں پر تھا اور اس کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔

 عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ نیب نے غلط کمپنی کے ساتھ تصفیہ کا معاہدہ کیا اور رقم ادا کی جو غیر قانونی تھا۔ جس جعلی کمپنی کے ساتھ نیب نے تصفیہ کیا اور ان کو رقم کی ادائیگی کی اس کا نام بھی براڈ شیٹ تھا اور وہ جعلی کمپنی تھی کو کولوراڈو میں رجسٹرڈ تھی۔براڈ شیٹ کی اصل کمپنی جو لندن میں رجسٹرڈ ہے اسے بتائے بغیر جعلی کمپنی کو رقم کی ادائیگی کی گئی۔جانتے بوجھتے ہوئے غلط کام کئے اور اس کا مقصد صرف اصل کمپنی کو مالی نقصان پہنچانا تھا۔ مقدمے میں نیب کے تمام سابقہ سربراہان نے گواہی دی۔

براڈ شیٹ نے لندن عدالت کا فیصلہ جاری کرنے کی حکومت پاکستان کی  درخواست قبول کر لی۔ کاوے موسوی کہتے ہیں کہ آخر کار حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔پاکستانی عوام اب حقائق جان جائیں گے۔

یاد رہے کہ براڈ شیٹ نیب کیس کا فیصلہ اگست 2016 میں سنایا گیا تھا۔ 


ای پیپر