سیاست کے پیشوا
18 جنوری 2020 2020-01-18

فرنگی سیاست پر اقبالؒ نے ایک صدی پہلے جو کچھ کہا وہ آج نہ صرف بصورت ٹرمپ اور بورس جانسن مغرب میں حرف بہ حرف صادق آ رہا ہے۔ پاکستان میں لنڈے کی جمہوریت سے بھی بدبو کے بھبھکے اٹھ رہے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں جو فوجی بوٹ تلے کنٹرولڈ (محکوم) جمہوریت کہلائی اب وہ بدترین شکل میں آئے دن بدمزہ کر رہی ہے۔ حال ہی میں سیاسی کھینچاتانی میں پیش آنے والا واقعہ اس کا عکاس ہے۔ فیصل واوڈا، ممبر اسمبلی، وزیر آبی وسائل ہیں۔ نیٹ پر موجود پروفائل کے مطابق امریکی پاکستانی ہیں۔ کامیاب بزنس مین، ایک لبرل تعلیم یافتہ ’نفیس‘ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پڑھ دیہاتی نہیں ہیں۔ تاہم مروجہ سیاسی مزاج کے تحت فوجی بوٹ تھیلے میں ڈال کر نجی چینل کے پروگرام میں چلے آئے۔ اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے شوق میں بوٹ نکال کر شرکاء کا منہ چڑاتا جوتا میز پر دھر دیا۔ (اگرچہ ہمیشہ کی طرح چمکتا ہوا بوٹ تھا) بقول وزیر موصوف کے ن لیگ نے ووٹ کی جگہ بوٹ کو عزت دی، ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دے کر۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ فوجی بوٹوں کا جوڑا نہیں اٹھا لائے۔ شاید اس لیے بھی کہ موجودہ نظام میں دوسرا بوٹ نہیں پشاوری چپل ہے خان صاحب کی! تاہم اس سیاست نے ان کی جمہوریت کو شرمسار کر دیا۔ اقبال نے جو اس نظامِ سیاست کو ’دوں نہاد و مردہ ضمیر‘ (کم اصل، پست مزاج، ہر اخلاقی پابندی سے آزاد) قرار دیا تھا، اس کے مظاہر چہار سو دیکھے جا سکتے ہیں۔ اقبال نے اسے ابلیسی سیاست کہا: بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تو نے، بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس! آج پوری دنیا انہی کے شکنجے میں سسک رہی ہے۔ خواہ آمادۂ بغاوت ہانگ کانگ ہو یا بھارتی عوام۔ اس نظام تلے پاکستانی عوام تو ریوڑ بنے ہانکے جا رہے ہیں، نت نئے راز ہائے دروں خانہ کھلتے چلے جانے کے باوجود۔ امید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے، یہ خاکباز ہیں رکھتے ہیں خاک سے پیوند! شاہین کی بلند پروازی کی توقع مٹی کے ان مادھوؤں سے کیا رکھنی! ایک المیہ اگر بوٹ نے دکھایا تو دوسری جانب اپنی سچائی کی دلیل بنا کر قرآن پاک اس ایوان میں اٹھا لائے، جو قدم قدم احکام قرآنی سے متصادم اقدامات کرتے لرزتا نہیں ہے۔ یہ تعزیرات پاکستان کی کتاب تو نہیں ہے جسے دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔ رب کائنات کا کلام جو عظمت کا حامل ہے: ان مکرم، بلند مرتبہ، پاکیزہ صحیفوں میں درج ہے معزز اور نیک کاتبوں (فرشتوں) کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ (عبس: 13-16) عمل کی دنیا میں حرمتِ سود کا حکم عدالتوں میں معلق رکھ کر اللہ رسول کے اعلانِ جنگ (بقرۃ:279) کی پرواہ نہ کرنے والے، اپنی بے گناہی پر دلیل کتابِ مقدس کو بنائیں؟ جواباً اتنی ہی بے باکی سے حکومتی وزیر کا بھی قرآن پاک اٹھا لینا محل نظر ہے۔ بانیانِ پاکستان کا قرآن بارے مؤقف دیکھئے اور آج ان کے خوابوں کی بھیانک تعبیر ملاحظہ ہو! اے بہ تقلیدش اسیر آزاد شو، دامنِ قرآں بگیر آزاد شو۔ یعنی مسلمانوں کی آزادی و خوشحالی کا واحد راستہ مغربی سیاسی نظاموں کی تقلید (میں پشت بہ منزل بربادی کی راہوں کا خستہ حال مسافر بننے) کی نسبت قرآن کا دامن تھام کر قرآنی طرزِ حکمرانی (خلافتِ راشدہ) اختیارکرنا ہے۔ ذرا آج کی حکومتیں سیاسی جماعتیں ملفوظاتِ اقبال کی روشنی میں اپنی حالتِ زار دیکھیں۔ ’حکومت کا سب سے بڑا فرض افراد کے اخلاق کی حفاظت ہے۔ لیکن اس اہم ترین فرض کو دنیائے جدید تسلیم ہی نہیں کرتی۔ حکومتیں محض لوگوں کے سیاسی خیالات و رجحانات سے تعلق رکھتی ہیں‘۔ سو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ گویا بدزبانی اور بد اخلاقی کے ریکارڈ اعلیٰ سطح پر قائم کیے جا رہے

ہیں۔ سود سے چمٹی حکومتیں اقبال کو سنیں: ’میں مسلمان ہوں، یہ میرا عقیدہ ہے، اور یہ عقیدہ دلائل و براہین پر مبنی ہے کہ اقتصادی امراض کا بہترین علاج قرآن نے تجویز کیا ہے‘۔ اب بانیٔ پاکستان محمد علی جناحؒ کے ٹھیٹھ اسلامی عقائد و تصورات بھی ملاحظہ ہوں۔ (نوزائیدہ دانشور جنہیں سیکولر ثابت کرنے کو دور دور کی کوڑیاں لا کر کالموں کے پیٹ بھرتے ہیں) 1943ء میں، اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے معروف خیالات کا اظہار کیا۔ ’وہ کونسا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں۔ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے،

وہ کونسا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے؟ وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے‘۔ پھر فرمایا: ’مجھے امید ہے کہ ہم جوں جوں آگے بڑھتے جائیں گے، قرآن مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا، ایک کتاب، ایک رسول، ایک امت!‘

اس آئینے میں آج کے پاکستان میں یہ رشتہ پارہ پارہ ، چٹان ریزہ ریزہ اور کھویا گیا لنگر ملاحظہ فرما لیجیے۔ تمام مسلمان جسد واحد اور امت کی کشتی؟ مشرف کے تخلیق کردہ نئے پاکستان کا یہ (مشرف تا عمران) چوتھا ایڈیشن ہے جس میں امت کھو گئی۔ شام، فلسطین کے مظلوموں پر دو سطری اظہار ہمدردی و یک جہتی کی کون توقع کرے جب پاکستان اپنی شہ رگ کشمیر پر بھی زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ قرآن کریم ان پڑھ دیہاتیوں کے باہمی جھگڑوں میں اٹھایا جاتا ہے اپنے تقدس و عظمت کی بنا پر ۔ اور ان کے ہاں اس کا خوف بھی ہوتا ہے۔ مگر ممبران پارلیمنٹ، ملکِ خداداد پاکستان کے عوام کے نمائندوں سے ہم خواندہ ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ وہ تو ترجمۂ قرآن، مذکورہ عظمت قرآن، (سورۃ عبس) میں متکبر سرداروں کی ہٹ دھرمی اور حق سے بے نیازی پر ان کے رویے پر ملامت سے خوب واقف ہوں گے۔ باہم سیاسی جھگڑوں میں وہ اسے لانے سے گریز کریں گے۔

سیرت و کردار کی سچائی قرآن اٹھانے، قسمیں کھانے کی مرہونِ منت نہیں ہوا کرتی۔ سیاسی اکھاڑے اور مناصب پر لائے جانے والے افراد قابل رشک منظر نہیں دکھا رہے۔ باب الفتن کی حدیث سامنے آجاتی ہے۔ ’اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب صرف ناکارہ (کچرا، بھوسہ) لوگ باقی رہ جائیں گے۔ (یعنی جوہرِ آدمیت سے خالی، جیسے بھوسہ صلاحیت سے خالی ہوتا ہے)۔ معاملات معاہدات میں مکرو فریب، دغا بازی، جنگ و پیکاران کا مشغلہ ہو گا۔ بدکردار، باہم لڑنے بھڑنے والے لوگ باقی رہ جائیں گے‘۔ (بخاری) جن مناصب پر بٹھائے گئے ہیں نظم و نسق چلانے، عوام کو سہولت، راحت دینے کے لیے وہ کس حال میں ہیں؟ پنجاب میں 90 ہزار لوگ سگ گزیدگی (کتے کے کاٹے) کا شکار ہوئے۔ صوبے بھر میں آوارہ کتوں کا راج ہے۔ دارالحکومت تک تو محفوظ نہیں۔ (جو باقی ہیں وہ مردم گزیدہ ہیں) یہ کہانی الگ ہے کہ کتے کے کاٹے کے تریاق کی بھی عدم دستیابی المیۂ مزید ہے۔ نیز جعلی ادویات اور جعلی ٹیکوں کا دور دورہ ہے۔ اس دوران یہ بھی تو ہوا کہ مشرف کو سزا سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم ہو گئی۔ ہونا ہی تھی! اتنے بھاری بوجھ تلے منہدم ہی ہونا مقدر تھا۔ مشرف نے فرمایا: ہائی کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔ ویسے یہ کس آئین اور قانون کا تذکرہ ہے؟ جیب کی گھڑی ، ہاتھ کی چھڑی؟ کس میں جرأت ہے کہ پوچھے ہم سے معطلی کا جواز…!

صدر مملکت نے یہ بھی بیان فرمایا، نوجوانوں کے لیے ہنر مند پاکستان پروگرام کے ضمن میں کہ: ترقی یافتہ ممالک تیزی سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر منتقل ہو رہے ہیں۔ AI مستقبل ہے۔ نوجوان جدید طریقے اپنائیں‘۔ ہمارے ہاں پہلے ہی ترقی کی یہ منزلیں سر ہو چکیں کیونکہ ہماری ذہانتیں مصنوعی ہیں (حقیقی نہیں)۔ میز پر دھرے فوجی بوٹ سے پوچھ لیں! مغرب میں شرحِ پیدائش تیزی سے گر رہی ہے۔ نوجوان منشیات، گن کلچر، ٹوٹے خاندانی نظام کے ہاتھوں نفسیاتی مریض ہو چکے سو مردانِ کارکی کمی روبوٹ پوری کریں گے۔ ہم پہلے ہی انسانی روبوٹ بن چکے غلامی کے ہاتھوں۔ اغیار کے ہاتھوں پروگرام ہوئے، حریتِ فکر سے عاری، اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی سے محروم۔ مانگے تانگے کی مصنوعی ذہانت لیے فدوی روبوٹ ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی سچ دھج کے ظواہر پر مرنے مٹنے سے پہلے قوم کو صاف پانی، پیٹ میں روٹی (لنگر کی بجائے!) شیلٹر کی جگہ اپنی چھت، تعلیم اور لباس تو فراہم کریں! رہی صفائی ستھرائی تو:

سنا ہے صفائی تو ہے نصف ایماں

تو قومی خزانے کی کر لے صفائی

شہادت ہو مطلوب جس آدمی کو

وہ اپنی حکومت سے کر لے لڑائی


ای پیپر