کون بنے گا وزیراعظم
18 جنوری 2020 2020-01-18

پاکستان کے طالبان اقتدار و حکومت (سیاستدان ، ان کی جماعتیں) اور اس کی بخشیش کرنے والوں ہئیت مقتدرہ یا عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ) میں سے ہر کوئی اپنے خیال میں مگن ہے… سیاسی جماعتوں میں سے سب سے بڑا ووٹ بینک مسلم لیگ (ن) کا ہے… پنجاب باوجود ہزار کوشش کے اس سے چھینا نہیں جا سکا… اگرچہ اس کی چوٹی کی لیڈر شپ ملک سے باہر بیٹھی ہے جو پاکستان میں ہیں ان میں سے کچھ جیلوں میںبند ہیں… چند ایک کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں… جو ان جھمیلوں سے آزاد ہیں انہیں بظاہر کوئی راہ عمل نظر نہیں آ رہی… کہیں کہیں مایوسی کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں…لیکن مجموعی طور پر سب میں خیال پایا جاتا ہے… سیاسی مستقبل ہمارا ہے… ووٹروں کی خاطر خواہ اکثریت ساتھ ہے اور ترقیاتی منصوبے جو ہمارے دور میں شروع ہوئے تھے کچھ مکمل ہو گئے اور کچھ اقتدار کے چھن جانے کی وجہ سے ادھورے رہ گئے… ان جیسا ایک بھی موجودہ حکمرانوں کے اندر جو متبادل کے طور پر لائے گئے ہیں، پیش کرنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی… ان کا تو یہ عالم ہے جو کام ہم ادھورے چھوڑ کر گئے تھے ان میں سے بھی کسی ایک کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی اہلیت کا مظاہرہ کر سکے ہیں… الٹا ان کی پالیسیاں (جیسی بھی ہیں) منفی اور الٹے نتائج پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں… ضروریات زندگی کی قیمتیں نہ صرف ہمارے سالوں کے مقابلے میں آسمان کو چھو رہی ہیں بلکہ ان کی قلت پیدا ہوتی جا رہی ہے… بے روزگاری نے اکثر کنبوں کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے… بے چینی پھیل رہی ہے… عوام کے اندر بددلی کی کیفیت ہے… اتحادی جماعتیں ساتھ چھوڑ دینے کے لیے پَر تول رہی ہیں… ان کی منت سماجت ہو رہی ہے… یہاں تک کہ حکمران جماعت کے اپنے اندر جوتیوں میں دال بٹنا شروع ہو گئی ہے… پنجاب جیسے صوبے کے اندر وزیراعظم عمران کے پسندیدہ ترین اور نامزد وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی نااہلی ضرب المثل بن چکی ہے… خان بہادر کے کئی ایک ساتھی ان سے سخت نالاں ہیں اگر دوچار مزید دن اس کرسی پر براجمان رہے تو اندیشہ ہے پنجاب مکمل طور پر ہاتھ سے نکل جائے گا… سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس ضمن میں وزیراعظم کو ایک خط بھی لکھ ڈالا ہے اور مشورہ دیا ہے اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں ورنہ معاملات خراب سے خراب تر ہو جائیں گے… امور مملکت کو سنبھالنا اور چلانا سخت مشکل ہو جائے گا… عام ووٹروں کے اندر وہ جو عمران کے شدت کے ساتھ حامی ہوا کرتے تھے بڑھ چڑھ کر نعرے لگاتے تھے… یہ مخلوق ناپید ہوتی جا رہی ہے… کہیں نظر نہیں آتے… جن لوگوں نے ڈیڑھ سال کے اندر ملک کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے وہ آگے چل کر کیا رنگ نہیں جمائیں گے… اندازہ لگانا مشکل نہیں… اس عالم اور کیفیت میں مسلم لیگ (ن) والوں کا خیال ہے اگر مخالف پانیوں کے اندر لڑکھڑاتی نائو کو سہارا دینا ہے تو ہمارے سوا کون ہو سکتا ہے… اوپر والوں کو سب سے بڑی شکایت ہمارے سرکش ہونے اور سویلین بالادستی کے نعرے بلند کرنے کی تھی سو پارلیمنٹ کے اندر آرمی ترمیمی ایکٹ کی غیرمشروط حمایت اور اسے ملک کا قانون بنوا کر اسے بھی دور کر دیا ہے… اچھا بچہ ہونے کا ثبوت دیا ہے… قائد نوازشریف ویسے ہی بیمار ہیں… ان کے بعد نمبر2 کی پوزیشن پر شہباز شریف ہیں… ان کی اقتدار کا حتمی فیصلہ کرنے والی قوتوں سے شروع روز سے گاڑھی چھنتی چلی آ رہی ہے… نوازشریف کا ادب مگر مانع تھا… اب حالات کے جبر کے تحت بڑے میاں صاحب خود پیچھے ہٹتے نظر آ رہے ہیں… مریم نے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہے… شہباز شریف کے لیے میدان کھلا ہے… وہ یقینا واپس آئیں گے… عمران خان کی اتحادی جماعتوں

کی بغاوت عمل میں آ چکی ہو گی… عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ان کا بوریا بستر لپیٹنا چنداں مشکل نہ ہو گا… شہباز اس وقت بھی قائد حزب اختلاف ہیں… خلا پیدا ہوا تو فطری طور پر اسے پُر کرنے کے لیے قدم آگے بڑھائیں گے اس کے بعد خواہ نئے اور پرانے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں یا پارلیمنٹ توڑ کر ازسرنو انتخابات کا اعلان کردیں پس مستقبل ہمارا ہے نئی حکومت ہر دو صورتوں میں ہماری بنے گی…

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ بھی بڑی کائیاں ہے… کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی… حکومت بنانے اور آن واحد میں گرا کر پھینک دینے کا جتنا تجربہ اسے حاصل ہو چکا ہے دنیا کے شائد کسی ادارے کو اس کمال فن پر اتنی دسترس حاصل ہو… ووٹ بینک کے دعوے پر وہ مسکرا کر رہ جاتے ہیں… کہتے ہیں بھٹو کیا کم مقبول تھا… ہم نے پھانسی دے دی… تمہارے پاس صرف پنجاب ہے… اس کا ہاتھ سندھ اور پنجاب دونوں کی نبضوں پر تھا… صوبہ سندھ میں ایم آر ڈی کی اتنی بڑی تحریک چلائی گئی… ہم نے ایم کیو ایم کو جنم دے کر اس صوبے کے اندر لسانی تقسیم کی ایسی لکیر پھیر دی جو زخموں سے بھی بھری ہے آسانی سے مٹنے والی نہیں… یوں بھٹو کی پیپلز پارٹی سندھ کے دیہاتی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی… اگرچہ اکثریت اب بھی حاصل کر لیتی ہے… حکومت بھی بنا پاتی ہے… مگر ہزار جھگڑوں میں ملوث رہتی ہے… سکون کی حکمرانی کا ایک دن نصیب نہیں ہوتا… اندرون سندھ ان کے دم قدم کی بدولت بدنما قسم کی حکمرانی کا وہ نقشہ پیش کرتا ہے کہ دوسرے کسی صوبے کا اس جماعت کی طرف راغب ہونے کا سوال نہیں پیدا ہوتا… بھٹو کی بیٹی بے نظیر 1986-88ء تک پنجاب میں تھی باپ کے ووٹ بینک پر بڑا ناز تھا… اپریل 1986ء میں وطن واپسی پر اہل لاہور نے کیا کیا اس پر نچھاور نہیںکیا… پھر 1988ء کا انتخاب بھی تقریباًجیت لیا… حکومت بنائی… اس کے ساتھ ہمارے شکنجے میں آ گئی… جیسے مسلم لیگ (ن) والوں نے آج آرمی ترمیمی ایکٹ پر دستخط کر کے وفاداری کا ثبوت دیا ہے اسی طرح بے نظیر نے بھی 1988ء میں وزیراعظم بننے کی خاطر گھٹنے ٹیک دیئے تھے… ہمارا وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور کئی دوسری شرائط قبول کر لی تھیں… موقع بھی دیا گیا… اعتبار اس کے باوجود ہمیں اس پر نہ آیا… جلد سکیورٹی رسک قرار دے کر گھر کی راہ دکھائی… دوسری مرتبہ بھی منتخب ہو کر آئیں ہم نے بھی ایک نہ چلنے دی… یہ وزارت عظمیٰ بھی ناکام ثابت ہوئی اس کے بعد پنجاب سے اس کا ووٹ بینک اس طرح اکھڑا کہ ماضی کی داستان بن چکا ہے… بے نظیر کو خود بھی اس جہان فانی سے المناک طریقے سے رخصت ہونا پڑا… بڑا ناز ہے تم دونوں جماعتوں کو کہ ایٹمی پروگرام بھٹو نے شروع کیا اور نوازشریف نے پایہ تکمیل تک پہنچایا مگر دفاع مملکت کی باگیں تو ہمارے ہاتھوں میں ہے طاقت کے بھی ہم ہی اصل مالک ہیں… سو اقتدار حقیقی بھی ہمارے پاس ہے… امریکہ اب بھی ہم سے بات کرتا ہے… سعودی عرب سب سے زیادہ اعتبار ہم پر کرتا ہے… چین کبھی کبھی روٹھ جاتا ہے کیونکہ نوازشریف نے اسے خوب ورغلایا مگر ضرورت پڑنے پر ہم اسے بھی منا لیتے ہیں اور کیا بھارت کے خلاف نعرے بلند کرنے میں تم ہمارا مقابلہ کر سکتے ہیں تم دونوں کس باغ کی مولی ہو… اقتدار کی بندربانٹ ہمارا پرانا مشغلہ ہے… اب بھی اس کاکھیل کھیلتے رہیں گے… اسی میں ہو سکتا ہے ایک آدھ باری تم کو باردگر مل جائے… چند وزارتیں عطا کر دی جائیں… ایک آدھ صوبہ تمہارے سپرد کر دیا جائے مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے بھی تمہیں سرنڈر کی کئی منزلیں طے کرنا پڑیں گی… ہم سے ایک دفعہ ٹکر لے لی ہے یہ بات بھلائے نہ بھول پائے گی… ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے…

سب سے زیادہ مزے میں اس وقت پارلیمنٹ میں تھوڑی نمائندگی رکھنے والی چھوٹی چھوٹی علاقائی جماعتیں جن کے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے… کچھ کے پاس تو تانگے کی سواریاں بھی نہیں… مگر سودے بازی کی بہت بڑی قوت کی مالک ہیں اور اس حیثیت سے فائدہ بھی بہت اٹھا رہی ہیں… آج کا سیاسی نقشہ سامنے رکھ کر دیکھ لیجیے… پنجاب کے چودھری برادران، شہری سندھ کی بچی کھچی ایم کیو ایم، اندرون صوبہ کی جی ڈی اے اور بلوچستان کے ’’بطل حریت‘‘ اختر مینگل کی بی این ایم وغیرہ… جو دونوں جانب پیر رکھتے ہیں… مسلح باغیوں کے ساتھ بھی خوب میل ملاپ ہے اور اقتدار کی راہداریوں میں بھی آنا جانا رہتا ہے… حکومت وقت کے ساتھ سودے بازی کرنا خوب جانتے ہیں… ان سب کی حمایت کے بغیر عمران حکومت جسے منتخب ہونے پر بڑا ناز ہے دونوں ٹانگوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی اسی لیے آج کل لڑکھڑا رہی ہے… طنابیں ان کی ’’ڈونکی‘‘ سرکار کے ہاتھوں میں ہیں… اسی کے اشارہ ابرو پر چلتے ہیں… ایک دن عمران خان کو آخری دن تک ساتھ دینے کا جھانسہ دیتے ہیں… اگلے روز آنکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں… خوب سیاسی منافع کماتے ہیں… انہیں جب درون مے خانہ سے مکمل طور پر ساتھ چھوڑ دینے کا حکم صادر ہو گا بلکہ حتمی اشارہ ملے گا حکومت ہمارے کرکٹ کے شہزادے کی دھڑام سے نیچے آن گرے گی… پھر یار لوگوں کو جسے اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانا منظور ہو گا… اس سے نئے شرائط ناموں پر دستخط کرا کے ساتھ دینے کا لنگر لنگوٹ کس لیں گے… پس اے مسلم لیگ (ن) والو اور اے پیپلز پارٹی کے وفادارو اور جیالو شہباز شریف وزیراعظم بنے گا یا نہیں… بلاول بھٹو کو حصہ ملے گا یا نہیں یہ سب کچھ ’’ان‘‘ کی مرضی پر منحصر ہے… ووٹ بینک ثانوی درجے کی چیز بن کر رہ گیا ہے…


ای پیپر