ایران امریکہ تنازعہ
18 جنوری 2020 2020-01-18

ایک نظر امریکہ ایران کی ممکنہ جنگ کی وجوہات پر ڈال لیتے ہیں۔بظاہر امریکہ کی یہ مہم جوئی ممکنہ امریکی انتخابات میں فتح حاصل کرنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی عوام اتنی معصوم ہے جو ٹرمپ کے اس خونی کھیل سے متاثر ہو جائے گی۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ہمیں امریکی انتخابات پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمان مخالف جذبات کو ہوا دے کر اور رنگ و نسل کو بنیاد بنا کر امریکی الیکشن میں فتح حاصل کی تھی۔ دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کیا کہتی ہے امریکیوں کی اکثریت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ صرف اسی بات کو درست مانتے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں بتایا ہے۔ ایرانی چاہے کچھ بھی دعوے کریں لیکن امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کو حتمی قرار دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ہندوستانی الیکشن سے پہلے بھارتی حکومت کا پاکستان میں مبینہ سرجیکل سٹرائیک، جیش محمد کے کیمپ کی تباہی،مجاہدین پر حملے اور پاکستانی ایف سولہ مار گرانے کے دعوے کو سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تمام دعوے ہر بین الاقوامی کسوٹی پر غلط ثابت ہوئے لیکن ہندوستانی عوام اسے درست مانتی ہے۔ ان کے لیے وہی موقف اور فیصلہ درست دکھائی دیتا ہے جو نریندر مودی کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی جنگی جہازوں کی تباہی کے بعد بھی نریندر مودی الیکشن جیت گئے ہیں۔ آج کے دور میں سچ کیا ہے اس کی اہمیت نہیں ہے۔ عوام جو سننا چاہتے ہیں وہی سچ ہے۔ امریکی عوام امریکہ کی فتح سننا چاہتے ہیں۔ مقصد پورا ہو رہا ہے۔ امریکہ اس سے زیادہ کاروائی کرتا نظر نہیں آرہا کیونکہ بظاہر جس الیکشن مدعے کی اسے ضرورت تھی وہ حاصل ہو چکا ہے۔

دوسری طرف ایران کی جانب سے جس فوجی طاقت کے استعمال اور امریکہ کو نقصان پہنچانے کی توقع کی جارہی تھی وہ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ ایران بھی بظاہر اپنی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایرانی عوام بھی حقائق کی بجائے ایرانی سپریم لیڈر کی بات پر یقین

کرتے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ ایرانی حملے سے اسی امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران نے بدلہ لے لیا ہے۔ جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ اس حملے میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا ہے۔اب کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ممکن ہے آنے والے چند مہینوں میں حقائق عوام کے سامنے آئیں۔ لیکن عوام کے لیے حقائق کی بجائے شخصیات کے بیان اہمیت رکھتے ہیں۔عوام شاید خود کو بیوقوف بنانا چاہتی ہے وہ چاہے امریکہ کی ہو یا ایران کی ہو۔

اب آئیے ایک نظر ایرانی حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے یوکرائنی طیارے پر ڈالتے ہیں۔ آٹھ جنوری دو ہزار بیس کو یوکرین انٹرنیشنل ائیر لائن کے طیارے نے تہران انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے اڑان بھری۔ ایرانی فوج نے اس طیارے پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں ایک سو چھیتر افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان میں ستاون کینیڈین، بیاسی ایرانی اور گیارہ یوکرائینی باشندے تھے۔ امریکہ سمیت تمام عالمی طاقتوں نے ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ابتدا میں ایران انکار کرتا رہا لیکن بعدازاں اسے انسانی غلطی تسلیم کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا یقین بھی دلوا دیا۔ یوکرین وزیراعظم نے ہلاک ہونے والے ایک سو چھیتر انسانوں کے خاندانوں کو مالی حرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک اور واقع ملاحظہ کریں۔ ایران انقلاب کے بعد 1980 میں ایران عراق جنگ شروع ہوئی۔ دنیا کو تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔ امریکی صنعت کے لیے یہ مشکل وقت تھا۔ امریکہ نے اپنے بحری جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل کیے۔ ان میں ونسن نامی بحری جہاز بھی شامل تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ امریکی بحریہ کا جدید ترین بحری جہاز تھا۔اس کشیدگی کے دوران ایران کا مسافر طیارہ ائیر فلائیٹ چھ سو پچپن بندر عباس ائیرپورٹ سے دبئی کے لیے روانہ ہوا۔ اس طیارے میں دو سو چوہتر مسافروں سمیت سولہ عملے کے لوگ بھی موجود تھے۔ جب یہ طیارہ وینسن بحری جہاز کی حدود سے گزرا تو وینسن نے مسافر طیارے کو تباہ کر دیا۔ طیارے میں سوار دو سو نوے افراد ہلاک ہو گئے۔امریکہ نے جواز پیش کیا کہ یہ ایرانی جنگی طیارہ تھا۔ اسے سگنل بھیجے گئے لیکن کوئی جواب موصول نہ ہونے پر طیارے کو تباہ کر دیا گیا۔ بعدازااں تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ جنگی طیارہ نہیں بلکہ مسافر طیارہ تھا۔ جو سگنل مسافر طیارے کو بھیجے گئے، وہ دراصل جنگی طیاروں کو بھیجے جاتے ہیں۔ مسافر طیارے ان سگنلز کو حاصل کرنے اور اس کا جواب دینے کے صلاحیت نہیں رکھتے۔

ایران نے اسے امریکی سازش اور سوچا سمجھا حملہ قرار دیا۔ ایران کی مسلسل کوششوں کے باعث چار سال بعد حقیقت عوام کے سامنے آ گئی۔ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے امریکہ کو قصوروار ٹھہرایا۔ ادارے نے رپورٹ دی کہ بحری جہاز پر ایسا کوئی سامان نصب ہی نہیں تھا جس سے سویلین جہاز کی فریکوئنسی موصول ہو سکے۔ 1989 میں عراق ایران جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا اور مسافر طیارے کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ کیس چلتا رہا۔ 1994 میں جب امریکہ نے محسوس کیا کہ فیصلہ اس کے خلاف آئے گا تو اس نے ایران کے ساتھ صلح کا ہاتھ آگے بڑھایا۔اس نے عالمی عدالت سے درخواست کی کہ ہم یہ معاملہ عدالت سے باہر حل کرنا چاہتے ہیں۔ ایران نے بھی رضامندی ظاہر کی۔ امریکہ نے تین جولائی انیس سو اٹھاسی کے اس سانحے کو سرکاری سطح پر اپنی غلطی تسلیم کیا۔ اسے سنگین انسانی سانحہ قرار دیا۔امریکہ نے ہرجانے کے طور پر اکسٹھ ملین ڈالرز جرمانہ ادا کیا۔ جو کہ مرنے والوں کے لواحقین میں تقسیم کیے گئے۔ امریکہ آج تک اس سانحے پر افسوس کا اظہار کرتا رہا ہے۔ یہ سانحہ آج بھی امریکی افواج کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔ ایران ہرجانے کی وصولی کو اپنی فتح قرار دیتا ہے۔

آپ ان دونوں واقعات کو سامنے رکھیں اور ان کا آپس میں موازنہ کریں تو آپ ممکنہ طور پر اس نتیجے پر پہنچ سکیں گے کہ دونوں واقعات صرف حادثہ نہیں ہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کاروائی ہے۔ آج عالمی امن کے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تا کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہو سکیں اور معصوم انسانوں کی جان کے ضیاع کو روکا جا سکے۔


ای پیپر